Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1441

لباس اور زینت کے مسائل

کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان

8 hadiths in this chapter

8044

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8044

Sahih

(۸۰۴۴)۔عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّہْدِیَّ قَالَ جَائَنَا کِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِاٰذْرْ بِیجَانَ مَعَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم نَہٰی عَنِ الْحَرِیرِ إِلَّا ہٰکَذَا أُصْبُعَیْنِ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَمَا عَتَّمْنَا إِلَّا أَنَّہُ الْأَعْلَامُ۔ (مسند احمد: ۳۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عثمان ہندی کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جانب سے ایک تحریر آئی، ہم آذربائیجان یا شام میں سیدنا عتبہ بن فرقد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، اس تحریر میں لکھا تھا: أَمَّا بَعْدُ! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگر دو انگلیوں کے برابر اجازت ہے۔ ابو عثمان کہتے ہیں: ہم یہی سمجھے کہ (دو انگلیوں سے مراد یہی ہے کہ) ریشم کی اتنی دھاریاں یا نشانات جائز ہیں۔

8045

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8045

Sahih

(۸۰۴۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ کُنَّا مَعَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِأَشْیَائَ یُحَدِّثُہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ فِیمَا کَتَبَ إِلَیْہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((لَا یَلْبَسُ الْحَرِیرَ فِی الدُّنْیَا إِلَّا مَنْ لَیْسَ لَہُ فِی الْآخِرَۃِ مِنْہُ شَیْئٌ إِلَّا ہٰکَذَا۔)) وَقَالَ بِإِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَرَأَیْتُ أَنَّہَا أَزْرَارُ الطَّیَالِسَۃِ حِینَ رَأَیْنَا الطَّیَالِسَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عتبہ بن فرقد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی طرف کچھ احکام تحریر کر کے بھیجے، جو انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کئے تھے، اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی آدمی دنیا میں ریشم پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو، مگر دو انگلیوں کے برابر۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا، ابو عثمان کہتے ہیں: جب ہم نے طیالسی لباس دیکھا تو ہم نے اندازہ کیا کہ اسی مقدار کے طیالسی لباس کے بٹن ہیں۔

8046

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8046

Sahih

(۸۰۴۶)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثالث) عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ: جَائَ نَا کِتَابُ عُمَرَ رضي الله عنه وَنَحْنُ بِاٰذْرْ بِیجَانَ یَا عُتْبَۃَ بْنَ فَرْقَدٍ! وَإِیَّاکُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِیَّ أَہْلِ الشِّرْکِ وَلَبُوسَ الْحَرِیرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم نَہَانَا عَنْ لَبُوسِ الْحَرِیرِ وَقَالَ إِلَّا ہٰکَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم إِصْبَعَیْہِ۔ (مسند احمد: ۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) ابو عثمان کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تحریر آئی، جبکہ ہم آذر بائیجان میں تھے، اس میں لکھا ہوا تھا: اے عتبہ بن فرقد! نعمت پروری، مشرکوں کی وضع قطع اور ریشم کے لباس سے بچو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ریشم پہننے سے منع کیا ہے، مگر اتنی اجازت ہے، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر وضاحت کی۔

8047

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8047

Sahih

(۸۰۴۷)۔عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ اَنَّ عُمَرَ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ لُبْسِ الْحَرِیْرِ اِلَّا مَوْضِعَ اِصْبَعَیْنِ اَوْ ثَلَاثَۃٍ اَوْ اَرْبَعَۃٍ وَاَشَارَ بِکَفِّہٖ۔ (مسند احمد: ۳۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جابیہ مقام پر خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگردو یا تین یا چار انگلیوں کے مقدار کے برابر، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا۔

8048

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8048

Sahih

(۸۰۴۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا السَّدَی وَالْعَلَمُ فَلَا نَرٰی بِہِ بَأْسًا۔ (مسند احمد: ۱۸۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے، جو سارے کا سارا ریشم کا بنا ہوا ہو، اگر کپڑے کا بانا ریشم کا ہو یا نقش و نگار ریشم کا ہو تو ہم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔

8049

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8049

Sahih

(۸۰۴۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ مَوْلٰی اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَ: أَرْسَلَتْنِی أَسْمَائُ إِلَی ابْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ بَلَغَہَا أَنَّکَ تُحَرِّمُ أَشْیَائَ ثَلَاثَۃً، الْعَلَمَ فِی الثَّوْبِ، وَمِیثَرَۃَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ کُلِّہِ، فَقَالَ: أَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ، فَکَیْفَ بِمَنْ یَصُومُ الْأَبَدَ؟ وَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِی الثَّوْبِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَنْ لَبِسَ الْحَرِیرَ فِی الدُّنْیَا لَمْ یَلْبَسْہُ فِی الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسماء رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس بھیجا تاکہ ان سے یہ بات پوچھوں کہ آپ کی طرف سے سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہو: کپڑے میں علامات اور نقش و نگار لگانے کو، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کو اور رجب کے سارے روزے رکھنے کو۔ انہوں نے جواباً کہا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ میں سارے ماہِ رجب کے روزے نہ رکھوں، تو پھر اس کا روزہ کیسے ہوگا جو ہمیشہ کے روزے رکھے، جو تم نے کپڑے میں علامات کا ذکرکیا ہے کہ میں اس سے منع کرتا ہوں اس بارے میں گزارش ہے میں نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔

8050

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8050

Sahih

(۸۰۵۰)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَسْمَائَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَیَّ جُبَّۃً طَیَالِسَۃً عَلَیْہَا لِبْنَۃٌ شِبْرٌ مِنْ دِیبَاجٍ کِسْرَوَانِیٍّ وَفَرْجَاہَا مَکْفُوفَانِ بِہِ، قَالَتْ: ہٰذِہِ جُبَّۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یَلْبَسُہَا کَانَتْ عِنْدَ عَائِشَۃَ فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَۃُ قَبَضْتُہَا إِلَیَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُہَا لِلْمَرِیضِ مِنَّا یَسْتَشْفِی بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۴۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔

8051

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8051

Zaeef

(۸۰۵۱)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: اَخْرَجَتْ اِلَیْنَا اَسْمَائُ جُبَّۃً مَزْرُوْرَۃً بِالدِّیْبَاجِ، فَقَالَتْ: فِیْ ھٰذِہِ کَانَ یَلْقٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْعَدُوَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ہمارے سامنے ایک جبہ رکھا، جس میں ریشم کے بٹن تھے، انھوں نے کہا: یہ وہ جبہ ہے، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دشمن سے بھی ملاقات کرتے تھے، (یعنی امن و جنگ دونوں حالتوں میں پہنتے تھے۔)