Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1436

لباس اور زینت کے مسائل

سونے اور ریشم کی عام حرمت کا بیان

24 hadiths in this chapter

8005

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8005

Sahih

(۸۰۰۵)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُطَوِّقَ حَبِیبَہُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْیُطَوِّقْہُ طَوْقًا مِنْ ذَہَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُسَوِّرَ حَبِیبَہُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْیُسَوِّرْہُ بِسِوَارٍ مِنْ ذَہَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُحَلِّقَ حَبِیبَہُ حَلْقَۃً مِنْ نَارٍ فَلْیُحَلِّقْہُ حَلْقَۃً مِنْ ذَہَبٍ وَلٰکِنْ عَلَیْکُمْ بِالْفِضَّۃِ الْعَبُوا بِہَا لَعِبًا الْعَبُوا بِہَا لَعِبًا۔ (مسند احمد: ۸۳۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی خواہش ہو کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کا طوق پہنائے، تو پھر وہ اسے سونے کا ہار پہنا دے،جس کی خواہش ہو کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کا کنگن پہنائے تو وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے اور جس کی آرزو ہو کہ کہ وہ اپنے پیارے کو آگ کی انگوٹھی پہنائے تو وہ اسے سونے کی انگوٹھی پہنا دے، چاندی اختیاور کرو، اس سے شوق پورا کرو، اسی سے اپنی خواہشات پوری کر لو۔

8006

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8006

Zaeef

(۸۰۰۶)۔عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُوْسَی اْلاَ شْعَرِیِّ عَنْ اَبِیْہِ، وَعَنِ ابْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

8007

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8007

Zaeef

(۸۰۰۷)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ رَجُلٍ أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَکَلَتْنَا الضَّبُعُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((غَیْرُ الضَّبُعِ عِنْدِی أَخْوَفُ عَلَیْکُمْ مِنَ الضَّبُعِ، إِنَّ الدُّنْیَا سَتُصَبُّ عَلَیْکُمْ صَبًّا فَیَا لَیْتَ أُمَّتِی لَا تَلْبَسُ الذَّہَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زید بن وھب ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمارا ستیاناس کر دیا ہے، رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس قحط سالی کے علاوہ ایک اور چیز ہے، جس کا مجھے تمہارے بارے میں بہت زیادہ ڈر ہے، وہ یہ ہے کہ تم پر دنیا کھول دی جائے گی، اے کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔

8008

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8008

Zaeef

(۸۰۰۸)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَامَ أَعْرَابِیٌّ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَکَلَتْنَا الضَّبُعُ یَعْنِی السَّنَۃَ قَالَ: ((غَیْرُ ذٰلِکَ أَخْوَفُ لِی عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا إِذَا صُبَّتْ عَلَیْکُمْ صَبًّا فَیَا لَیْتَ أُمَّتِی لَا یَلْبَسُونَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لاَ یَتَحَلَّوْنَ) الذَّھَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قحط سالی نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کا اتنا خوف نہیں، جتنا اس سے زیادہ ایک اور چیز کا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا تم پر بارش کی مانند برسے گی، کاش! میری امت سونا نہ پہنے۔

8009

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8009

Sahih

(۸۰۰۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِی عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ لَبِسَ الذَّہَبَ مِنْ أُمَّتِی فَمَاتَ وَہُوَ یَلْبَسُہُ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ذَہَبَ الْجَنَّۃِ وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِیرَ مِنْ أُمَّتِی فَمَاتَ وَہُوَ یَلْبَسُہُ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ حَرِیرَ الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۶۵۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس نے سونا پہنا اور وہ اس حالت میں مرا کہ وہ اسے پہنا کرتا ہو تواللہ تعالیٰ اس پر جنت کا سونا حرام کردے گا اور میری امت میں سے جس نے ریشم پہنا اور وہ اسی حالت میں مر گیا کہ وہ اس کو پہنا کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پرجنت کا ریشم حرام کر دے گا۔

8010

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8010

Sahih

(۸۰۱۰)۔عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اَنَّہٗ سَمِعَ (وَفِیْ لَفْظٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلَا یَلْبَسْ حَرِیْرًا وَلَا ذَھَبًا۔))، قَالَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ ھَارُوْنَ بْنِ مَعْرُوْفٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ نہ ریشم پہنے اور نہ سونا۔

8011

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8011

Sahih

(۸۰۱۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَتِہٖ اَنَّہٗ سَمِعَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ یَلْبَسُ الْحَرِیْرَ فِی الدُّنْیَا فَلَا یُکٰسَاہُ فِی الْآخِرَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ) مَنْ لَبِسَ الْحَرِیْرَ فِی الدُّنْیَا فَلَا خَلَاقَ لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۱۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے اپنے خطبے میں کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کو آخرت میں یہ نہیں پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

8012

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8012

Sahih

(۸۰۱۲)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیْرُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہٗ۔)) (مسند احمد: ۵۳۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

8013

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8013

Sahih

(۸۰۱۳)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((إِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیرَ فِی الدُّنْیَا مَنْ لَا یَرْجُو أَنْ یَلْبَسَہُ فِی الْآخِرَۃِ إِنَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہُ۔)) قَالَ الْحَسَنُ: فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ یَبْلُغُہُمْ ہٰذَا عَنْ نَبِیِّہِمْ فَیَجْعَلُونَ حَرِیرًا فِی ثِیَابِہِمْ وَفِی بُیُوتِہِمْ۔ (مسند احمد: ۸۳۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جو آخرت میں اسے پہننے کی امید نہ رکھتا ہو، بس ریشم صرف وہی پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ حسن بصری کہتے ہیں: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا، جن تک ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان پہنچ چکا ہے، لیکن پھر بھی وہ اپنے لباس اور گھروں میں ریشم استعمال کرتے ہیں۔

8014

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8014

Sahih

(۸۰۱۴)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَّبَّعُ الْحَرِیْرَ مِنَ الثِّیَابِ فَیَنْزِعُہٗ۔ (مسند احمد: ۸۲۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ریشم کے کپڑوں کی تاڑ میں رہتے اور ان کو اتروا دیتے۔

8015

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8015

Sahih

(۸۰۱۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنْ لَبِسَ الْحَرِیْرَ فِی الدُّنْیَا فَلَنْ یَلْبَسَہٗ فِی الْآخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۱۲۰۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اس کو آخرت میں ہر گز نہیں پہنے گا۔

8016

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8016

Zaeef

(۸۰۱۶)۔عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَاہِبًا أَہْدٰی لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُبَّۃَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَی الْبَیْتَ فَوَضَعَہَا وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْہُ فَأَمَرَہُ عُمَرُ أَنْ یَلْبَسَ الْجُبَّۃَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا یَصْلُحُ لِبَاسُہَا لَنَا فِی الدُّنْیَا وَیَصْلُحُ لَنَا فِی الْآخِرَۃِ وَلٰکِنْ خُذْہَا یَا عُمَرُ۔)) فَقَالَ: یَکْرَہُہَا وَآخَذُہَا فَقَالَ إِنِّی لَا آمُرُکَ أَنْ تَلْبَسَہَا وَلٰکِنْ أَرْسِلْ بِہَا إِلٰی أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِیبَ بِہَا مَالًا، فَأَرْسَلَ بِہَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَی النَّجَاشِیِّ وَکَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلٰی مَنْ فَرَّ إِلَیْہِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم۔ (مسند احمد: ۱۴۶۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک راہب نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو باریک ریشم کا جبہ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ گھر میں آئے اور اس کو اتار دیا، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا کہ ایک وفد آیا ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مشورہ دیا کہ وفد کی آمد پر وہی جبہ پہن لیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لباس دنیا میں ہمارے لئے درست نہیں، یہ ہمارے لئے آخرت میں ہوگا، لیکن اے عمر! تم یہ لے لو۔ انہوں نے عرض کی: آپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور میں لے لوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس لیے نہیں دے رہا کہ تم اس کو پہن لو، میں تو اس لئے دے رہا ہوں کہ تم اسے فارس کے علاقے کی طرف بھیج دو اور اس کے عوض مال حاصل کر لو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے نجاشی کی طرف بھیج دیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے ان صحابہ کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا، جو ہجرت کر کے اس کے پاس گئے تھے۔

8017

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8017

Sahih

(۸۰۱۷)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْمَغْرِبَ وَعَلَیْہِ فَرُّوجُ حَرِیرٍ وَہُوَ الْقَبَائُ فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَہُ نَزَعَہُ نَزْعًا عَنِیفًا وَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا لَا یَنْبَغِی لِلْمُتَّقِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ریشم کے چاک والی قباء پہن رکھی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز مکمل کر لی تو اسے بڑی سختی سے اتارا اور فرمایا: یہ پرہیز گاروں کے لائق نہیں ہے۔

8018

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8018

Sahih

(۸۰۱۸)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَنَّہٗ کَانَ یَمْنَعُ اَھْلَ الْحِلْیَۃِ وَالْحَرِیْرِ وَیَقُوْلُ: ((اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ حِلْیَۃَ الْجَنَّۃِ وَحَرِیْرہَا فَلَا تَلْبَسُوْھَا فِی الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زیورات اور ریشم والوں کو یہ چیزیں پہننے سے منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر تم جنت کا زیور اور اس کا ریشم چاہتے ہو تو انہیں دنیا میں نہ پہنا کرو۔

8019

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8019

Zaeef

(۸۰۱۹)۔عَنْ جَوَیْرِیَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنْ لَبِسَ حَرِیْرًا اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبًا مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ) اَلْبَسَہُ اللّٰہُ ثَوْبَ مَذَلَّۃٍ اَوْ ثَوْبًا مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ریشم پہنے گا، اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت دوزخ کی آگ سے لباس پہنائے گا۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اسے آگ یا ذلت کا لباس پہنائے گا۔

8020

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8020

Sahih

(۸۰۲۰)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أُکَیْدِرَ دُومَۃَ أَہْدٰی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم جُبَّۃَ سُنْدُسٍ أَوْ دِیبَاجٍ شَکَّ فِیہِ سَعِیدٌ قَبْلَ أَنْ یَنْہٰی عَنِ الْحَرِیرِ فَلَبِسَہَا فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْہَا فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَمَنَادِیلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ دومہ کے رئیس اکیدر نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو باریک ریشم یا مطلق ریشم کا جبہ دیا، یہ اس وقت کی بات ہے جب ریشم پہننا ابھی تک حرام نہ ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پہنا اور لوگ اسے دیکھ کر بہت تعجب کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کا رومال اس سے بہتر ہے۔

8021

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8021

Sahih

(۸۰۲۱)۔عَنْ ہِشَامِ بْنِ أَبِی رُقَیَّۃَ حَدَّثَہُ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَۃَ بْنَ مَخْلَدٍ، وَہُوَ قَاعِدٌ عَلَی الْمِنْبَرِ یَخْطُبُ النَّاسَ، وَہُوَ یَقُولُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَمَا لَکُمْ فِی الْعَصَبِ وَالْکَتَّانِ مَا یَکْفِیکُمْ عَنِ الْحَرِیرِ وَہٰذَا رَجُلٌ فِیکُمْ یُخْبِرُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: قُمْ یَا عُقْبَۃُ! فَقَامَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((مَنْ کَذِبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) وَأَشْہَدُ أَنِّی سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((مَنْ لَبِسَ الْحَرِیرَ فِی الدُّنْیَا حُرِمَہُ أَنْ یَلْبَسَہُ فِی الْآخِرَۃِ)) (مسند احمد: ۱۷۵۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ہشام بن ابو رقیہ کہتے ہیں: میں نے مسلمہ بن مخلد سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے پاس یمن کی چادریں اور السی کے کپڑے نہیں، کیا وہ ریشم سے کفایت نہیں کرتے،یہ تمہارے اندر ایک آدمی موجود ہے، یہ تمہیں اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان سے آگاہ کرتا ہے، اے عقبہ! ذرا کھڑے ہو جاؤ، سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔

8022

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8022

Sahih

(۸۰۲۲)۔عَنْ اَبِیْ یُوْنُسَ حَاتِمِ بْنِ مُسْلِمٍ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَیْشٍ یَقُوْلُ: رَاَیْتُ اِمْرَاَۃً جَائَ تْ اِلَی ابْنِ عُمَرَ بِمِنًی عَلَیْہَا دِرْعُ حَرِیْرٍ، فَقَالَتْ: مَا تَقُوْلُ فِی الْحَرِیْرِ؟ فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْہٗ۔ (مسند احمد: ۵۷۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو یونس حاتم بن مسلم کہتے ہیں: میں نے قریش کے ایک آدمی سے سنا، اس نے کہا: میں نے ایک عورت کو دیکھا، وہ منیٰ میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس آئی، اس نے ریشم کی قمیص زیب ِ تن کی ہوئی تھی، اس نے کہا: تم ریشم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

8023

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8023

Sahih

(۸۰۲۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ عَلَیْہِ جُبَّۃُ سِیْجَانَ مَزْرُوْرَۃٌ بِالدِّیْبَاجِ، فَقَالَ: اَلَا اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا قَدْ وَضَعَ کُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ۔ قَالَ: یُرِیْدُ اَنْ یَّضَعَ کُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ، وَیَرْفَعُ کُلَّ رَاعِ ابْنِ رَاعٍ۔ قَالَ: فَاَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِمَجَامِعِ جُبَّتِہٖ، وَقَالَ: ((اَلَا اَرٰی عَلَیْکَ لِبَاسَ مَنْ لَّایَعْقِلُ؟)) ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه وآله وسلم : (( اِنَّ نَبِيَّ اللّٰہِ نُوْحًا صلى الله عليه وآله وسلم لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ، قَالَ لِاِبْنِہٖ: اِنِّيْ قَاصٌّ عَلَیْکَ الْوَصِیَّۃَ: آمُرُکَ بِاثْنَتَیْنِ، وَاَنْھَاکَ عَنِ اثْنَتَیْنِ، آمُرُکَ بِـ(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)، فَاِنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْاَرْضِیْنَ السَّبْعَ لَوْ وُضِعَتْ فِيْ کِفَّۃٍ، وَوُضِعَتْ (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ) فِيْ کِفَّۃٍ، رَجَحَتْ بِھِنَّ (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)، وَلَوْ اَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْاَرْضِیْنَ السَّبْعَ کُنَّ حَلْقَۃً مُبْھَمَۃً، اِلَّا قَصَمَتْھُنَّ (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ)، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، فَاِنَّھَا صَلَاۃُ کُلِّ شَیْئٍ وَبِھَا یُرْزَقُ الْخَلْقُ۔ وَاَنْھَاکَ عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ اَوْ قیل: یَا رَسُوْلَ اللّّٰہِ! ھٰذَا الشِّرْکُ قَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: اَنْ یَّکُوْنَ لِاَحَدٍ نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَھُمَا شِرَاکَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: ((لَا)) قَالَ: ھُوَ اَنْ یَّکُوْنَ لِاَحَدِنَا اَصْحَابٌ یَجْلِسُوْنَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا الْکِبْرُ؟ ((سَفَہُ الْحَقِّ وَغَمَصُ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماکہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، کسی بستی کا باسی سیجان کا جبہ، جس کے بٹن ریشمی تھے، زیبِ تن کر کے آیا اور کہا: خبردار! تمھارے اس ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے گھڑسواروں کے مقام کو کم اور چرواہوں کی عزتوں کو بلند کر دیا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے جبہ کے گریبان سے پکڑا اور فرمایا: کیا میں تجھ پر ان لوگوں کا لباس نہیں دیکھ رہا، جو بیوقوف ہیں۔ پھر فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تیرے سامنے ایک وصیت بیان کرتا ہوں، میں تجھے دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ میں تجھے لا الہ الا اللہ کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو (ترازو کے) ایک پلڑے میں اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو لا الہ الا اللہ بھاری ہو جائے گا۔ اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک بند کڑے کی شکل اختیار کر لیں تو اس کو بھی لا الہ الا اللہ توڑ دے گا ، اور (دوسری چیز) سبحان اللہ وبحمدہ ہے، یہ کلمات ہر چیز کی نماز ہیں اور ان ہی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کر تا ہوں۔ میں نے یا کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم شرک کو تو پہنچانتے ہیں، تکبر کسے کہتے ہیں؟ کیا تکبر یہ ہے کہ آدمی کے جوتے اور ان کے تسمے اچھے ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کسی نے کہا: تو کیا تکبر یہ ہے کہ آدمی کے دوست و یار ہوں، جو اس کے پاس بیٹھتے ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حق کو جھٹلا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا (تکبر کہلاتا ہے)۔

8024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8024

Sahih

(۸۰۲۴)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَی عُمَرَ بِجُبَّۃِ سُنْدُسٍ قَالَ فَلَقِیَ عُمَرُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَیَّ بِجُبَّۃِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِیہَا مَا قُلْتَ؟ قَالَ: ((إِنِّی لَمْ أَبْعَثْ بِہَا إِلَیْکَ لِتَلْبَسَہَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِہَا إِلَیْکَ لِتَبِیعَہَا أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف ریشم کا جبہ بھیجا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملے اور کہا: آپ نے ریشم کا جبہ میری طرف بھیجا ہے، حالانکہ آپ نے تو اس کے بارے میں ایسے ایسے فرمایا تھا، (یعنی مذمت کی تھی)؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس لئے تو نہیں بھیجا کہ تم اسے پہن لو، میں نے تو اس لئے بھیجا ہے کہ تم اسے فروخت کر لو یا کوئی اور فائدہ حاصل کر لو۔

8025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8025

Zaeef

(۸۰۲۵)۔عَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ ثَعْلَبَۃَ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَعَلَیْہِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْیَمَنِ فَقَالَ: ((یَا ضَمْرَۃُ أَتَرٰی ثَوْبَیْکَ ہٰذَیْنِ مُدْخِلَیْکَ الْجَنَّۃَ؟)) فَقَالَ: لَئِنْ اسْتَغْفَرْتَ لِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَا أَقْعُدُ حَتّٰی أَنْزَعَہُمَا عَنِّی، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَۃَ بْنِ ثَعْلَبَۃَ۔)) فَانْطَلَقَ سَرِیعًا حَتّٰی نَزَعَہُمَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا میرے اوپر یمن کے دو جوڑے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ضمرہ! کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ یہ دو جوڑے تمہیں جنت میں داخل کریں گے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے لئے استغفار کریں تو میں بیٹھنے سے پہلے انہیں اتار دیتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کو بخش دے۔ پس وہ جلدی جلدی گئے اور ان دونوں کو اتار دیا۔

8026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8026

Zaeef

(۸۰۲۶)۔حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی الْحَسَنُ بِحَدِیثِ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ عَنْ عُمَرَ فِی الدِّیبَاجِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ أَخْبَرَنِی رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ لَبِنَتُہَا دِیبَاجٌ، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَبِنَۃٌ مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سلیمان تیمی کہتے ہیں: حسن بصری نے مجھے ابو عثمان نہدی والی حدیث سنائی، انہوں نے سیدنا عمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ریشم کے بارے میں بیان کی، حسن کہتے ہیں: قبیلہ میں سے ایک آدمی نے مجھے خبر دی کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہوا، جبکہ اس نے ایک جبہ زیب ِ تن کیا ہوا تھا، اس کا گریبان ریشم کا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گریبان آگ کا ہے۔

8027

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8027

Sahih

(۸۰۲۷)۔عَنْ حَفْصَۃَ أَنَّ عُطَارِدَ بْنَ حَاجِبٍ قَدِمَ مَعَہُ ثَوْبُ دِیبَاجٍ کَسَاہُ إِیَّاہُ کِسْرٰی فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَوِ اشْتَرَیْتَہُ فَقَالَ: ((إِنَّمَا یَلْبَسُہُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ عطارد بن حاجب آئے اوران کے پاس ریشم کی چادر تھی، یہ فارس کے حکمران نے ان کو دی تھی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری خواہش ہے آپ اسے خرید لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لباس تو وہ شخص پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔

8028

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8028

Zaeef

(۸۰۲۸)۔عَنْ حَبِیبِ بْنِ عُبَیْدٍ الرَّحَبِیِّ أَنَّ أَبَا أُمَامَۃَ دَخَلَ عَلٰی خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ فَأَلْقٰی لَہُ وِسَادَۃً فَظَنَّ أَبُو أُمَامَۃَ أَنَّہَا حَرِیرٌ فَتَنَحّٰی یَمْشِی الْقَہْقَرٰی حَتّٰی بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ وَخَالِدٌ یُکَلِّمُ رَجُلًا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلٰی أَبِی أُمَامَۃَ فَقَالَ لَہُ: یَا أَخِی! مَا ظَنَنْتَ؟ أَظَنَنْتَ أَنَّہَا حَرِیرٌ؟ قَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا یَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِیرِ مَنْ یَرْجُو أَیَّامَ اللّٰہِ۔)) فَقَالَ لَہُ خَالِدٌ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ اللّٰھُمَّ غُفْرًا أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَلْ کُنَّا فِی قَوْمٍ مَا کَذَبُونَا وَلَا کُذِّبْنَا۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حبیب بن عبیدر حبی کہتے ہیں: سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، خالد بن یزید کے پاس گئے،انہوں نے ان کے لیے تکیہ رکھا، سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو گمان ہوا کہ یہ ریشم کا ہے، وہ پچھلے پاؤں ہٹ کر اس سے علیحدہ ہو گئے، یہاں تک کہ مجلس کے آخر تک پہنچ گئے، جبکہ خالد کسی آدمی سے بات کر رہے تھے، پھر جب وہ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف متوجہ ہوئے تو ان سے کہا: اے میرے بھائی! آپ نے کیا سمجھا ہے؟ کیا آپ کا خیال ہے یہ ریشم سے ہے؟ تو خالد نے شبہ دور کیا۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی امید رکھتا ہو، وہ ریشم سے فائدہ نہ اٹھائے۔ خالد نے ابو امامہ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! معاف کرنا، خالد مجھے کہتا ہے کہ کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ سے سنی ہے، ہم ایسے لوگوں میں تھے کہ جنہوں نے ہمیں جو کچھ بیان کیا، انھوں نے اس میں جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہمیں جھٹلایا گیا۔