Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 139 · Chapter 1418

لہو و لعب کے بارے میں مسائل

لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان

7 hadiths in this chapter

7880

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7880

Sahih

(۷۸۸۰)۔عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلٰی اُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوْا حَمَامَۃً یَرْمُوْنَہَا، فَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَنْ یُتَّخَذَ ذُو الرُّوْحِ غَرَضًا۔ (مسند احمد: ۲۴۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماکچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے کہا کہ سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

7881

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7881

Sahih

(۷۸۸۱)۔عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم رَاٰی رَجُلًا یَتْبَعُ حَمَامَۃً فَقَالَ: ((شَیْطَانٌ یَتْبَعُ شَیْطَانَۃً۔)) (مسند احمد: ۸۵۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کبوتری کے پیچھے دوڑ رہا تھا، آپ نے فرمایا: شیطان شیطاننی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

7882

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7882

Sahih

(۷۸۸۲)۔عَنْ سَعِیدِ بْنَ جُبَیْرٍ قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِی طَرِیقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَإِذَا فِتْیَۃٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَۃً یَرْمُونَہَا لَہُمْ کُلُّ خَاطِئَۃٍ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَنْ فَعَلَ ہٰذَا قَالَ فَتَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ یُمَثِّلُ بِالْحَیَوَانِ۔ (مسند احمد: ۳۱۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے سے گزر رہا تھا، کچھ نوجوان مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے اور انھوں نے مرغی کے مالک کو ہر وہ تیر دینا تھا، جو نشانے پر نہیں لگتا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمایہ منظر دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا: کس نے ایسے کیا ہے؟ پس وہ تتر بتر ہو گئے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو حیوان کا مثلہ کرتا ہے۔

7883

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7883

Sahih

(۷۸۸۳)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَنْزِلہِ فَمَرَرْنَا بِفِتْیَانٍ مِنْ قُرَیْشٍ نَصَبُوا طَیْرًا یَرْمُونَہُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّیْرِ کُلَّ خَاطِئَۃٍ مِنْ نَبْلِہِمْ قَالَ فَلَمَّا رَأَوُا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ فَعَلَ ہٰذَا؟ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ فَعَلَ ہٰذَا، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَیْئًا فِیہِ الرُّوحُ غَرَضًا۔ (مسند احمد: ۶۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماکے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنہوں نے پرندہ گاڑ رکھا تھا اور اس پر نشانہ بازی کررہے تھے، انہوں نے پرندے کے مالک کو نشانے پر نہ لگنے والا ہر تیر دینے کا تقرر کر رکھا تھا، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماکو دیکھا تو وہ بھاگ گئے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے دریافت کیا: یہ کس نے کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے، بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ذی روح اور جاندار چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے۔

7884

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7884

Sahih

(۷۸۸۴)۔عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ جَدِّی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ دَارَ الْحَکَمِ بْنِ أَیُّوبَ فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَۃً یَرْمُونَہَا فَقَالَ أَنَسٌ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَہَائِمُ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ہشام بن زید بن انس بن مالک کہتے ہیں: ہم اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر داخل ہوا، کچھ لوگ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ زندہ جانور کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کی جائے۔

7885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7885

Sahih

(۷۸۸۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ جَدِّی دَارَ الْإِمَارَۃِ فَإِذَا دَجَاجَۃٌ مَصْبُورَۃٌ تُرْمٰی، فَکُلَّمَا أَصَابَہَا سَہْمٌ صَاحَتْ فَقَالَ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَہَائِمُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) ہشام بن زید کہتے ہیں: میں اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ دارالامارت میں داخل ہوا، پس کیا دیکھا کہ زندہ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی ہے، جب اسے تیر لگتا تو وہ چلاتی تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔

7886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7886

Sahih

(۷۸۸۶)۔عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ صَبْرِ الدَّابَّۃِ، قَالَ اَبُوْ اَیُّوْبَ: لَوْ کَانَتْ لِیْ دَجَاجَۃٌ مَا صَبَرْتُہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۹۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اگر میرے پاس مرغی ہوتی تو میں اسے نہ باندھتا۔