Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 136 · Chapter 1401

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

نیک فال اور نیک شگون کا بیان

8 hadiths in this chapter

7781

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7781

Sahih

(۷۷۸۱)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا طِیَرَۃَ وَخَیْرُہَا الْفَأْلُ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ ((اَلْکَلِمَۃُ الصَّالِحَۃُ یَسْمَعُہَا أَحَدُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، البتہ سب سے بہتر نیک فال ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فال کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سن لے۔

7782

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7782

Sahih

(۷۷۸۲)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَا الطِّیَرَۃُ؟ قَالَ: ((لا طَائِرَ)) ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَقَالَ: ((خَیْرُ الْفَالِ الْکَمِۃُ الطَّیِّبَۃُ)) (مسند احمد: ۹۰۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! بدشگونی کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھی بات نیک فال ہے۔

7783

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7783

Sahih

(۷۷۸۳)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یُحِبُّ الْفَالَ الْحَسَنَ وَیَکْرَہُ الطِّیَرَۃَ۔ (مسند احمد: ۸۳۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی فال کو پسند کرتے تھے اور بدشگونی ناپسند کرتے تھے۔

7784

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7784

Sahih

(۷۷۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَفَائَلُ وَلَا یَتَطَیَّرُ وَیُعْجِبُہُ الْاِسْمُ الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیک فال پکڑتے تھے، بدشگونی نہیں لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھا نام پسند تھا۔

7785

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7785

Sahih

(۷۷۸۵)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم سَمِعَ صَوْتًا فَاَعْجَبَہُ فَقَالَ: ((قَدْ اَخَذْنَا فَالَکَ مِنْ فِیْکَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اگر اچھی آواز سنتے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند آتی تو آواز دینے والے کو کہتے: ہم نے تیرے منہ سے نکلی آواز سے اچھی فال لی ہے۔

7786

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7786

Sahih

(۷۷۸۶)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَا طِیَرَۃَ وَیُعْجِبُنِی الْفَالُ۔)) قَالَ: ((وَالْفَالُ الْکَلِمَۃُ الْحَسَنَۃُ الطَّیِّبَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے اور مجھے نیک فال پسند ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک فال سے مراد اچھا کلمہ ہے۔

7787

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7787

Sahih

(۷۷۸۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَتَطَیَّرُ مِنْ شَیْئٍ وَلٰکِنَّہُ کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْتِیَ امْرَأَۃً سَأَلَ عَنِ اسْمِہَا فَإِنْ کَانَ حَسَنًا رُئِیَ الْبِشْرُ فِی وَجْہِہِ وَإِنْ کَانَ قَبِیحًا رُئِیَ ذٰلِکَ فِی وَجْہِہِ وَکَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا سَأَلَ عَنْ اسْمِہِ فَإِنْ کَانَ حَسَنَ الْاِسْمِ رُئِیَ الْبِشْرُ فِی وَجْہِہِ وَإِنْ کَانَ قَبِیحًا رُئِیَ ذٰلِکَ فِی وَجْہِہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدشگونی نہیں لیتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بستی میں آنے کا ارادہ فرماتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ کے چہرے پر مسرت نظر آتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے نظر آتی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی آدمی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر مسرت دکھائی دیتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت بھی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔

7788

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7788

Sahih

(۷۷۸۸)۔عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ قَالَ أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَقُلْتُ یَا أُمَّتَاہُ حَدِّثِینِی شَیْئًا سَمِعْتِیہِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((الطَّیْرُ تَجْرِی بِقَدَرٍ۔)) وَکَانَ یُعْجِبُہُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے اماں جان! مجھے وہ حدیث بتاؤ جو آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پرندہ تقدیر الٰہی کے مطابق اڑتا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھی فال لینا پسند تھی۔