Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 137 · Chapter 1402

طاعون اور وبا کے ابواب

طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان

11 hadiths in this chapter

7789

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7789

Sahih

(۷۷۸۹)۔حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّ ہٰذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ فَفِرُّوا مِنْہُ فِی الشِّعَابِ وَالْأَوْدِیَۃِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ مُعَاذًا فَلَمْ یُصَدِّقْہُ بِالَّذِی قَالَ فَقَالَ: بَلْ ہُوَ شَہَادَۃٌ وَرَحْمَۃٌ وَدَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَہْلَہُ نَصِیبَہُمْ مِنْ رَحْمَتِکَ قَالَ أَبُو قِلَابَۃَ فَعَرَفْتُ الشَّہَادَۃَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَۃَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ حَتّٰی أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَمَا ہُوَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ یُصَلِّی إِذْ قَالَ فِی دُعَائِہِ ((فَحُمّٰی إِذًا أَوْ طَاعُونٌ فَحُمَّی إِذًا أَوْ طَاعُونٌ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَہُ إِنْسَانٌ مِنْ أَہْلِہِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُکَ اللَّیْلَۃَ تَدْعُو بِدُعَائٍ قَالَ: ((وَسَمِعْتَہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ قَالَ: ((إِنِّی سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِسَنَۃٍ فَأَعْطَانِیہَا وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُسَلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا مِنْ غَیْرِہِمْ فَیَسْتَبِیحَہُمْ َأَعْطَانِیہَا وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُلْبِسَہُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبٰی عَلَیَّ أَوْ قَالَ فَمَنَعَنِیہَا فَقُلْتُ حُمّٰی إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمّٰی إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمّٰی إِذًا أَوْ طَاعُونًا۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایوب، ابو قلابہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے علاقہ میں طاعون پڑ گیا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عذاب ہے جو بپا ہوا ہے، اس سے بھاگ جاؤ، گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، لیکن جب یہ بات سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی، انہوں نے کہا: یہ عذاب نہیں ہے، بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت ہے اور تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا ہے، اے اللہ! معاذ اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت کا حصہ عطا کر۔ابوقلابہ کہتے ہیں: میں نے شہادت اور رحمت کو تو سمجھ لیا تھا، لیکن سیدنا معاذ رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے نبی کی دعا ہے، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا، بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دعا میں یہ الفاظ دوہرائے: تب بخار یا طاعون، تو پھر بخار یا طاعون۔ تین بار یہ الفاظ دوہرائے،جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے ایک نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! میں نے رات آپ سے ایک دعا سنی ہے، جو آپ کررہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ سن لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا، اس نے یہ مطالبہ قبول فرمالیا، میں نے دوسرا مطالبہ کیا تھا کہ ان پر ان کے غیر سے دشمن مسلط نہ کرنا، جو ان کو جڑ سے مار ڈالے، اس نے یہ مطالبہ بھی قبول کر لیااور میں نے ایک یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ میری امت کو فرقوں میں تقسیم نہ کرنا کہ یہ ایک دوسرے کو عذاب چکھانا شروع کر دیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ کی،پھر میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر (یہ دعا قبول نہیں کرنی) تو بخار یا طاعون میں انہیں مبتلا کردینا، بخار یا طاعون، بخار یا طاعون۔ تین بار فرمایا۔

7790

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7790

Sahih

(۷۷۹۰)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا سَأَلَتْ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَہَا نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ((أَنَّہُ کَانَ عَذَابًا یَبْعَثُہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰی مَنْ یَشَائُ فَجَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَۃً لِلْمُؤْمِنِینَ فَلَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یَقَعُ الطَّاعُونُ فِیہِ فَیَمْکُثُ فِی بَلَدِہِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا یَعْلَمُ أَنَّہُ لَمْ یُصِبْہُ إِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ إِلَّا کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّہِیدِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتایا کہ طاعون اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے، کوئی مؤمن بندہ ، جو طاعون میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے علاقہ میں صبر اورثواب کی نیت کے ساتھ ٹھہرا رہے اور اسے یقین ہو کہ اس کو وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہے، تو اس کے لیے شہید کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔

7791

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7791

Sahih

(۷۷۹۱)۔عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ یَسْأَلُ سَعْدًا عَنِ الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَنَا أُحَدِّثُکَ عَنْہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ ہٰذَا عَذَابٌ أَوْ کَذَا أَرْسَلَہُ اللّٰہُ عَلٰی نَاسٍ قَبْلَکُمْ أَوْ طَائِفَۃٍ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَہُوَ یَجِیئُ أَحْیَانًا وَیَذْہَبُ أَحْیَانًا فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَیْہِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عامر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، انھوں نے کہا: اس کے متعلق میں تجھے بیان کرتا ہوں، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون کو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے، جب طاعون کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرواور وہاں سے راہِ فرار بھی اختیار نہ کیا کرو۔

7792

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7792

Sahih

(۷۷۹۲)۔عَنْ اَبِیْ عَسِیْبٍ مَوْلَی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَتَانِی جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام بِالْحُمّٰی وَالطَّاعُونِ فَأَمْسَکْتُ الْحُمَّی بِالْمَدِینَۃِ وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَی الشَامِ فَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ لِأُمَّتِی وَرَحْمَۃٌ لَہُمْ وَرِجْسٌ عَلَی الْکَافِرِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے،سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس بخار اور طاعون لے کر آئے، میں نے بخار کو مدینہ میں روک لیا اور طاعون کو شام کے علاقہ میں بھیج دیا، یہ طاعون میری امت کے ایمانداروں کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے عذاب ہے۔

7793

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7793

Sahih

(۷۷۹۳)۔عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((فَنَائُ أُمَّتِی بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ۔)) فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاہُ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: ((وَخْزُ أَعْدَائِکُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِی کُلٍّ شُہَدَائُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔

7794

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7794

Sahih

(۷۷۹۴)۔ثَنَا شُعْبَۃُ عَن زِیَادِ بْنِ عِلَاقَۃَ قَالَ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی قَالَ شُعْبَۃُ قَدْ کُنْتُ أَحْفَظُ اسْمَہُ قَالَ کُنَّا عَلٰی بَابِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نَنْتَظِرُ الْإِذْنَ عَلَیْہِ فَسَمِعْتُ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِیَّ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((فَنَائُ أُمَّتِی بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ۔)) قَالَ فَقُلْنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاہُ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: ((طَعْنُ أَعْدَائِکُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِی کُلٍّ شَہَادَۃٌ۔)) قَالَ زِیَادٌ فَلَمْ أَرْضَ بِقَوْلِہِ فَسَأَلْتُ سَیِّدَ الْحَیِّ وَکَانَ مَعَہُمْ فَقَالَ صَدَقَ حَدَّثَنَاہُ أَبُو مُوسٰی۔ (مسند احمد: ۱۹۹۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام شعبہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دروازے پر ان سے اجازت ملنے کے انتظار میں کھڑے تھے، میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون سے ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں طعنہ زنی کی معرفت تو ہے، یہ طاعون کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کی طعنہ زنی ہے، اور ہر ایک میں شہادت ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ان کی بات میرے دل نہ لگی، پس میں نے قبیلہ کے سردار سے پوچھا، جو اس وقت ان کے ساتھ تھا، تو اس نے تصدیق کی اور کہا یہ حدیث واقعی سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی ہے۔

7795

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7795

Sahih

(۷۷۹۵)۔عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ شَرِیْکٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِیْ بِضْعَ عَشَرَۃَ مِنْ بَنِیْ ثَعْلَبَۃَ فَاِذَا نَحْنُ بِاَبِیْ مُوْسٰی فَاِذَا ھُوَ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِی الطَّاعُوْنَ۔)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ اسامہ بن شریک کہتے ہیں: ہم بنو ثعلبہ میں سے چودہ پندرہ آدمی نکلے اور اچانک ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جا ملے، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قوم کی فنا طاعون کے ذریعہ کر۔ پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا۔

7796

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7796

Sahih

(۷۷۹۶)۔عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ قَیْسٍ اَخِیْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ اُمَّتِیْ فِیْ سَبِیْلِکَ بِالْطَعْنِ وَالطَّاعُوْنِ)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں طعنہ زنی اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔

7797

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7797

Sahih

(۷۷۹۷)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنِمٍ قَالَ لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ ہٰذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْہُ فِی ہٰذِہِ الشِّعَابِ وَفِی ہٰذِہِ الْأَوْدِیَۃِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ شُرَحْبِیلَ بْنَ حَسَنَۃَ قَالَ فَغَضِبَ فَجَائَ وَہُوَ یَجُرُّ ثَوْبَہُ مُعَلِّقٌ نَعْلَہُ بِیَدِہِ وَقَالَ صَحِبْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَہْلِہِ وَلٰکِنَّہُ رَحْمَۃُ رَبِّکُمْ وَدَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ وَوَفَاۃُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں: جب شام کے علاقے میں طاعون آیا تو سیدنا عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: یہ طاعون ایک عذاب ہے، اس سے بھاگتے ہوئے گھاٹیوں میں بکھر جاؤ اور وادیوں میں چلے جاؤ، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو وہ غضبناک ہوئے اور جوتا ہاتھ میں اٹھائے چادر کھینچتے ہوئے آئے اور کہا: میں نے اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صحابیت کا شرف حاصل کیا ہے، جب عمرو اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ تھے، یہ طاعون تو تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی وفات کا باعث بنتی رہی ہے۔

7798

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7798

Sahih

(۷۷۹۸)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) عَنْ شُرَحْبِیلَ ابْنِ شُفْعَۃَ قَالَ وَقَعَ الطَّاعُونُ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّہُ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْہُ فَبَلَغَ ذَلِکَ شُرَحْبِیلَ بْنَ حَسَنَۃَ فَقَالَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ بَعِیرِ أَہْلِہِ إِنَّہُ دَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ وَرَحْمَۃُ رَبِّکُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ فَاجْتَمِعُوا لَہُ وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْہُ فَبَلَغَ ذٰلِکَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) شرجیل بن شفعہ بیان کرتے ہیں کہ جب طاعون آیا تو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ایک عذاب ہے، اس سے پرے ہٹ جاؤ، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: میں اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی بنا ہوا تھا، جب یہ عمرو اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ بھٹکنے والے تھے،یہ طاعون تو تمہارے نبی کی دعا ہے اور تمہارے لئے باعث ِ رحمت ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی موت کا باعث بنتا رہا ہے، پس جمع رہو اور منتشر نہ ہو جاؤ، جب یہ بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: شرجیل نے سچ کہا ہے۔

7799

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7799

Sahih

(۷۷۹۹)۔(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ فِی الطَّاعُونِ فِی آخِرِ خُطْبَۃٍ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ ہٰذَا رِجْسٌ مِثْلُ السَّیْلِ مَنْ یَنْکُبْہُ أَخْطَأَہُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ یَنْکُبْہَا أَخْطَأَتْہُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْہُ وَآذَتْہُ فَقَالَ شُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ إِنَّ ہَذَا رَحْمَۃُ رَبِّکُمْ وَدَعْوَۃُ نَبِیِّکُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے طاعون کے بارے میں خطبہ کے آخر میں کچھ بیان کیا اور کہا: یہ سیلاب کی مانند ایک عذاب ہے، جو اس کی زد میں بچ جائے گا، یہ اس سے درگزر کرے گا اور یہ آگ کی مانند ہے، جو اس سے دور رہے گا، یہ اس سے تجاوز کرجائے گا اور جو اس میں ٹھہرا رہے گا، یہ اسے خاکستر بنادے گا، اذیت میں مبتلا کردے گا، سیدنا شرجیل بن حسنہ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تمہارے نبی کی دعا اور رحمت ہے اور اس کے ذریعہ نیکوکار لوگ فوت ہوتے رہے ہیں۔