Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 139 · Chapter 1420

لہو و لعب کے بارے میں مسائل

لہو کے آلات، گانے والیوں اور شراب کے پینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

7893

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7893

Sahih

(۷۸۹۳)۔عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَۃِ رَاعٍ فَوَضَعَ أُصْبُعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ وَعَدَلَ رَاحِلَتَہُ عَنْ الطَّرِیقِ وَہُوَ یَقُولُ: یَا نَافِعُ! أَتَسْمَعُ؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ فَیَمْضِی حَتّٰی قُلْتُ لَا فَوَضَعَ یَدَیْہِ وَأَعَادَ رَاحِلَتَہُ إِلَی الطَّرِیقِ وَقَالَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ صَوْتَ زَمَّارَۃِ رَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ ہٰذَا۔ (مسند احمد: ۴۹۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر ڈال لیں اور اپنی سواری راستے سے ہٹا کر دور لے گئے، (کچھ آگے جا کر) کہا: اے نافع! کیا تم آواز سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پس وہ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے کہا کہ اب آواز نہیں آ رہی، تب انھوں نے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی سواری کو راستے پر ڈالا اور کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔

7894

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7894

Sahih

(۷۸۹۴)۔عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ أَنَّ امْرَأَۃً جَائَتْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ أَتَعْرِفِینَ ہٰذِہِ؟)) قَالَتْ: لَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ فَقَالَ: ((ہٰذِہِ قَیْنَۃُ بَنِی فُلَانٍ تُحِبِّینَ أَنْ تُغَنِّیَکِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ فَأَعْطَاہَا طَبَقًا فَغَنَّتْہَا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ نَفَخَ الشَّیْطَانُ فِی مَنْخِرَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم اس کو پہچانتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بنو فلاں کی گانے والی لونڈی ہے، کیا تم پسند کرو گی کہ یہ گائے؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ایک تھال سا دیا، اس پر اس نے گایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونکا ہے۔

7895

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7895

Zaeef

(۷۸۹۵)۔عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِی رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ وَہُدًی لِلْعَالَمِینَ وَأَمَرَنِی رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِیرِ وَالْأَوْثَانِ وَالصُّلُبِ وَأَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَحَلَفَ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِہِ لَا یَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِیدِی جَرْعَۃً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَیْتُہُ مِنَ الصَّدِیدِ مِثْلَہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْفُورًا لَہُ أَوْ مُعَذَّبًا وَلَا یَسْقِیہَا صَبِیًّا صَغِیرًا ضَعِیفًا مُسْلِمًا إِلَّا سَقَیْتُہُ مِنَ الصَّدِیدِ مِثْلَہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْفُورًا لَہُ أَوْ مُعَذَّبًا وَلَا یَتْرُکُہَا مِنْ مَخَافَتِی إِلَّا سَقَیْتُہُ مِنْ حِیَاضِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ حَظِیْرَۃِ) الْقُدُسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا یَحِلُّ بَیْعُہُنَّ وَلَا شِرَاؤُہُنَّ وَلَا تَعْلِیمُہُنَّ وَلَا تِجَارَۃٌ فِیہِنَّ وَثَمَنُہُنَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَاَکْلُ اَثْمَانِہِنِّ) حَرَامٌ یَعْنِی الضَّارِبَاتِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَلْمُغَنِّیَاتِ)۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لئے رحمت و ہدایت بناکر بھیجا ہے اور مجھے آلات موسیقی، بانسریاں، بت، صلیب اور جاہلیت کے کام مٹانے کا حکم دیا اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر کہا کہ کوئی بھی میرا بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی پئے گا، تو وہ اسے روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، یہ الگ بات یہ ہے کہ اس کو بخشا جائے یا عذاب دیا جائے، اگر وہ چھوٹے اور ضعیف مسلمان بچے کو پلائے گا، تو وہ اس کو بھی روز قیامت اس کی مثل پیپ پلائے گا، یہ الگ بات یہ ہے کہ اسے بخشا جائے یا عذاب دیا جائے اور جو بھی میرے خوف سے اسے پینا چھوڑ دے گا، میں اسے روز قیامت قدس کے حوض سے پلاؤں گا، ان چیزوں کی خرید وفروخت، ان کی تعلیم اور تجارت حلال نہیں اور گانے والیوں کی قیمت حرام ہے۔

7896

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7896

Zaeef

(۷۸۹۶)۔حَدَّثَنَا سَیَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ثَنَا جَعْفَرٌ قَالَ: اَتَیْتُ فَرْقَدًا یَوْمًا فَوَجَدْتُہُ خَالِیًا، فَقُلْتُ: یَا ابْنَ اُمِّ فَرْقَدٍ لَاَسْاَلَنَّکَ الْیَوْمَ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، فَقُلْتُ اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِکَ فِیْ الْخَسْفِ وَالْقَذْفِ أَشَیْئٌ تَقُولُہُ أَنْتَ أَوْ تَأْثُرُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا بَلْ آثُرُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قُلْتُ وَمَنْ حَدَّثَکَ قَالَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِیُّ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنِی قَتَادَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَحَدَّثَنِی بِہِ إِبْرَاہِیمُ النَّخَعِیُّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((تَبِیتُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی عَلٰی أَکْلٍ وَشُرْبٍ وَلَہْوٍ وَلَعِبٍ ثُمَّ یُصْبِحُونَ قِرَدَۃً وَخَنَازِیرَ فَیُبْعَثُ عَلٰی أَحْیَائٍ مِنْ أَحْیَائِہِمْ رِیحٌ فَتَنْسِفُہُمْ کَمَا نَسَفَتْ مَنْ کَانَ قَبْلَہُمْ بِاسْتِحْلَالِہِمْ الْخُمُورَ وَضَرْبِہِمْ بِالدُّفُوفِ وَاتِّخَاذِہِمْ الْقَیْنَاتِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ جعفر کہتے ہیں: میں فرقد بن یعقوب کے پاس آیا، جب میں نے انہیں تنہا پایا تو کہا: اے ام فرقد کے بیٹے! آج میں آپ سے ایک حدیث کے متعلق سوال کروں گا، وہ یہ ہے کہ مجھے زمین میں دھنسنے اور پتھر برسنے کے بارے میں مطلع کرو، یہ تم خود کہتے ہو یانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں خود یہ نہیں کہتا، میں یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نقل کرتا ہوں، میں نے کہا: یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ مجھے عاصم بن عمرو بجلی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کی ہے اور سیدنا ابو امامہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی ہے اور مجھ سے قتادہ نے سعید بن مسیب سے بیان کی ہے اور مجھ سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ کھانے پینے اور کھیل کود میں رات گزارے گا، جب صبح ہو گی تو وہ بندر اور خنزیر بن چکے ہوں گے، ان کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ پر ہوا بھیجی جائے گی، وہ انہیں اس طرح نیست و نابود کردے گی، جس طرح ان سے پہلے والوں کو نیست و نابود کیا تھا، یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے شراب اور ڈھولک اور گانے والیوں کو حلال سمجھ کر اختیار کیا ہو گا۔

7897

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7897

Zaeef

(۷۸۹۷)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنِی شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِیُّ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَوْ حُدِّثْتُ عَنْہُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَیَبِیتَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عَلٰی أَشَرٍ وَبَطَرٍ وَلَعِبٍ وَلَہْوٍ فَیُصْبِحُوا قِرَدَۃً وَخَنَازِیرَ بِاسْتِحْلَالِہِمُ الْمَحَارِمَ وَالْقَیْنَاتِ وَشُرْبِہِمُ الْخَمْرَ وَأَکْلِہِمُ الرِّبَا وَلُبْسِہِمُ الْحَرِیرَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا عبدالرحمن بن غنم، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری امت کے کچھ لوگ سخت ترین تکبر ، سرکشی اور کھیل کود میں رات گزاریں گے، وہ صبح کے وقت بندر اور خنزیر ہوجائیں گی، کیونکہ وہ حرام چیزوں اور گانے والیوں کو حلال سمجھیں گے، شراب پئیں گے، سود کھائیں گے اور ریشم پہنیں گے۔