Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1427

لباس اور زینت کے مسائل

مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان

5 hadiths in this chapter

7934

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7934

Sahih

(۷۹۳۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم رَاٰی عَلَیَّ ثَوْبَیْنِ مُعَصْفَرَیْنِ، قَالَ: ((ھٰذِہِ ثِیَابُ الْکُفَّارِ، لَا تَلْبَسْہَا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ قَالَ: ((اَلْقِہَا فَاِنَّہَا ثِیَابُ الْکُفَّارِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے اوپر دو معصفر رنگ کے کپڑے دیکھے تو فرمایا: یہ کافروں کا لباس ہے، یہ لباس نہ پہنا کر۔ ایک روایت میں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو پھینک دے، یہ کافروں کا لباس ہے۔

7935

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7935

Sahih

(۷۹۳۵)۔عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ ہَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِیَّۃِ أَذَاخِرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَیَّ رَیْطَۃٌ مُضَرَّجَۃٌ بِعُصْفُرٍ فَقَالَ: ((مَا ہٰذِہِ؟)) فَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَرِہَہَا فَأَتَیْتُ أَہْلِی وَہُمْ یَسْجُرُونَ تَنُّورَہُمْ فَلَفَفْتُہَا ثُمَّ أَلْقَیْتُہَا فِیہِ ثُمَّ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَا فَعَلَتِ الرَّیْطَۃُ؟)) قَالَ قُلْتُ: قَدْ عَرَفْتُ مَا کَرِہْتَ مِنْہَا فَأَتَیْتُ أَہْلِی وَہُمْ یَسْجُرُونَ تَنُّورَہُمْ فَأَلْقَیْتُہَا فِیہِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَہَلَّا کَسَوْتَہَا بَعْضَ أَہْلِکَ۔)) وَذَکَرَ أَنَّہُ حِینَ ہَبَطَ بِہِمْ مِنْ ثَنِیَّۃِ أَذَاخِرَ صَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَی جَدْرٍ اتَّخَذَہُ قِبْلَۃً فَأَقْبَلَتْ بَہْمَۃٌ تَمُرُّ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ یُدَارِئُہَا وَیَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتّٰی نَظَرْتُ إِلٰی بَطْنِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِہِ۔ (مسند احمد: ۶۸۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع) اذاخر گھاٹی سے اتر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر ایک چادر تھی جو عصفر بوٹی سے رنگی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں پہچان گیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ناپسند کر رہے ہیں، میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھاتھا، میں نے وہ چادر لپیٹی اور اسے تنور میں پھینک دیا۔ پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چادر کا کیا بنا؟ میں نے کہا: مجھے آپ کی ناپسندیدگی کا علم ہو گیا تھا، سو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ تنور جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو پہنا دینا تھی۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذاخر گھاٹی سے نیچے اترے تو ہمیں نماز پڑھائی، سامنے ایک دیوار تھی، اس کو سترہ بنا لیا، ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے بچنے کے لیے دیوار کے قریب ہوتے گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ مبارک کو دیکھا، وہ دیوار کے ساتھ مل گیا اور جانور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔

7936

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7936

Zaeef

(۷۹۳۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه قَالَ رَاحَ عُثْمَانُ صلى الله عليه وآله وسلم إِلٰی مَکَّۃَ حَاجًّا وَدَخَلَتْ عَلٰی مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ امْرَأَتُہُ، فَبَاتَ مَعَہَا حَتّٰی أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَیْہِ رَدْعُ الطِّیبِ وَمِلْحَفَۃٌ مُعَصْفَرَۃٌ مُفْدَمَۃٌ فَأَدْرَکَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ یَرُوحُوا فَلَمَّا رَآہُ عُثْمَانُ انْتَہَرَ وَأَفَّفَ وَقَالَ أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَقَدْ نَہٰی عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ یَنْہَہٗ وَلَا اِیَّاکَ اِنَّمَا نَہَانِیْ۔ (مسند احمد: ۵۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ کو روانہ ہوئے، اور محمد بن جعفر بن ابی طالب کے پاس ان کی بیوی داخل ہوئی، انہوں نے اس کے ساتھ رات گزاری، جب صبح ہوئی تو یہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، ان پر عورتوں والی خوشبو کا داغ تھا اورخوب سرخ چادر تھی، جس کو عصفر بوٹی میں رنگا گیا تھا، انھوں نے ملل مقام پر لوگوں کو پا لیا، وہ وہاں سے ابھی تک سفر کے لئے چلے نہ تھے، جب انہیں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا تو ڈانٹا اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا: کیا تم معصفر کپڑا پہنتے ہو، حالانکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رنگ کے لباس پہننے سے منع فرمایا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ محمد بن جعفر کو اور نہ ہی سیدنا عثمان کو منع کیا، بلکہ صرف مجھے منع کیا تھا۔

7937

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7937

Sahih

(۷۹۳۷)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأٰی عَلٰی رَجُلٍ صُفْرَۃً فَکَرِہَہَا قَالَ: ((لَوْ أَمَرْتُمْ ہٰذَا أَنْ یَغْسِلَ ہٰذِہِ الصُّفْرَۃَ۔)) قَالَ: وَکَانَ لَا یَکَادُ یُوَاجِہُ أَحَدًا فِی وَجْہِہِ بِشَیْئٍ یَکْرَہُہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی پرزرد رنگ کا لباس دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور فرمایا: اگر تم اس کو حکم دو کہ یہ اس زردی کو دھو دے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کم ہی کسی سے براہ راست بات کرتے تھے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا تھا۔

7938

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7938

Sahih

(۷۹۳۸)۔عَنْ عَلِیٍّ رضي الله عنه قَالَ: نَہَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَلَا اَقُوْلُ نَہَاکُمْ عَنِ الْمُعَصْفَرِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّھَبِ۔ (مسند احمد: ۹۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے اور سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تم کو منع کیا ہے۔