Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1437

لباس اور زینت کے مسائل

عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے

8 hadiths in this chapter

8029

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8029

Sahih

(۸۰۲۹)۔عَنْ عَلِیٍّ رضي الله عنه قَالَ: اِنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم اَخَذَ حَرِیْرًا فَجَعَلَہٗ فِیْ یَمِیْنِہٖ وَاَخَذَ ذَھَبًا فَجَعَلَہٗ فِیْ شِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ھٰذَیْنِ حَرَامٌ عَلٰی ذُکُوْرِ اُمَّتِیْ)) (مسند احمد: ۹۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشم پکڑا اور اسے دائیں ہاتھ میں رکھا اور سونا پکڑا اور اسے بائیں میں رکھا اور فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں کے لئے حرام ہیں۔

8030

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8030

Sahih

(۸۰۳۰)۔عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَلْحَرِیْرُ وَالذَّھَبُ حَرَامٌ عَلٰی ذُکُوْرِ اُمَّتِیْ وَحِلٌّ لِاُنَاثِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور عورتوں کے لئے حلال ہیں۔

8031

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8031

Sahih

(۸۰۳۱)۔عَنْ عَلِیٍّ رضي الله عنه اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم اُھْدِیَتْ لَہٗ حُلَّۃٌ سِیَرَائُ، فَاَرْسَلَ بِہَا اِلَیَّ فَرُحْتُ بِہَا فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْغَضَبَ، قَالَ: فَقَسَمْتُہَا بَیْنَ نِسَائِیْ۔ (مسند احمد: ۶۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ریشمی دھاریوں والا حلے کا تحفہ دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ میری طرف بھیج دیا، جب میں وہ پہن کر گیا تو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں غصہ محسوس کیا، پس میں نے اسے اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔

8032

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8032

Sahih

(۸۰۳۲)۔(وَعَنْہٗ عَنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: اُتِیَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم بِحُلَّۃِ حَرِیْرٍ فَبَعَثَ بِہَا اِلَیَّ فَلَبِسْتُہَا فَرَاَیْتُ الْکَرَاھِیَۃَ فِیْ وَجْہِہٖ، فَاَمَرَنِیْ فَاَطَرْتُہَا خُمُرًا بَیْنَ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۹۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ریشمی پوشاک لائی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دی اور میں نے اس کو پہن لیا، لیکن میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں کراہت دیکھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں اس کے دوپٹے بنا کر اسے عورتوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔

8033

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8033

Sahih

(۸۰۳۳)۔عَنْ ھُبَیْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رضي الله عنه اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم اُھْدِیَتْ لَہٗ حُلَّۃٌ مِنْ حَرِیْرٍ فَکَسَانِیْہَا، قَالَ عَلِیٌّ رضي الله عنه: فَخَرَجْتُ فِیْھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَسْتُ اَرْضٰی لَکَ مَا اَکْرَہُ لِنَفْسِیْ۔)) قَالَ: فَاَمَرَنِیْ فَشَقَقْتُہَا بَیْنَ نِسَائِیْ خُمُرًا بَیْنَ فَاطِمَۃَ وَعَمَّتِہٖ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے ریشم کا جوڑا تحفہ دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ مجھے عطا کر دیا، لیکن جب میں ا س کو پہن کر نکلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز میں اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں، وہ تمہارے لئے بھی پسند نہیں کروں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں اس کے دوپٹے بنا کر اپنی خواتین سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور اپنی کی پھوپھی کے مابین تقسیم کر دئیے۔

8034

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8034

Sahih

(۸۰۳۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ یَقُولُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِحُلَّۃِ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِ اشْتَرَیْتَ ہٰذِہِ الْحُلَّۃَ فَتَلْبَسَہَا إِذَا قَدِمَ عَلَیْکَ وُفُودُ النَّاسِ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا یَلْبَسُ ہٰذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَہُ۔)) ثُمَّ أُتِیَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ فَبَعَثَ إِلٰی عُمَرَ بِحُلَّۃٍ وَإِلٰی عَلِیٍّ بِحُلَّۃٍ وَإِلٰی أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ بِحُلَّۃٍ، فَأَتٰی عُمَرُ بِحُلَّتِہِ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَعَثْتَ إِلَیَّ بِہٰذِہِ وَقَدْ سَمِعْتُکَ قُلْتَ فِیہَا مَا قُلْتَ؟ قَالَ: ((إِنَّمَا بَعَثْتُ بِہَا إِلَیْکَ لِتَبِیعَہَا أَوْ تُشَقِّقَہَا لِأَہْلِکَ خُمُرًا۔)) قَالَ إِسْحَاقُ فِی حَدِیثِہِ وَأَتَاہُ أُسَامَۃُ وَعَلَیْہِ الْحُلَّۃُ فَقَالَ: ((إِنِّی لَمْ أَبْعَثْ بِہَا إِلَیْکَ لِتَلْبَسَہَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِہَا إِلَیْکَ لِتَبِیعَہَا۔)) مَا أَدْرِی أَقَالَ لِأُسَامَۃَ تُشَقِّقُہَا خُمُرًا أَمْ لَا۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ فِی حَدِیثِہِ أَنَّہُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ: وَجَدَ عُمَرُ فَذَکَرَ مَعْنَاہٗ۔ (مسند احمد: ۴۹۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ریشم کا جوڑا لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ یہ جوڑا خرید لیں اور جب لوگوں کے وفد آپ کے پاس آئیں گے تو آپ یہ زیب ِ تن کیا کریں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو وہی پہن سکتا ہے، جس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ریشم کے تین جوڑے لائے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو، ایک جوڑا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اور ایک جوڑا سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھیجا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو وہ حلہ لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ جوڑا میرے پاس بھیج دیا ہے، جبکہ اس سے پہلے آپ اس کے بارے میں ناپسندید گی کااظہارکر چکے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ریشم کا یہ جوڑا تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ اسے فروخت کرلو یا پھر اس کے دوپٹے بنا کر اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دو۔ لیکن سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو وہ جوڑا زیب تن کر کے آ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے یہ تمہارے پاس اس لئے تو نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے اس لئے بھیجا تھا کہ اسے فروخت کر لو۔ راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اس کے دوپٹے بنا لو۔

8035

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8035

Sahih

(۸۰۳۵)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَأٰی حُلَّۃً سِیَرَائَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِ اشْتَرَیْتَہَا فَلَبِسْتَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَیْکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا یَلْبَسُ ہٰذِہِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہُ فِی الْآخِرَۃِ۔)) ثُمَّ جَائَتْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْہَا حُلَلٌ فَأَعْطٰی عُمَرَ مِنْہَا حُلَّۃً، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَسَوْتَنِیہَا وَقَدْ قُلْتَ فِیہَا مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی لَمْ أَکْسُکَہَا لَتَلْبَسَہَا إِنَّمَا کَسَوْتُکَہَا لِتَبِیعَہَا أَوْ لِتَکْسُوَہَا۔)) قَالَ فَکَسَاہَا عُمَرُ أَخًا لَہُ مُشْرِکًا مِنْ أُمِّہِ بِمَکَّۃَ، زَادَ فِیْ اُخْرٰی قَالَ سَالِمٌ (یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ) فَمِنْ اَجْلِ ھٰذَا الْحَدِیْثِ کَانَ ابْنُ عُمَرُ یَکْرَہُ الْعَلَمَ فِیْ الثَّوْبِ۔ (مسند احمد: ۵۷۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا دیکھا، جو مسجد کے دروازے کے نزدیک فروخت کیا جا رہا تھا، سو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے اور مختلف وفود سے ملاقات کرتے وقت پہن لیا کریں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو وہی پہن سکتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ ریشمی جوڑے لائے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی ان میں سے ایک جوڑا دے دیا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ دے رہے ہیں، جبکہ آپ نے اس کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے پہنو، میں نے تو اس لیے دیا ہے کہ اسے فروخت کردو یا (جس کے لئے پابندی نہیں ہے) اسے پہنا دو۔ تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ مکہ میں رہنے والے اپنے ایک مشرک اخیافی بھائی کو دے دیا تھا۔ سیدنا سالم کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اس حدیث کی وجہ سے ریشم سے بنی ہوئی دھاری والے کپڑے کو پہننا مکروہ جانتے تھے۔

8036

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8036

Sahih

(۸۰۳۶)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہَذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔