Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1455

لباس اور زینت کے مسائل

مردوں کے لئے مکروہ خوشبو کا بیان

7 hadiths in this chapter

8161

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8161

Zaeef

(۸۱۶۱)۔عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَکَّۃَ جَعَلَ أَہْلُ مَکَّۃَ یَأْتُونَہُ بِصِبْیَانِہِمْ فَیَمْسَحُ عَلٰی رُئُوسِہِمْ وَیَدْعُو لَہُمْ فَجِیئَ بِی إِلَیْہِ وَإِنِّی مُطَیَّبٌ بِالْخَلُوقِ وَلَمْ یَمْسَحْ عَلٰی رَأْسِی وَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ ذٰلِکَ إِلَّا أَنَّ أُمِّی خَلَّقَتْنِی بِالْخَلُوقِ فَلَمْ یَمَسَّنِی مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ولید بن عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ کے پاس لانا شروع ہوئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لئے دعا فرماتے تھے، مجھے بھی لایا گیا، جبکہ مجھے خلوق خوشبو لگائی گئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر پر ہاتھ نہ پھیرا، وجہ یہ تھی کہ میری ماں نے مجھے خلوق خوشبو لگارکھی تھی، اس لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے اور مجھے ہاتھ نہ لگایا۔

8162

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8162

Sahih

(۸۱۶۲)۔عَنْ أَبِی حَبِیبَۃَ عَنْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَلِی حَاجَۃٌ فَرَأٰی عَلَیَّ خَلُوقًا، فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَاغْسِلْہُ۔)) فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((اذْہَبْ فَاغْسِلْہُ)) فَذَہَبْتُ فَوَقَعْتُ فِی بِئْرٍ فَأَخَذْتُ مِشْقَۃً فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُہُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَیْہِ، فَقَالَ ((حَاجَتُکَ)) (مسند احمد: ۱۷۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حبیبہ اس آدمی سے بیان کرتے ہیں جس نے چار سال صحابیت کا شرف حاصل کیا ، وہ کہتے ہیں: مجھے ایک کام تھا، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ میں نے خلوق خوشبو لگارکھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اس کو دھو ڈالو۔ پس میں نے اس کو دھویا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: جاؤ اور اس کو دھو کر آؤ۔ پس میں اب کی بار گیا اور ایک کنوئیں میں اترا، السی سے بنی ہوئی ایک چیز لی اور جہاں جہاں خلوق لگی تھی، میں نے اس کے ساتھ اسے صاف کیا اور پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لوٹا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اپنی ضرورت بیان کرو۔

8163

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8163

Zaeef

(۸۱۶۳)۔عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاۃَ رَجُلٍ فِیْ جَسَدِہٖ شَیْئٌ مِنَ الْخَلُوْقِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز قبول نہیں کرتے، جس نے اپنے جسم پر خلوق لگائی ہوئی ہو۔

8164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8164

Zaeef

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم چھوٹے تھے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے موقع پر ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے اور ہمارے لئے برکت کی دعاء کرتے تھے، ایک دن آپ تشریف لائے تو میرے دائیں بائیں جو بچے تھے، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور مجھے چھوڑ دیا، وجہ یہ تھی کہ میں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا، اس نے مجھے زرد رنگ لگا دیا تھا، مجھ سے کسی نے کہا: تیرے چہرے کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ تیرے چہرے پر یہ رنگ لگا ہوا ہے، پس میں ایک کنویں کیا طرف گیا، اس میں اترا اور غسل کیا، پھر میں دوسری نماز میں حاضر ہواتو میرے پاس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گزرے اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعاء کی اور فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)

8164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8164

Sahih

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا یعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے غسل کیا اور خلوق خوشبو لگا لی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے، جب میرے قریب آئے تو آپ نے خلوق سے اپنے ہاتھ کو نہ لگنے دیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے یعلی! یہ خلوق کیوں لگائی ہے؟ کیا شادی کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں، شادی تو نہیںکی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اسے دھو دے۔ پس میں ایک کنوئیں کی طرف گیا، اس میں اترا اور مٹی سے مل مل کر خلوق کو دھو ڈالا، یہاں تک کہ اس کے نشانات ختم ہو گئے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)

8165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8165

Zaeef

(۸۱۶۵)۔(وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ قَالَ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَبِی رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ قَالَ: ((اِغْسِلْہُ، ثُمَّ اغْسِلْہُ ثُمَّ اغْسِلْہُ ثُمَّ لَا تَعُدْ۔)) قَالَ فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سیدنا یعلی بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میرے اوپر زعفران کی زردی کا داغ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے دھو، پھر اس کو دھو، پھر اس کو دھو اور اس کے بعد یہ نہیں لگانی۔ پس میں نے اس کو دھویا اور پھر وہ دوبارہ نہیں لگائی۔

8166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8166

Sahih

(۸۱۶۶)۔(وَفِیْ لَفْظٍ: وَعَلَیَّ صُفْرَۃٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، قَالَ: ((اغْسِلْہُ ثُمَّ اغْسِلْہُ ثُمَّ اغْسِلْہُ ثُمَّ لَا تَعُدْ۔)) قَالَ: فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (ایک روایت میں ہے:) اور مجھ پر زعفران کی وجہ سے زردی کا نشان تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو دھو، پھر دھو اور پھر دھو اور دوبارہ نہیں لگانی۔ وہ کہتے ہیں:پس میں نے اس کو دھویا اور پھر دوبارہ کبھی نہیں لگائی۔