Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 141 · Chapter 1466

آداب کی کتاب

قزع کی کراہت اور مکمل سر منڈوانے کی رخصت کا بیان

3 hadiths in this chapter

8229

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8229

Sahih

(۸۲۲۹)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْقَزَعِ، قُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: اَنْ یُحْلَقَ رَاْسُ الصَّبِیِّ، وَیُتْرَکُ بَعْضُہٗ۔ (مسند احمد: ۵۱۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قزع سے منع فرمایاہے، میں نے کہا: قزع سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کا بعض حصہ منڈوایا جائے اور بعض حصہ رہنے دیا جائے۔

8230

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8230

Sahih

(۸۲۳۰)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَیْضًا اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم رَاٰی صَبِیًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِہٖ وَ تُرِکَ بَعْضُہٗ، فَنَہٰی عَنْ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((احْلِقُوْا کُلَّہُ اَوِ اتْرُکُوْا کُلَّہٗ)) (مسند احمد: ۵۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔

8231

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8231

Sahih

(۸۲۳۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَمْہَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ یَأْتِیَہُمْ ثُمَّ أَتَاہُمْ فَقَالَ: ((لَا تَبْکُوا عَلٰی أَخِی بَعْدَ الْیَوْمِ أَوْ غَدٍ، ادْعُوا لِی ابْنَیْ أَخِی۔)) قَالَ: فَجِیئَ بِنَا کَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ((ادْعُوا إِلَیَّ الْحَلَّاقَ۔)) فَجِیئَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُئُ وْسَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے موقع پر) تین دن تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئے اور ہم سے فرمایا: آج یا کل کے بعد میرے بھائی جعفر پر نہ رونا، میرے بھتیجوں کو بلاؤ۔ پس ہمیں لایا گیا، ایسے لگ رہا تھا کہ ہم چوزے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حجام کو بلاؤ۔ پس حجام کو لایا گیا، پھر اس نے ہمارے سرمونڈ دئیے۔