Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1471

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان

3 hadiths in this chapter

8256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8256

Sahih

(۸۲۵۶)۔عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فِی الْمَسْجِدِ فَجِئْنَا نَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا رَکَعَ النَّاسُ رَکَعَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَکَعْنَا مَعَہُ وَنَحْنُ نَمْشِی فَمَرَّ رَجُلٌ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَہُوَ رَاکِعٌ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلَہُ بَعْضُ الْقَوْم: لِمَ قُلْتَ حِینَ سَلَّمَ عَلَیْکَ الرَّجُلُ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ إِذَا کَانَتْ التَّحِیَّۃُ عَلَی الْمَعْرِفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسود بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد میں نماز کھڑی ہوچکی تھی اور ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے آرہے تھے، جب لوگوں نے رکوع کیا تو سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رکوع کیا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا، جبکہ ہم چل بھی رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی گزرا اور اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! السلام علیکم، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رکوع کی حالت میں ہی کہا: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ (اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے سچ کہا ہے)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے کہا: جب آپ پر ایک آدمی نے سلام کہا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ معرفت کی بنا پر سلام ہو گا۔

8257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8257

Sahih

(۸۲۵۷)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) عَنْ سَیَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ جُلُوسًا فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: قَدْ أُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَیْنَا النَّاسَ رُکُوعًا فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَکَبَّرَ وَرَکَعَ وَرَکَعْنَا ثُمَّ مَشَیْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِی صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ یُسْرِعُ فَقَالَ: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، فَلَمَّا صَلَّیْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ إِلٰی أَہْلِہِ جَلَسْنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّہُ عَلَی الرَّجُلِ صَدَقَ اللّٰہُ وَبَلَّغَتْ رُسُلُہُ أَیُّکُمْ یَسْأَلُہُ؟ فَقَالَ طَارِقٌ: أَنَا أَسْأَلُہُ، فَسَأَلَہُ حِینَ خَرَجَ فَذَکَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ تَسْلِیمَ الْخَاصَّۃِ وَفُشُوَّ التِّجَارَۃِ حَتّٰی تُعِینَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَہَا عَلَی التِّجَارَۃِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَہَادَۃَ الزُّورِ وَکِتْمَانَ شَہَادَۃِ الْحَقِّ وَظُہُورَ الْقَلَمِ۔ (مسند احمد: ۳۸۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں : ہم سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہا: اقامت کہی جا چکی ہے، وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ جب ہم مسجد میں داخل ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں۔ انھوں نے اَللّٰہُ اَکْبَر کہا اور (صف تک پہنچنے سے پہلے ہی) رکوع کیا، ہم نے بھی رکوع کیا، پھر ہم رکوع کی حالت میں چلے(اور صف میں کھڑے ہو گئے) اورجیسے انھوں نے کیا ہم کرتے رہے۔ ایک آدمی جلدی میں گزرا اور کہا: ابو عبد الرحمن! السلام علیکم۔ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی اور واپس آ گئے، وہ اپنے اہل کے پاس چلے گئے۔ ہم بیٹھ گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے: آیا تم لوگوں نے سنا ہے کہ انھوں نے اُس آدمی کو جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسولوں نے (اس کا پیغام) پہنچا دیا؟ تم میں سے کون ہے جو ان سے ان کے کئے کے بارے میں سوال کرے؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا۔ جب وہ باہر آئے تو انھوں نے سوال کیا۔ جوابًا انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے مخصوص لوگوں کو سلام کہا جائے گا اور تجارت عام ہو جائے گی ، حتی کہ بیوی تجارتی امور میں اپنے خاوند کی مدد کرے گی، نیز قطع رحمی، جھوٹی گواہی، سچی شہادت کو چھپانا اور لکھائی پڑھائی (بھی عام ہو جائے گی)۔

8258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8258

Sahih

(۸۲۵۸)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ مِنْ اِشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَی الرَّجُلِ لَا یُسَلِّمُ عَلَیْہِ اِلَّا لِلْمَعْرِفَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو سلام اس کی معرفت کی بنا پر ہو گا۔