Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 141 · Chapter 1467

آداب کی کتاب

جمائی، چھینک اور ان کے آداب کے ابواب جمائی اور ان کے آداب کا بیان

4 hadiths in this chapter

8232

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8232

Sahih

(۸۲۳۲)۔عَنِ ابْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اِذَا تَثَائَ بَ اَحَدُکُمْ فَلْیَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ فِیْ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو وہ حسب ِ استطاعت اس کو روکے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

8233

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8233

Sahih

(۸۲۳۳)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذَا تَثَائَ بَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلَاۃِ، فَلْیَضَعْ یَدَہُ عَلٰی فِیْہِ، فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

8234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8234

Sahih

(۸۲۳۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُحِبُّ الْعُطَاسَ وَیَکْرَہُ التَّثَاؤُبَ فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ فَحَقٌّ عَلٰی مَنْ سَمِعَہُ أَنْ یَقُولَ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ وَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْیَرُدَّہُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا یَقُلْ آہْ آہْ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا فَتَحَ فَاہُ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَضْحَکُ مِنْہُ أَوْ بِہِ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ فِی حَدِیثِہِ ((وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا ہُوَ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۹۵۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو آدمی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے اور جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اسے مقدور بھر روکے اور آہ آہ کی آواز نہ نکالے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی منہ کھولتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔ حجاج کے روایت میں ہے : رہا مسئلہ جمائی کا، تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔

8235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8235

Sahih

(۸۲۳۵)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّ التَّثَاؤُبَ مِنَ الشَّیْطَانِ،فَاِذَا تَثَاؤَبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو اس کو مقدور بھر روکے۔