Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1450

لباس اور زینت کے مسائل

خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان

12 hadiths in this chapter

8129

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8129

Sahih

(۸۱۲۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ جَارِیَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ زُوِّجَتْ وَأَنَّہَا مَرِضَتْ فَتَمَعَّطَ شَعَرُہَا فَأَرَادُوا أَنْ یَصِلُوہُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ فَلَعَنَ الْوَاصِلَۃَ وَالْمُسْتَوْصِلَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوئی اور بیماری میں اس کے بال گر گئے، انہوں نے چاہا کہ وہ مصنوعی بال لگوا لیں، لیکن جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بال ملانے کے متعلق سوال کیا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بال ملانے والی اور بال ملانے کا مطالبہ کرنے والی پر لعنت کی۔

8130

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8130

Sahih

(۸۱۳۰)۔وَعَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

8131

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8131

Sahih

(۸۱۳۱)۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ تَزَوَّجَ اِمْرَاَۃً فَسَقَطَ شَعْرُھَا فَسَئَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ، فَلَعَنَ الْوَاصِلَۃَ وَالْمَوْصُوْلَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے ایک عورت سے شادی کی، لیکن اس کے بال گرنے لگے، پھر جب اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بال ملانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بال ملانے والی عورت اور اس عورت پر لعنت کی جس کے بال ملائے گئے۔

8132

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8132

Sahih

(۸۱۳۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ رضي الله عنها قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَلْعَنُ الْقَاشِرَۃَ وَالْمَقْشُوْرَۃَ، وَالْوَاشِمَۃَ وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ، وَالْوَاصِلَۃَ وَالْمُتَّصِلَۃَ، (زَادَتْ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَالنَّامِصَۃَ وَالْمُتَنَمِّصَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان خواتین پر لعنت کی ہے: زعفران کے ساتھ چہرہ رنگنے والی اور اس کے ساتھ رنگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی، بال ملانے والی اور ملانے کا مطالبہ کرنے والی اور چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی۔

8133

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8133

Sahih

(۸۱۳۳)۔عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ۔ قَالَ فَبَلَغَ امْرَأَۃً فِی الْبَیْتِ یُقَالُ لَہَا أُمُّ یَعْقُوبَ، فَجَائَتْ إِلَیْہِ فَقَالَتْ بَلَغَنِی أَنَّکَ قُلْتَ کَیْتَ وَکَیْتَ؟ فَقَالَ: مَا لِی لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَقَالَتْ إِنِّی لَأَقْرَأُ مَا بَیْنَ لَوْحَیْہِ فَمَا وَجَدْتُہُ، فَقَالَ: إِنْ کُنْتِ قَرَأْتِیہِ فَقَدْ وَجَدْتِیہِ أَمَا قَرَأْتِ {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} قَالَتْ بَلٰی قَالَ فَإِنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم نَہٰی عَنْہُ قَالَتْ إِنِّی لَأَظُنُّ أَہْلَکَ یَفْعَلُونَ، قَالَ: اِذْہَبِی فَانْظُرِی فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِہَا شَیْئًا فَجَائَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَیْتُ شَیْئًا قَالَ لَوْ کَانَتْ کَذٰلِکِ لَمْ تُجَامِعْنَا قَالَ وَسَمِعْتُہُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَابِسٍ یُحَدِّثُہُ عَنْ أُمِّ یَعْقُوبَ سَمِعَہُ مِنْہَا فَاخْتَرْتُ حَدِیثَ مَنْصُورٍ۔ (مسند احمد: ۴۱۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے گودنے والی، گدوانے والی، بال اکھڑوانے والی اور حسن اختیار کرنے کے لئے دانتوں میں فاصلہ بنانے والیوں، جو کہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب پر لعنت کی ہے، جب یہ بات گھر میں موجودایک ام یعقوب نامی عورت تک پہنچی تو وہ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے اس قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں، جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعنت کی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے تو دو گتوں میں موجود اول تا آخر قرآن پاک پڑھا ہے، اس میں تو ان پرلعنت کا ذکر نہیں ہے، انہوں نے کہا: اگر تم نے قرآن پاک پڑھا ہوتا تو اس میں ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ ؟ اس عورت نے کہا: جی کیوں نہیں، پڑھی ہے،پس سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کام سے منع کیا ہے۔ اس عورت نے کہا: میرا خیال ہے کہ تمہارے گھر والے بھی یہ کام کرتے ہیں۔انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھ لو، اس نے دیکھا تو اس کاخیال پورا نہ ہوا، وہاں اس طرح کی کوئی چیز نہ تھی، وہ آئی اور اس نے کہا: تمہارے گھر میں تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم ہمارے گھر یہ چیزیں دیکھتیں تو ہمارے گھر والے اور میں اکٹھے نہ رہتے۔

8134

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8134

Sahih

(۸۱۳۴)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ امْرَأَۃً جَائَتْ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ: أُنْبِئْتُ أَنَّکَ تَنْہٰی عَنِ الْوَاصِلَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: أَشَیْئٌ تَجِدُہُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ أَمْ سَمِعْتَہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم؟ فَقَالَ: أَجِدُہُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ وَعَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم، فَقَالَتْ: وَاللّٰہِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَیْنَ دَفَّتَیِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُ فِیہِ الَّذِی تَقُولُ قَالَ: فَہَلْ وَجَدْتِ فِیہِ {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} قَالَتْ نَعَمْ(وَفِیْ آخِرِہٖ) قَالَ مَا حَفِظْتُ إِذًا وَصِیَّۃَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ {وَمَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلٰی مَا أَنْہَاکُمْ عَنْہُ}۔ (مسند احمد: ۳۹۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور اس نے کہا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ بال ملانے والی کو روکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، روکتا ہوں! اس نے کہا: کیا تم اس چیز کو اللہ تعالیٰٰ کی کتاب میں پاتے ہو یا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا:میں اللہ کی کتاب میں بھی پاتا ہوں اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بھی سنا ہے، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم!میں نے اول تا آخر قرآن پاک کو بغور پڑھا ہے، لیکن اس میں تو یہ موجود نہیں۔ انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ ؟ اس نے کہا: جی ہاں، پڑھی ہے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے: اگر میں جس چیز سے منع کرتا ہوں، خود اس کو کروں تو پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (سیدنا شعیب علیہ السلام ) کی نصیحت کو یاد نہیں رکھا، انھوں نے کہا تھا، (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلٰی مَا أَنْہَاکُمْ عَنْہُ}… میرا یہ ارادہ نہیں ہے کہ میں جس چیز سے تمہیں منع کرتا ہوں، خود اس کی مخالفت کروں۔

8135

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8135

Sahih

(۸۱۳۵)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَعَنَ الْوَاصِلَۃَ وَالْمَوْصُولَۃَ، وَالْمُتَشَبِّہِینَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَائِ بِالرِّجَالِ۔ (مسند احمد: ۳۰۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بال لگانے والی، بال لگوانے والی،عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔

8136

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8136

Sahih

(۸۱۳۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: زَجَرَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم اَنْ تَصِلَ الْمَرَاَۃُ بِرَاْسِہَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنے بالوں کے ساتھ کوئی چیز ملائے۔

8137

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8137

Zaeef

(۸۱۳۷)۔عَنْ یَزِیدَ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ لَمِیسَ أَنَّہَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ لَہَا: الْمَرْأَۃُ تَصْنَعُ الدُّہْنَ تَحَبَّبُ إِلٰی زَوْجِہَا، فَقَالَتْ: أَمِیطِی عَنْکِ تِلْکَ الَّتِی لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیْہَا، قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَۃٌ لِعَائِشَۃَ: یَا أُمَّہْ! فَقَالَتْ عَائِشَۃُ إِنِّی لَسْتُ بِأُمِّکُنَّ وَلٰکِنِّی أُخْتُکُنَّ، قَالَتْ عَائِشَۃُ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَخْلِطُ الْعِشْرِینَ بِصَلَاۃٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا کَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیا یہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت میں کمر بستہ ہوجاتے۔

8138

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8138

Sahih

(۸۱۳۸)۔عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدٍ قَالَ قَالَ مُعَاوِیَۃُ ذَاتَ یَوْمٍ إِنَّکُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِیَّ سُوئٍ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الزُّورِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الزَّورَ قَالَ وَجَائَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلٰی رَأْسِہَا خِرْقَۃٌ فَقَالَ: أَلَا وَہٰذَا الزُّورُ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: قَالَ قَتَادَۃُ: ہُوَ مَا یُکْثِرُ بِہِ النِّسَائُ أَشْعَارَہُنَّ مِنَ الْخِرَقِ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ایک دن کہا: تم نے بری عادت ایجاد کرلی ہے، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، ایک آدمی ایک لاٹھی لایا، اس کے سرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا، اس نے کہا: خبردار! یہی جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد کپڑے کے وہ ٹکڑے ہیں، جن کے ساتھ عورتیں اپنے بال زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔

8139

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8139

Sahih

(۸۱۳۹)۔عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: خَطَبَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی مِنْبَرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْبَرِ الْمَدِینَۃِ فَأَخْرَجَ کُبَّۃً مِنْ شَعَرٍ، قَالَ: مَا کُنْتُ أَرٰی أَنَّ أَحَدًا یَفْعَلُ ہٰذَا غَیْرَ الْیَہُودِ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم سَمَّاہُ الزُّورَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر یا مدینہ منورہ کے منبر پر خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھا نکالا اور اس کے بارے میں کہا: مجھے اتنا پتہ نہیں تھا کہ یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی یہ کام کرتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

8140

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8140

Sahih

(۸۱۴۰)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہُ رَأٰی مُعَاوِیَۃَ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَفِی یَدِہِ قُصَّۃٌ مِنْ شَعَرٍ قَالَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: أَیْنَ عُلَمَاؤُکُمْ یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَنْہٰی عَنْ مِثْلِ ہٰذَا وَقَالَ: ((إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِیلَ حِینَ اتَّخَذَتْ ہٰذِہِ نِسَاؤُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، جبکہ ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، انھوں نے کہا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے منع فرماتے تھے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کو اس وقت عذاب دیا گیا، جس وقت ان کی عورتوں نے اس قسم کے بالوں کے گچھے استعمال کرنا شروع کیے۔