Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 140 · Chapter 1421

لباس اور زینت کے مسائل

صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا اور مستحب ملبوسات کا بیان

7 hadiths in this chapter

7898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7898

Sahih

(۷۸۹۸)۔عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِی مَنْزِلِنَا فَرَأٰی رَجُلًا شَعِثًا فَقَالَ: ((أَمَا کَانَ یَجِدُ ہٰذَا مَا یُسَکِّنُ بِہِ رَأْسَہُ۔)) وَرَأٰی رَجُلًا عَلَیْہِ ثِیَابٌ وَسِخَۃٌ فَقَالَ: ((أَمَا کَانَ یَجِدُ ہٰذَا مَا یَغْسِلُ بِہِ ثِیَابَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس سر کے بالوں کو سنوارنے کے اسباب نہیں ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اور آدمی کو دیکھا، اس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ اپنا لباس دھو سکے۔

7899

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7899

Sahih

(۷۸۹۹)۔عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ عَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّکُمْ قَادِمُونَ عَلٰی إِخْوَانِکُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَکُمْ، وَأَصْلِحُوا لِبَاسَکُمْ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو، پس اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔

7900

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7900

Sahih

(۷۹۰۰)۔عَنْ أَبِی الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ أَوْ شَمْلَتَانِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَرَآنِیْ رَثَّ الْھَیْئَۃِ) فَقَالَ لِی: ((ہَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ آتَانِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ کُلِّ مَالِہِ مِنْ خَیْلِہِ وَإِبِلِہِ وَغَنَمِہِ وَرَقِیقِہِ، فَقَالَ: ((فَإِذَا آتَاکَ اللّٰہُ مَالًا فَلْیَرَ عَلَیْکَ نِعْمَتَہُ۔)) فَرُحْتُ إِلَیْہِ فِی حُلَّۃٍ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَغَدَوْتُ عَلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ حَمْرَائَ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، میں نے اپنے اوپر ایک یا دو چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور میری حالت پراگندہ سی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطاء کر رکھا ہے، گھوڑے ہیں، اونٹ ہیں، بکریاں ہیں اور غلام ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت کے اثرات تجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ میں یہ سن کر پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کا حلہ پہن رکھا تھا۔

7901

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7901

Sahih

(۷۹۰۱)۔عَنْ اَبِیْ رَجَائٍ الْعَطَارَدِیِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ وَعَلَیْہِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَہُ عَلَیْہِ قَبْلَ ذٰلِکَ وَلَا بَعْدَہُ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَنْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ نِعْمَۃً فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ اَنْ یَرٰی اَثْرَ نِعْمَتِہٖ عَلٰی خَلْقِہٖ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((عَلٰی عَبْدِہٖ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں ہمارے سامنے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوں نے اون اور ریشم سے بنی چادر زیب ِ تن کر رکھی تھی، ہم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد ایسی چادر نہیں دیکھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کر رکھی ہوں، تو وہ اللہ یہ بھی پسند کرتا ہے کہ اپنی مخلوق پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔

7902

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7902

Sahih

(۷۹۰۲)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِلْبَسُوْا مِنْ ثِیَابِکُمُ الْبَیَاضَ وَکَفِّنُوْا فِیْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن بھی کیا کرو اور اس میں مردوں کو کفن بھی دیا کرو۔

7903

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7903

Sahih

(۷۹۰۳)۔وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم نَحْوُہُ وَفِیْہٖ: ((اِلْبَسُوْا مِنْ ثَیَابِکُمُ الْبَیَاضَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو۔

7904

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7904

Sahih

(۷۹۰۴)۔وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَاَی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَلٰی عُمَرَ ثَوْبًا اَبْیَضَ فَقَالَ: اَ جَدِیْدٌ ثَوْبُکُ اَمْ غَسِیْلٌ؟ فَقَالَ: فَلَا اَدْرِیْ مَارَدَّ عَلَیْہٖ‘ فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا۔))، اَظُنُّہُ قَالَ: ((وَیَرْزُقُکَ اللّٰہُ قُرَّۃَ عَیْنٍ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر سفید رنگ کا کپڑا دیکھ کر پوچھا: یہ نیا ہے یا دھویا ہوا ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا تھا۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ دعا دی: اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا : (تم نیا لباس پہنو، قابل تعریف حالت میں زندگی گزارواور شہادت کی موت پاؤ)۔ میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا بھی دی تھی: اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔