Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 136 · Chapter 1383

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان

16 hadiths in this chapter

7669

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7669

Sahih

(۷۶۶۹)۔عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ یَعْنِی سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنْ أَکَلَ سَبْعَ تَمَرَاتِ عَجْوَۃٍ مِنْ بَیْنَ لَابَتَیْ الْمَدِینَۃِ عَلَی الرِّیقِ لَمْ یَضُرَّہُ یَوْمَہٰ ذٰلِکَ شَیْئٌ حَتَّی یُمْسِیَ۔)) قَالَ فُلَیْحٌ وَأَظُنُّہُ قَالَ وَإِنْ أَکَلَہَا حِینَ یُمْسِی لَمْ یَضُرَّہُ شَیْئٌ حَتّٰی یُصْبِحَ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: انْظُرْ یَا عَامِرُ! مَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ أَشْہَدُ مَا کَذَبْتُ عَلٰی سَعْدٍ وَمَا کَذَبَ سَعْدٌ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم۔ (مسند احمد: ۱۵۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص نہار منہ مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی کھجوروں میں سے سات عجوہ کھجوریں کھائے گا، تو اسے سارا دن شام تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی اور اگر یہی کھجوریں شام کو کھائے گا تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے عامر! ذرا دیکھ لینا جو تم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کررہے ہو۔ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں میں نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔

7670

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7670

Sahih

(۷۶۷۰)۔عَنْ سَعْدٍ اَیْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَۃٍ لَمْ یَضُرَّہُ ذٰلِکَ الْیَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی صبح سات عجوہ کھجوریں کھائے گا، اس دن اسے کوئی زہر اور جادو نقصان نہ پہنچائے گا۔

7671

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7671

Sahih

(۷۶۷۱)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم خَرَجَ عَلَیْہِمْ وَہُمْ یَذْکُرُونَ الْکَمْأَۃَ وَبَعْضُہُمْ یَقُولُ جُدَرِیُّ الْأَرْضِ فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((الْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُہَا شِفَائٌ لِلْعَیْنِ وَالْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَہِیَ شِفَائٌ مِنَ السُّمِّ)) (مسند احمد: ۸۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کرام کے پاس آئے جبکہ وہ کھمبی کا ذکر کر رہے تھے اور بعض کہہ رہے تھے کہ یہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھمبی تو مَنّ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا بخش ہے اور عجوہ کھجور جنت میں سے ہے، یہ زہر کے لئے شفاء ہے۔

7672

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7672

Sahih

(۷۶۷۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم خَرَجَ عَلٰی أَصْحَابِہِ وَہُمْ یَتَنَازَعُونَ فِی الشَّجَرَۃِ الَّتِی اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَہَا مِنْ قَرَارٍ فَقَالَ بَعْضُہُمْ أَحْسَبُہَا الْکَمْأَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((الْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ…۔)) الحدیث کما تقدم۔ (مسند احمد: ۹۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور وہ اس درخت کے بارے میں بحث کررہے تھے کہ جس کے متعلق قرآن پاک میں آتا ہے کہ اسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ دیا گیا ہے اور اس کے لئے کوئی قرار نہیں ہے، بعض نے کہا: ہمارا خیال ہے اس درخت سے مراد کھمبی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھمبی تو مَنّ میں سے ہے، …۔

7673

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7673

Sahih

(۷۶۷۳)۔عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرِو نِ الْمُزَنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((الْعَجْوَۃُ وَالصَّخْرَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۵۵۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا رافع بن عمرو مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عجوہ کھجور اور صخرہ جنت سے ہیں۔

7674

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7674

Sahih

(۷۶۷۴)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ یَرْفَعُہٗ: ((اَلْعَجْوَۃُ وَالْصَخْرَۃُ (اَوْ قَالَ:) اَلْعَجْوَۃُ وَالشَّجَرَۃُ فِیْ الْجَنَّۃِ) شَکَّ الْمُشْمَعِلُّ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عجوہ کھجور اور صخرہ یا درخت جنت سے ہیں۔ مشمعل راوی کو شک ہوا۔

7675

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7675

Sahih

(۷۶۷۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: وَاَنَا وَصِیْفٌ، یَقُوْلُ: ((اَلْعَجْوَۃُ وَالشَّجَرَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: )

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند)راوی کہتے ہیں: میں غلام تھا اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور درخت جنت سے ہیں۔

7676

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7676

Sahih

(۷۶۷۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ قَالَ: ((الْکَمْأَۃُ دَوَائُ الْعَیْنِ وَإِنَّ الْعَجْوَۃَ مِنْ فَاکِہَۃِ الْجَنَّۃِ وَإِنَّ ہٰذِہِ الْحَبَّۃَ السَّوْدَائَ قَالَ ابْنُ بُرَیْدَۃَ یَعْنِی الشُّونِیزَ الَّذِی یَکُونُ فِی الْمِلْحِ دَوَائٌ مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا الْمَوْتَ)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھمبی آنکھوں کا بہترین علاج ہے اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ملا کر کھائی جائے یہ موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ ابن بریدہ نے کہا: الْحَبَّۃُ السَّوْدَائُ سے مراد شونیز ہے، (اسی کو کلونجی کہتے ہیں)۔

7677

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7677

Zaeef

(۷۶۷۷)۔عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اثْنَیْنِ وَأَرْبَعِینَ مِنْ أَصْحَابِہِ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی فِی الْمَقَامِ وَہُمْ خَلْفَہُ جُلُوسٌ یَنْتَظِرُونَہُ فَلَمَّا صَلّٰی أَہْوٰی فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَعْبَۃِ کَأَنَّہُ یُرِیدُ أَنْ یَأْخُذَ شَیْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلٰی أَصْحَابِہِ فَثَارُوا وَأَشَارَ إِلَیْہِمْ بِیَدِہِ أَنْ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا فَقَالَ: ((رَأَیْتُمُونِی حِینَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِی أَہْوَیْتُ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ الْکَعْبَۃِ کَأَنِّی أُرِیدُ أَنْ آخُذَ شَیْئًا؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((إِنَّ الْجَنَّۃَ عُرِضَتْ عَلَیَّ فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِیہَا وَإِنَّہَا مَرَّتْ بِی خَصْلَۃٌ مِنْ عِنَبٍ فَأَعْجَبَتْنِی فَأَہْوَیْتُ إِلَیْہَا لِآخُذَہَا فَسَبَقَتْنِی وَلَوْ أَخَذْتُہَا لَغَرَسْتُہَا بَیْنَ ظَہْرَانَیکُمْ حَتّٰی تَأْکُلُوا مِنْ فَاکِہَۃِ الْجَنَّۃِ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْکَمْأَۃَ دَوَائُ الْعَیْنِ وَأَنَّ الْعَجْوَۃَ مِنْ فَاکِہَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّ ہٰذِہِ الْحَبَّۃَ السَّوْدَائَ الَّتِی تَکُونُ فِی الْمِلْحِ اعْلَمُوا أَنَّہَا دَوَائٌ مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا الْمَوْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، جبکہ میرے سمیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیالیس صحابہ موجود تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھی، ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے بیٹھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کررہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی تو مقام ابراہیم اور کعبہ کے درمیان جھکے گویا کہ کوئی چیز پکڑ رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ساتھیوں کے پاس تشریف لائے، وہ اٹھنے کے لئے حرکت میں آئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے انہیں بیٹھ جانے کا اشارہ کیا، پس وہ بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھا تھا، جب میں نماز سے فارغ ہوا تو میں کعبہ کے درمیان جھکا تھا، جیسے میں کوئی چیز پکڑ رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے دیکھا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے سامنے جنت پیش کی گئی، میں نے ایسا دلکش منظر کبھی نہیں دیکھا، انگور کا ایک خوشہ میرے پاس سے گزارا گیا، وہ مجھے بہت پسند آیا، میں جھکا کہ اسے پکڑ لوں، لیکن وہ میرے ہاتھ نہ آیا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تمہارے درمیان اسے لگادیتا حتیٰ کہ تم جنت کا پھل کھاتے۔ جان لو! کھمبی آنکھوں کا علاج ہے اور عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ہے اور یہ بھی جان رکھو کہ یہ کلونجی جو نمک میں ملا کر کھائی جائے یہ سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔

7678

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7678

Sahih

(۷۶۷۸)۔عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِیْ تَمْرِ الْعَالِیَۃِ شِفَائً، (اَوْ قَالَ: تِرْیَاقًا) اَوَّلَ بُکْرَۃٍ عَلَی الرِّیْقِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ کے بالائی علاقہ والی کھجوریں صبح نہار منہ کھانے سے شفاء ہوتی ہے۔

7679

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7679

Sahih

(۷۶۷۹)۔عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ فِی عَجْوَۃِ الْعَالِیَۃِ: ((أَوَّلَ الْبُکْرَۃِ عَلٰی رِیقِ النَّفَسِ شِفَائٌ مِنْ کُلِّ سِحْرٍ أَوْ سُمٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ کے بالائی علاقہ والی عجوہ کھجور کے بارے میں فرمایا: صبح صبح نہار منہ یہ کھجور کھانا ہر جادو اور زہر کے لئے تریاق ہے۔

7680

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7680

Sahih

(۷۶۸۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِنُفَیْلٍ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَلْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنَ السَّلْوٰی) وَمَائُھَا شِفَائٌ لِلْعَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھمبی مَن (اور ایک روایت کے مطابق سلویٰ) میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔

7681

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7681

Sahih

(۷۶۸۱)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَفِیْ یَدِہٖ کُمْأَۃٌ فَقَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا؟ ھٰذَا مِنَ الْمَنِّ وَمَائُھَا شِفَائٌ لِلْعَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دست مبارک میں کھمبی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ مَن میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کی بیماری کے لئے شفاء ہے۔

7682

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7682

Sahih

(۷۶۸۲)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((عَلَیْکُمْ بِہٰذِہِ الْحَبَّۃِ السَّوْدَائِ فَإِنَّ فِیہَا شِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا السَّامَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ السَّامُ الْمَوْتُ وَہِیَ الشُّونِیزُ۔ (مسند احمد: ۷۲۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر کھایا کرو، اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفاء ہے۔ امام سفیان نے کہا: سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز ہے۔

7683

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7683

Sahih

(۷۶۸۳)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ فِی الْحَبَّۃِ السَّوْدَائِ: ((شِفَائٌ مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا السَّامَ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: ((الْمَوْتُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلونجی کے بارے میں فرمایا: اس میں ہر بیماری کی شفاء ہے، ما سوائے سام کے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!سام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موت۔

7684

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7684

Sahih

(۷۶۸۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((عَلَیْکُمْ بِالْحَبَّۃِ السَّوْدَاء ِ فَإِنَّ فِیہَا شِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ إِلَّا السَّامَ۔)) یَعْنِی الْمَوْتَ وَالْحَبَّۃُ السَّوْدَائُ الشُّونِیزُ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کلونجی لازمی طور پر استعمال کیا کرو، اس میں سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔ سَام سے مراد موت اور حبّۂ سوداء سے مراد شونیز یعنی کلونجی ہے۔