Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8141
(۸۱۴۱)۔عَنِ ابْنِ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّ أَبَاہُ أُسَامَۃَ قَالَ کَسَانِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قُبْطِیَّۃً کَثِیفَۃً کَانَتْ مِمَّا أَہْدَاہَا دِحْیَۃُ الْکَلْبِیُّ فَکَسَوْتُہَا امْرَأَتِی فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَا لَکَ لَمْ تَلْبَسِ الْقُبْطِیَّۃَ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَسَوْتُہَا امْرَأَتِی، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مُرْہَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَہَا غِلَالَۃً إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۲۹)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی موٹی چادر دی، جو آپ کو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ہدیہ میں دی تھی، میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسامہ! کیا وجہ ہے کہ تونے وہ قبطی چادر نہیں پہنی؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ میں نے اپنی بیوی کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دے کہ اس کے نیچے شمیز پہنے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ اس کے بدن کوواضح نہ کر دے۔