Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1426

لباس اور زینت کے مسائل

سیاہ، سبز، زعفرانی اور رنگین ملبوسات کا بیان

6 hadiths in this chapter

7928

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7928

Sahih

(۷۹۲۸)۔عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا جَعَلَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بُرْدَۃً سَوْدَائَ مِنْ صُوفٍ، فَذَکَرَ سَوَادَہَا وَبَیَاضَہُ فَلَبِسَہَا، فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِیحَ الصُّوفِ قَذَفَہَا، وَکَانَ یُحِبُّ الرِّیحَ الطَّیِّبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے اون کی سیاہ رنگ کی چادر بنائی، پھر انھوں نے اس چادر کی سیاہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سفیدی کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چادر پہن لی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسینہ آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اون کی بو محسوس کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اتار کر پھینک دیا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پاکیزہ اور اچھی خوشبو پسند کرتے تھے۔

7929

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7929

Sahih

(۷۹۲۹)۔وعَنْ اَبِیْ رِمْثَۃَ التَّیْمِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ اَبِیْ فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم، فَوَجَدْنَاہٗ جَالِسًا فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ اَخْضَرَانِ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو رمثہ تیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ تھا اور میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جب ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اوپر دو سبز چادریں تھیں۔

7930

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7930

Sahih

(۷۹۳۰)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَنْ یَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی زعفران لگائے۔

7931

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7931

Zaeef

(۷۹۳۱)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ أَنَّ عَمَّارًا قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰی أَہْلِی لَیْلًا وَقَدْ تَشَقَّقَتْ یَدَایَ فَضَمَّخُونِی بِالزَّعْفَرَانِ فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ وَلَمْ یُرَحِّبْ بِی فَقَالَ: ((اِغْسِلْ ہٰذَا۔)) قَالَ فَذَہَبْتُ فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ وَقَدْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْہُ شَیْئٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ وَلَمْ یُرَحِّبْ بِی وَقَالَ: ((اِغْسِلْ ہٰذَا عَنْکَ۔)) فَذَہَبْتُ فَغَسَلْتُہُ ثُمَّ جِئْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیَّ وَرَحَّبَ بِی وَقَالَ: ((إِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَا تَحْضُرُ جَنَازَۃَ الْکَافِرِ وَلَا الْمُتَضَمِّخَ بِزَعْفَرَانٍ وَلَا الْجُنُبَ۔)) وَرَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا نَامَ أَوْ أَکَلَ أَوْ شَرِبَ أَنْ یَتَوَضَّأَ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کو اپنے گھر والوں کے پاس آیا، جبکہ میرے ہاتھ پھٹ چکے تھے، گھر والوں نے زعفران لگا دیا، جب میں صبح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا اور نہ ہی مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اسے دھو دے۔ میں گیا اور اس کو دھویا، لیکن ابھی تک زعفران کا کچھ حصہ مجھ پر باقی تھا، بہرحال میں پھر آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا، بلکہ فرمایا: اس کو دھو۔ پس میں چلا گیا اور اس کو دھو کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام کا جواب دیا اور مرحبا کہا اور فرمایا: فرشتے نہ کافرکے جنازہ پر حاضرہوتے ہیں، نہ اس آدمی کے پاس آتے ہیں، جو زعفران سے لت پت ہو اور نہ جنابت والے شخص کے پاس آتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ جب وہ سوئے یا کھانا پینا چاہے تو وہ وضو کر لے۔

7932

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7932

Sahih

(۷۹۳۲)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّہٗ کَانَ یَصْبَغُ ثِیَابَہٗ وَیَدَّھِنُ بِالزَّعْفَرَانِ، قِیل لَہ: لِمَ تَصْبُغُ ثِیَابَکَ وَتَدَّھِنُ بِالزَّعْفَرَانِ؟ قَالَ: لَاِنِّیْ رَاَیْتُہٗ اَحَبَّ الْاَصْبَاغِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَدَّھِنُ بِہٖ، وَ یَصْبُغُ بِہٖ ثِیَابَہٗ۔ (مسند احمد: ۵۷۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمااپنے لباس کو زعفران کے ساتھ رنگتے اور زعفران بطور تیل بھی ملتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کپڑے زعفران کے ساتھ کیوں رنگتے ہیں اور زعفران کو بطور تیل کیوں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام رنگوں میں سب سے پیارا رنگ زعفران تھا، جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کپڑوں پر لگاتے تھے اور بطورِ تیل بھی استعمال کرتے تھے۔

7933

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7933

Sahih

(۷۹۳۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم رَخَّصَ فِی الثَّوْبِ الْمَصْبُوْغِ مَا لَمْ یَکُنْ بِہٖ نَفْضٌ وَلَا رِدْعٌ۔ (مسند احمد: ۳۴۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رنگے ہوئے کپڑے کی رخصت دی ہے، جب تک کہ اس کا رنگ جسم پر نہ چڑھے اور نہ ہی جسم پر داغ لگے۔