Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 141 · Chapter 1468

آداب کی کتاب

چھینک، اس کے آداب اور چھینکنے والے کی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

8236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8236

Sahih

(۸۲۳۶)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اِذَا عَطَسَ وَضَعَ ثَوْبَہٗ اَوْیَدَہٗ عَلٰی جَبْہَتِہٖ وَخَفَضَ اَوْ غَضَّ مِنْ صَوْتِہٖ۔ (مسند احمد: ۹۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھینکتے تو اپنا کپڑا یا اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیتے اور آواز کو پست کر لیتے تھے۔

8237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8237

Sahih

(۸۲۳۷)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم اَحَدُھُمَا اَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِیْفُ فَلَمْ یَحْمَدِ اللّٰہَ، فَلَمْ یُشَمِّتْہُ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللّٰہَ فَشَمَّتَہُ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم، قَالَ: فَقَالَ الشَّرِیْفُ: عَطَسْتُ عِنْدَکَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِیْ، وَعَطَسَ ھٰذَا عِنْدَکَ فَشَمَّتَّہٗ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((اِنَّ ھٰذَا ذَکَرَ اللّٰہَ فَذَکَرْتُہُ، وَاِنَّکَ نَسِیْتَ اللّٰہَ فَنَسِیْتُکَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا،ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شرف والا تھا، شرافت والے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہا، سو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس کی چھینک کاجواب نہ دیا اور دوسرے نے چھینکا اوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس کا جواب دیا، اس شرافت والے نے کہا: میں نے بھی آپ کے قریب چھینکا ہے، لیکن آپ نے میرا جواب نہیں دیا اور اس نے چھینکا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا جواب دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے چھینک کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، پس میں نے بھی اس کا ذکر کیا اور تو اللہ تعالیٰ کو بھول گیا، پس میں نے بھی تجھے بھلا دیا۔

8238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8238

Sahih

(۸۲۳۸)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) یَرْفَعُہُ: ((اِذَا عَطَسَ اَحَدُکُمْ فَلْیَضَعْ یَدَہٗ عَلٰی فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا کرے۔

8239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8239

Sahih

(۸۲۳۹)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُحِبُّ الْعَطَاسَ وَیَکْرَہُ التَّثَاؤُبَ، فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ فَحَقٌّ عَلٰی مَنْ سَمِعَہٗ اَنْ یَقُوْلَ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے، تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے۔

8240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8240

Sahih

(۸۲۴۰)۔عَن أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَبِی مُوسَی (الْاَشْعَرِیِّ یَعْنِیْ وَالِدَہٗ) فِی بَیْتِ ابْنَۃِ أُمِّ الْفَضْلِ فَعَطَسْتُ وَلَمْ یُشَمِّتْنِی وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَہَا فَرَجَعْتُ إِلَی أُمِّی فَأَخْبَرْتُہَا فَلَمَّا جَائَہَا قَالَتْ عَطَسَ ابْنِی عِنْدَکَ فَلَمْ تُشَمِّتْہُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّہَا فَقَالَ: إِنَّ ابْنَکِ عَطَسَ فَلَمْ یَحْمَدِ اللّٰہَ تَعَالٰی، فَلَمْ أُشَمِّتْہُ وَإِنَّہَا عَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللّٰہَ تَعَالٰی فَشَمَّتُّہَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَحَمِدَ اللّٰہَ فَشَمِّتُوہُ وَإِنْ لَمْ یَحْمَدِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تُشَمِّتُوہُ۔)) فَقَالَتْ أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، وہ ام فضل کی بیٹی ام کلثوم کے گھر میں تھے (یہ ان کی بیوی تھی)، میں نے چھینکا تو والد صاحب نے میرا کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو انھوں نے ان کا جواب دیا، جب میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا، جب میرے والد میری ماں کے پاس آئے تو میری والدہ نے کہا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تم نے جواب نہیں دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو تم نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، تمہارے بیٹے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا، اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا اور اس خاتون نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، تو میں نے بھی اس کا جواب دیا، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے تو پھر تم جواب نہ دو۔ انھوں نے کہا: پھر تو تم نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔