Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 136 · Chapter 1388

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان

4 hadiths in this chapter

7699

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7699

Zaeef

(۷۶۹۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَہْلَہُ الْوَعْکُ أَمَرَ بِالْحَسَائِ فَصُنِعَ ثُمَّ أَمَرَہُمْ فَحَسَوْا مِنْہُ ثُمَّ یَقُولُ: ((إِنَّہُ یَعْنِی لَیَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِینِ وَیَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِیمِ کَمَا تَسْرُو إِحْدَاکُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاء ِ عَنْ وَجْہِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے اگر کسی کو بخار ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مالیدہ بنانے کا حکم دیتے، جب وہ تیار کیا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حکم دیتے اس کے گھونٹ بھرو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے غمگین کا دل اور معدہ مضبوط رہتا ہے اور بیمار کے دل کی تکلیف دور ہوتی ہے، جس طرح تم خواتین چہرے کو دھو کر میل کچیل دور کرتی ہو اسی طرح یہ مالیدہ دل اور معدہ کی صفائی کرتا ہے۔

7700

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7700

Zaeef

(۷۷۰۰)۔(وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَتْ: قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا قِیلَ لَہُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا یَطْعَمُ الطَّعَامَ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالتَّلْبِینَۃِ فَحَسُّوہُ إِیَّاہَا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّہَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِکُمْ کَمَا یَغْسِلُ أَحَدُکُمْ وَجْہَہُ بِالْمَاء ِ مِنَ الْوَسَخِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جب کہا جاتا کہ فلاں کو تکلیف ہے، وہ کھانا بھی نہیں کھا رہا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: آٹے کا مالیدہ بنا کر اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جس طرح تم اپنے چہرے سے میل کچیل صاف کرتی ہو۔

7701

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7701

Zaeef

(۷۷۰۱)۔(وَ عَنْہَا اَیْضًا) قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلَیْکُمْ بِالْبَغِیضِ النَّافِعِ التَّلْبِینِ۔)) یَعْنِی الْحَسْوَ،قَالَتْ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَکٰی أَحَدٌ مِنْ أَہْلِہِ لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَۃُ عَلَی النَّارِ حَتّٰی یَلْقٰی أَحَدَ طَرَفَیْہِ یَعْنِی یَبْرَأَ أَوْ یَمُوتَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز کو لازم پکڑو، جسے تمہاری طبیعت پسند نہیں کرتی، لیکن وہ نفع بخش بڑی ہے، یہ چیز مالیدہ ہے۔ اس کو گھونٹ گھونٹ کرکے پینا چاہیے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے اگر کوئی بیمار ہوتا ہنڈیا آگ پر ہی رہتی تھی، اسے مالیدہ پلاتے تھے یہاں تک کہ معاملہ کنارے لگ جاتا یعنی یا تو مریض فوت ہوجاتا یا پھر صحت یاب ہو جاتا۔

7702

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7702

Sahih

(۷۷۰۲)۔عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَلِیٌّ نَاقِہٌ مِنْ مَرَضٍ قَالَتْ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَۃٌ فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلِیٌّ یَأْکُلَانِ مِنْہَا فَطَفِقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((مَہْلًا فَإِنَّکَ نَاقِہٌ۔)) حَتّٰی کَفَّ عَلِیٌّ قَالَتْ: وَقَدْ صَنَعْتُ شَعِیرًا وَسِلْقًا فَلَمَّا جِئْنَا بِہِ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ: ((مِنْ ہٰذَا أَصِبْ فَہُوَ أَوْفَقُ لَکَ۔)) فَأَکَلَا ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام المنذر بنت قیس انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے،جو ابھی ابھی (کسی بیماری سے) صحت یاب ہوئے تھے۔ کچھ نیم پختہ کھجوریں، کچھ پک گئی تھیں، لٹکی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کھانا شروع کردیا اور سیدنا علی بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں کہہ کر منع فرمانا شروع کر دیا: رک جاؤ، کیونکہ ابھی تک بیماری کی کمزوری باقی ہے۔ سو وہ رک گئے۔ میں نے جو اور چقندر کا ایک کھانا تیار کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! یہ کھانا کھاؤ، (یہ تمہارے لیے زیادہ مفید ہے)۔ پس ان دونوں نے یہ کھانا کھایا۔