Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1473

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے

4 hadiths in this chapter

8262

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8262

Sahih

(۸۲۶۲)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَسْجِدَ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ مَسْجِدَ قُبَائَ یُصَلِّی فِیہِ فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ رِجَالُ الْأَنْصَارِ یُسَلِّمُونَ عَلَیْہِ وَدَخَلَ مَعَہُ صُہَیْبٌ فَسَأَلْتُ صُہَیْبًا کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَیْہِ؟ قَالَ: یُشِیرُ بِیَدِہِ، قَالَ سُفْیَانُ: قُلْتُ لِرَجُلٍ: سَلْ زَیْدًا أَسَمِعْتَہُ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ وَہِبْتُ أَنَا أَنْ أَسْأَلَہُ فَقَالَ یَا أَبَا أُسَامَۃَ سَمِعْتَہُ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَیْتُہُ فَکَلَّمْتُہُ۔ (مسند احمد: ۴۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد قباء میں داخل ہوئے، اس میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر انصاری لوگوں میں سے کچھ آدمی داخل ہوئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، میں نے سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جب سلام کہا جاتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، سفیان کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے کہا: زید سے پوچھو کہ کیا تم نے عبداللہ بن وہب سے سنا ہے؟ میں نے کہا: میں ان سے سوال کرتا ہوں، انھوں نے کہا: ا ے ابو اسامہ ! کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے انہیں دیکھا ہے اور ان سے کلام کیا ہے۔

8263

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8263

Sahih

(۸۲۶۳)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ صُہَیْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّہُ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَہُوَ یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَیَّ إِشَارَۃً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ إِشَارَۃً بِإِصْبَعِہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ صحابی ٔ رسول سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کر کے مجھے جواب دیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انھوں نے انگلی سے اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔

8264

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8264

Sahih

(۸۲۶۴)۔عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ السَّلَامَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔

8265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8265

Sahih

(۸۲۶۵)۔عَنِ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ انْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَقَدْ أَہْرَاقَ الْمَائَ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ، فَقُلْتُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ فَقُلْتُ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَمْشِی وَأَنَا خَلْفَہُ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی رَحْلِہِ وَدَخَلْتُ أَنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْتُ کَئِیبًا حَزِینًا فَخَرَجَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَدْ تَطَہَّرَ فَقَالَ: ((عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا أُخْبِرُکَ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَابِرٍ بِخَیْرِ سُورَۃٍ فِی الْقُرْآنِ؟)) قُلْتُ: بَلَی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: اِقْرَأْ اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ حَتَّی تَخْتِمَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو)، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیدل چل دیئے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میں مسجد میں داخل ہو ا اور غمگین ہو کر بیٹھ رہا، اتنے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طہارت حاصل کر لی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تینوں سلاموں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ، َعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ اور عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ ! میں تمہیں قرآن پاک کی بہترین سورت بتاؤں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بتائیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ پڑھو، یہاں تک کہ اس کو ختم کر دو۔