Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 136 · Chapter 1400

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا

7 hadiths in this chapter

7774

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7774

Sahih

(۷۷۷۴)۔عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((لَا ھَامَّۃَ وَلَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ، اِنْ یَکُنْ فَفِی الْمَرْاَۃِ وَالدَّابَّۃِ وَالدَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ الو کی نحوست ہے، نہ بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر نحوست ہوتی تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہوتی۔

7775

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7775

Sahih

(۷۷۷۵)۔عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَلشُّؤْمُ فِِیْ ثَلَاثٍ، اَلْفَرَسُِ وَالْمَرْاَۃُِ وَالدَّارُِ۔)) قَالَ سُفْیَانُ: اِنَّمَا نَحْفَظُہُ عَنْ سَالِمٍ یَعْنِی الشُّؤْمَ۔ (مسند احمد: ۴۵۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں۔ سفیان کہتے ہیں: بدشگونی کا لفظ ہم نے صرف سالم سے محفوظ کیا ہے، دوسرے راویوں سے نہیں۔

7776

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7776

Sahih

(۷۷۷۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَاہُ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنْ یَکُ مِنَ الشُّؤُمِ شَیْئٌ حَقٌّ فَفِی الْمَرْاَۃِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی کسی چیز میں ثابت ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔

7777

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7777

Sahih

(۷۷۷۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ، وَالشُّؤْمُ فِیْ ثَلَاثَۃٍ فِی الْمَرْاَۃِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے، نہ کوئی شگون برا ہے، بس بدشگونی تو تین چیزوں میں ہے: عورت، گھر اور جانور۔

7778

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7778

Sahih

(۷۷۷۸)۔عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنْ کَانَ فَفِی الْفَرَسِ وَالْمَرْاَۃِ وَفِی الْمَسْکَنِ۔)) یَعْنِی الشُؤْمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور رہائشگاہ میں ہوتی۔

7779

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7779

Sahih

(۷۷۷۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((اِنْ کَانَ شَیْئٌ فَفِی الرَّبْعِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْاَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بدشگونی نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ گھر، گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔

7780

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7780

Sahih

(۷۷۸۰)۔عَنْ أَبِی حَسَّانَ الْأَعْرَجِ أَنَّ رَجُلَیْنِ دَخَلَا عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَا: إِنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ ((إِنَّمَا الطِّیَرَۃُ فِی الْمَرْأَۃِ وَالدَّابَّۃِ وَالدَّارِ۔)) قَالَ فَطَارَتْ شِقَّۃٌ مِنْہَا فِی السَّمَاء ِ وَشِقَّۃٌ فِی الْأَرْضِ فَقَالَتْ وَالَّذِی أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلٰی أَبِی الْقَاسِمِ مَا ہٰکَذَا کَانَ یَقُولُ وَلٰکِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ کَانَ أَہْلُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَقُولُونَ الطِّیَرَۃُ فِی الْمَرْأَۃِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّۃِ ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَۃُ {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا فِی کِتَابٍ مِّنْْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأَھَا اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔} [الحدید: ۲۲] إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حسان اعرج بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر میں سے دو آدمی، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی اگر ہے تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا غضب ناک ہوگئیں اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن اتارا ہے! آپ نے اس طرح نہیں فرمایا تھا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ تو یہ تھے: جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی عورت، گھر اور جانور میں ہے۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ آیت پڑھی: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا فِی کِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأَھَا اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔} … نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے، نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے۔