Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 137 · Chapter 1403

طاعون اور وبا کے ابواب

طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان

4 hadiths in this chapter

7800

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7800

Sahih

(۷۸۰۰)۔عَنْ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ ذُکِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((رِجْزٌ أُصِیبَ بِہِ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوہَا وَإِذَا کَانَ بِہَا وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس طاعون کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عذاب تھا، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچایا گیا، جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو اور جب تم کسی زمین میں موجود ہو تو یہ طاعون پڑ جائے تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔

7801

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7801

Sahih

(۷۸۰۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ فَلَمَّا جَائَ سَرْغَ بَلَغَہُ أَنَّ الْوَبَائَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ بِہِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ۔)) فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَحَمِدَ اللّٰہَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ)۔ (مسند احمد: ۱۶۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کی جانب گئے، جب سرغ مقام تک پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وباء پڑ چکی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہاں بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پڑچکا ہے تو اس میں نہ جاؤاور جب تم ایسے علاقے میں موجود ہو، یہاں طاعون پڑ چکا ہو تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے باہر مت نکلو۔ پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سرغ مقام سے ہی لوٹ گئے، ایک روایت میں ہے: اس پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔

7802

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7802

Sahih

(۷۸۰۲)۔عَنْ عِکْرِمَۃَ یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ اَوْ عَنْ عَمِّہٖ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ: ((اِذَا وَقَعَ الطَّاعُوْنُ بِاَرْضٍ وَاَنْتُمْ بِہَا فَلَا تَخْرُجُوْا مِنْہَا، وَاِذَا کَانَ بِاَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِہَا فَلَا تَقْرَبُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔

7803

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7803

Zaeef

(۷۸۰۳)۔ فَرْوَۃَ بْنَ مُسَیْکٍ الْمُرَادِیَّ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَرْضًا عِنْدَنَا یُقَالُ لَہَا أَرْضُ أَبْیَنَ ہِیَ أَرْضُ رُفْقَتِنَا وَمِیرَتِنَا وَإِنَّہَا وَبِئَۃٌ أَوْ قَالَ إِنَّ بِہَا وَبَائً شَدِیدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((دَعْہَا عَنْکَ فَإِنَّ مِنْ الْقَرَفِ التَّلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔