Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 135 · Chapter 1382

طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا

سینگی ، اس کے فوائد اور اوقات کا بیان

24 hadiths in this chapter

7645

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7645

Sahih

(۷۶۴۵)۔عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، حَجَمَہُ أَبُو طَیْبَۃَ فَأَمَرَ لَہُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِیرٍ وَکَلَّمَ مَوَالِیَہُ أَنْ یُخَفِّفُوا عَنْہُ مِنْ ضَرِیبَتِہِ وَقَالَ: ((أَمْثَلُ مَا تَدَاوَیْتُمْ بِہِ الْحِجَامَۃُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِیُّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سینگی لگانے کی کمائی کے متعلق سوال کیا گیا،انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگی لگوائی اور سیدنا ابو طیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگائی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک صاع جو دینے کا حکم دیا اور ان کے آقاؤں سے مطالبہ کیا کہ انھوں نے اس پر آمدن کی جس مقدار کا تعین کر رکھا ہے، وہ اس میں کمی کریں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین علاج جو تم کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔

7646

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7646

Sahih

(۷۶۴۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اِحْتَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِی الْاَخْدَعَیْنِ وَبَیْنَ الْکَعْبَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور ٹخنوں کے درمیان سینگی لگوائی۔

7647

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7647

Zaeef

(۷۶۴۷)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((خَیْرُ یَوْمٍ تَحْتَجِمُوْنَ فِیْہِ سَبْعَ عَشَرَۃَ وَتِسْعَ عَشَرَۃَ وَاِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ، وَقَالَ: وَمَا مَرَرْتُ بِمَلَاٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ اِلَّا قَالُوْا: عَلَیْکُمْ بِالْحِجَامَۃِ یَا مُحَمَّدُ۔)) (مسند احمد: ۳۳۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سترہ انیس اکیس مہینہ کی جوتاریخ ہے یہ ایام سینگی لگوانے کے لیے نہایت موزوں اور بہتر ہیں اور فرمایا :معراج کی رات جب مجھے لے جایا گیا تو میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا ہوں انہوں نے یہی کہا کہ اے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! سینگی کو لازم پکڑو۔

7648

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7648

Sahih

(۷۶۴۸)۔عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((خَیْرُ مَا تَدَاوَیْتُمْ بِہِ الْحِجَامَۃُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِیُّ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْیَانَکُمْ بِالْغَمْزِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم علاج کرتے ہو، اس میں سے بہترین ذریعۂ علاج وہ ہے جو تم سینگی لگوا کر اورعود ہندی استعمال کرکے کرتے ہو اور اپنے بچوں کو گلے میں انگلی مار کر تکلیف نہ پہنچاؤ۔

7649

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7649

Sahih

(۷۶۴۹)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم اِحْتَجَمَ عَلَی الْاَخْدَعَیْنِ وَعَلَی الْکَاھِلِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گردن کی دونوں جانبوں والی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان یعنی کمر کے اوپر والے حصے پر سینگی لگوائی۔

7650

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7650

Sahih

(۷۶۵۰)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَحْتَجِمُ ثَلَاثًا، وَاحِدَۃً عَلٰی کَاھِلِہٖ، وَاِثْنَتَیْنِ عَلَی الْاَخْدَعَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین جگہ پر سینگی لگواتے تھے، کندھو کے درمیان اور گردن کے دونوں جانبوں والی دور رگوں پر۔

7651

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7651

Sahih

(۷۶۵۱)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنْ کَانَ فِیْ شِیْئٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِہٖ خَیْرٌ فَفِی الْحِجَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم علاج کرتے ہو، اس میں سے اگر کوئی بہترین طریقۂ علاج ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے۔

7652

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7652

Sahih

(۷۶۵۲)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْحَجَّامَ فَأَتَاہُ بِقُرُونٍ فَأَلْزَمَہُ إِیَّاہَا قَالَ عَفَّانُ مَرَّۃً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَہُ بِشَفْرَۃٍ فَدَخَلَ أَعْرَابِیٌّ مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ أَحَدِ بَنِی جَذِیمَۃَ فَلَمَّا رَآہُ یَحْتَجِمُ وَلَا عَہْدَ لَہُ بِالْحِجَامَۃِ وَلَا یَعْرِفُہَا قَالَ: مَا ہٰذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! عَلَامَ تَدَعُ ہٰذَا یَقْطَعُ جِلْدَکَ؟ قَالَ: ((ہٰذَا الْحَجْمُ۔)) قَالَ: وَمَا الْحَجْمُ؟ قَالَ: ((ہٰذَا مِنْ خَیْرِ مَا تَدَاوٰی بِہِ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے سینگی لگانے والے کو بلوایا، وہ سینگی لگانے کا آلہ لے کر آ گیا اور اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چمٹا دیا اورچھری سے آپ کے جسد اطہر پر بچھنے لگائے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دیہاتی آ گیا، جو بنو جذیمہ کی شاخ بنو فرازہ سے تھا، جب اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سینگی لگواتے دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے کیا چھوڑ رکھا ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے؟ دراصل اسے معلوم نہیں تھا کہ سینگی کیا چیز ہے نہ اس نے کبھی لگتے دیکھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سینگی ہے۔ اس نے کہا: سینگی کیا ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، یہ سینگی ان کے بہترین علاج میں سے ہے۔

7653

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7653

Sahih

(۷۶۵۳)۔عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ حَدَّثَہُ: أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ عَادَ الْمُقَنَّعَ فَقَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتّٰی تَحْتَجِمَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ فِیہِ الشِّفَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مقنع کی تیمار داری کی اور اس سے کہا: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا، جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا،کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ سینگی لگوانے سے شفا حاصل ہوتی ہے۔

7654

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7654

Sahih

(۷۶۵۴)۔عَنْ أَیُّوبَ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنْ جَدَّتِہِ سَلْمٰی خَادِمِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا قَطُّ یَشْکُو إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِی رَأْسِہِ إِلَّا قَالَ: ((احْتَجِمْ۔)) وَلَا وَجَعًا فِی رِجْلَیْہِ إِلَّا قَالَ: ((اخْضِبْہُمَا بِالْحِنَّائِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ سلمیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ جس نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سردرد کی شکایت کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا کہ سینگی لگاؤ۔ اور جس نے بھی پاؤں میں درد کی شکایت کی ہے، آپ نے اسے مہندی کا لیپ کرنے کا حکم دیا۔

7655

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7655

Sahih

(۷۶۵۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ اسْتَأْذَنَتْ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحِجَامَۃِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَبَا طَیْبَۃَ أَنْ یَحْجُمَہَا قَالَ حَسِبْتُ أَنَّہُ کَانَ أَخَاہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَوْ غُلَامًا لَمْ یَحْتَلِمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت طلب کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں سینگی لگائے، یہ ابو طیبہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رضاعی بھائی تھا یا یہ ابھی نابالغ بچہ تھا۔

7656

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7656

Sahih

(۷۶۵۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبِْد اللّٰہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: اِنْ کَانَ أَوْ إِنْ یَکُنْ فِی شَیْئٍ مِنْ أَدْوِیَتِکُمْ خَیْرٌ فَفِی شَرْطَۃِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَۃِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَۃٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ دَائً، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَکْتَوِیَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے علاج کے طریقوں میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں ہے یا آگ سے داغ دینے میں ہے جو کہ بیماری کے موافق ہو، البتہ میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا۔

7657

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7657

Sahih

(۷۶۵۷)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ثَلَاثٌ إِنْ کَانَ فِی شَیْئٍ شِفَائٌ فَفِی شَرْطَۃِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَۃِ عَسَلٍ أَوْ کَیَّۃٍ تُصِیبُ أَلَمًا وَأَنَا أَکْرَہُ الْکَیَّ وَلَا اُحِبُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ہیں، اگر کسی چیز میں شفا ہے، (تو ان تین میں ہے) یعنی سینگی لگانے میں ہے یا شہد پینے میں یا داغ لگوانے میں جو تکلیف کے علاج کے لئے مناسب ہو اور میں داغ کو ناپسند کرتا ہوں۔

7658

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7658

Sahih

(۷۶۵۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اَلشِّفَائُ فِیْ ثَلَاثَۃٍ شَرْبَۃِ عَسَلٍ، وَ شَرْطَۃِ مِحْجَمٍ، وَ کَیَّۃِ نَارٍ، وَاَنْہٰی اُمَّتِیْ عَنِ الْکَیِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کا داغ لگوانے میں، البتہ میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتا ہوں۔

7659

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7659

Sahih

(۷۶۵۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ أَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِی رِجْلٍ نَسْتَأْذِنُہُ أَنْ نَکْوِیَہُ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاہُ مَرَّۃً أُخْرٰی فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: ((اِرْضِفُوہُ إِنْ شِئْتُمْ۔)) کَأَنَّہُ غَضْبَانُ۔ (مسند احمد: ۴۰۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ کے پؤں کی بیماری کی وجہ سے تیمار داری کے لئے حاضر ہوئے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم داغ لگا دیں، جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، ہم نے پھر سوال کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، جب ہم نے تیسری مرتبہ سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو گرم پتھر لگا لو۔ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں تھے۔

7660

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7660

Sahih

(۷۶۶۰)۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَوَانِی أَبُو طَلْحَۃَ وَرَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بَیْنَ أَظْہُرِنَا فَمَا نُہِیتُ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے داغ کر میرا علاج کیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، پس مجھے اس سے منع نہیں کیا گیا۔

7661

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7661

Sahih

(۷۶۶۱)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ رُمِیَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یَوْمَ أُحُدٍ بِسَہْمٍ فَأَصَابَ أَکْحَلَہُ فَأَمَرَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم فَکُوِیَ عَلٰی أَکْحَلِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے بازو کی رگ پر تیر لگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ان کے بازو پر داغا جائے۔

7662

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7662

Sahih

(۷۶۶۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ طَبِیبًا فَقَطَعَ لَہُ عِرْقًا ثُمَّ کَوَاہُ عَلَیْہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَکَوَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِیَدِہٖ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف ایک معالج کو بھیجا، جس نے ان کی رگ کو کاٹ کر اس کو داغ دیا،ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔

7663

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7663

Sahih

(۷۶۶۳)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: رُمِیَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِیْ اَکْحَلِہٖ، فَحَسَمَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِیَدِہٖ بِمِشْقَصٍ، ثُمَّ وَرِمَتْ فَحَسَمَہُ الثَانِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھل کے ساتھ ان کو داغا، پھر جب اس پر ورم آ گیا تو آپ نے دوسری بار داغا۔

7664

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7664

Zaeef

(۷۶۶۴)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کَوٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَۃَ فِی حَلْقِہِ مِنَ الذُّبْحَۃِ وَقَالَ: ((لَا أَدَعُ فِی نَفْسِی حَرَجًا مِنْ سَعْدٍ أَوْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا سیدنا اسعد بن زرارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حلق کی بیماری کی وجہ سے داغ لگایا اور فرمایا: میں اپنے دل میں سعد یا اسعد بن زرراہ کے بارے میں کوئی حرج نہیں چھوڑنا چاہتا۔

7665

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7665

Sahih

(۷۶۶۵)۔جَابِرٍ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رضي الله عنه اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَوَاہٗ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو داغا تھا۔

7666

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7666

Sahih

(۷۶۶۶)۔عَنِ ابْنِ شِہَابٍ یُحَدِّثُ: أَنَّ أَبَا أُمَامَۃَ بْنَ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ أَخْبَرَہُ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَۃَ، وَکَانَ أَحَدَ النُّقَبَاء ِ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ أَنَّہُ أَخَذَتْہُ الشَّوْکَۃُ فَجَائَ ہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُودُہُ فَقَالَ: ((بِئْسَ الْمَیِّتُ لَیَہُودُ مَرَّتَیْنِ سَیَقُولُونَ لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِہِ وَلَا أَمْلِکُ لَہُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَہُ۔)) فَأَمَرَ بِہِ وَکُوِیَ بِخَطَّیْنِ فَوْقَ رَأْسِہِ فَمَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسعد بن زرارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو عقبہ والے دن کے نقیبوں میں سے ایک تھے، سے مروی ہے کہ ان کے چہرے اور جسم پر سرخی چڑھ آئی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودیوں کی میت بہت بری ہوتی ہے، یہ بات دو مرتبہ فرمائی،عنقریب یہ یہودی کہیں گے کہ یہ پیغمبر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ساتھی سے تکلیف دور کیوں نہ کرسکے، لیکن سن لو میں اس کے نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا، تاہم میں اس تکلیف کو حتی الامکان دور کرنے کی کوشش ضرور کروں گا۔ پھر آپ نے ان کے لئے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو لکیروں کی صورت میں داغ لگایا گیا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوسکے اور وفات پا گئے۔

7667

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7667

Sahih

(۷۶۶۷)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْکَیِّ، فَاَکْتَوَیْنَا فَمَا اَفْلَحْنَا وَلَا اَنْجَحْنَا۔ (مسند احمد: ۲۰۰۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے داغ لگانے سے منع کیا ، لیکن ہم نے داغ لگوائے، پس ہم نہ کامیاب ہوئے اور نہ ہم نے نجات پائی۔

7668

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7668

Sahih

(۷۶۶۸)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنِ اکْتَوٰی اَوِ اسْتَرْقٰی فَقَدْ بَرِیئَ مِنَ التَّوَکُّلِ)) (مسند احمد: ۱۸۳۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے داغ لگوایا یا دم کروایا وہ توکل سے بری ہو گیا۔