Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 135 · Chapter 1381

طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا

بخار اور اس کے علاج کا بیان

12 hadiths in this chapter

7633

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7633

Sahih

(۷۶۳۳)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَلْحُمّٰی مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ فَاَبْرِدُوْھَا بِالْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔

7634

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7634

Sahih

(۷۶۳۴)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذَا اَحْسَسْتُمْ بِالْحُمّٰی فَاَطْفِئُوْھَا بِالْمَائِ الْبَارِدِ۔)) (مسند احمد: ۶۰۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم بخار محسوس کرو تو ٹھنڈے پانی کے ذریعے اس کے اثر کو ختم کرو۔

7635

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7635

Sahih

(۷۶۳۵)۔عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْحُمّٰی فَوْرُ جَہَنَّمَ (وَفِیْ لَفْظٍ مِنْ فَوْرِ جَہَنَّمَ) فَاَبْرِدُوْھَا بِالْمَائِ)) (مسند احمد: ۱۷۳۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کا جوش ہے، پانی کے ذریعے اس کے اثر کو زائل کیا کرو۔

7636

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7636

Sahih

(۷۶۳۶)۔وَعَنْ اَبِیْ بَشِیْرِنِ الْاَنْصَارِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم بِمِثْلِہٖ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بشیر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی مثل بیان کرتے ہیں۔

7637

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7637

Sahih

(۷۶۳۷)۔عَنْ اَبِیْ جَمْرَۃَ قَالَ: کُنْتُ اَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَاحْتُبِسْتُ اَیَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَکَ؟ قُلْتُ: اَلْحُمّٰی، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْحُمّٰی مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ فَاَبْرِدُوْھَا بِمَائِ زَمْزَمَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابوحمزہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے دور ہٹایا کرتا تھا، ایک دفعہ میں کچھ دن نہ جا سکا، پھر بعد میں جب میں گیا تو انھوں نے کہا: میرے پاس آنے میں کیا چیز رکاوٹ بنی رہی؟ میں نے کہا:جی بخار میں مبتلا ہو گیا تھا، انھوں نے کہا:بے شک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے آب زم زم کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔

7638

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7638

Sahih

(۷۶۳۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ الْحُمّٰی اَوْ شِدَّۃَ الْحُمّٰی مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ فَاَبْرِدُوْھَا بِالْمَائِ)) (مسند احمد: ۲۴۷۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار کی شدت دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔

7639

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7639

Sahih

(۷۶۳۹)۔عَنْ جَابِرٍ قَالَ اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَنْ ہٰذِہِ؟)) قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ فَأَمَرَ بِہَا إِلٰی أَہْلِ قُبَائَ، فَلَقُوا مِنْہَا مَا یَعْلَمُ اللّٰہُ فَأَتَوْہُ فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللّٰہَ لَکُمْ فَیَکْشِفَہَا عَنْکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَکُونَ لَکُمْ طَہُورًا۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوَتَفْعَلُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالُوا فَدَعْہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ بخار نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ بخار نے کہا: میں ام ملدم ہوں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے قباء والوں کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، بس پھر اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کو اس سے کیا تکلیف ہوئی، انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ،اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں، وہ اسے تم سے دور کر دے گا اور اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے گناہوں سے طہارت کا باعث بنے (تو اس طرح کر لو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واقعتا یہ گناہ صاف کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: پھر اس کو اِدھر ہی رہنے دیں۔

7640

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7640

Sahih

(۷۶۴۰)۔عَنْ اَسْمَائَ اَنَّہُ کَانَتْ اِذَا اُتِیَتْ بِالْمَرْاَۃِ لِتَدْعُوَ لَھَا صَبَّتِ الْمَائَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ جَیْبِہَا وَقَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اَمَرَنَا اَنْ نُبَرِّدَھا بِالْمَائِ، وَقَالَ: ((اِنَّہَا مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی عورت لائی جاتی تاکہ اس کے لیے بخار سے نجات کی دعا کریں، تو وہ اس عورت کے دامن میں پانی ڈالتی اور کہتی تھیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بخار کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کیا کریں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دوزخ کی بھاپ سے ہے۔

7641

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7641

Sahih

(۷۶۴۱)۔عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَلْحُمّٰی مِنْ کِیْرِ جَہَنَّمَ، فَمَا اَصَابَ الْمُوْمِنَ مِنْہَا کَانَ حَظُّہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھٹی سے ہے، مومن کو جتنا بخار ہو گا، یہ اتنا ہی اس کے لیے آگ کا حصہ ہوگا،یعنی اتنی اسے دوزخ کی آگ میں کمی ہو گی۔

7642

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7642

Zaeef

(۷۶۴۲)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یُعَلِّمُنَا مِنَ الْحُمّٰی وَالْاَوْجَاعِ: ((بِسْمِ اللّٰہِ الْکَبِیْرِ، اَعَوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارِ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں بخار اور دیگر جسمانی تکالیف کے لیے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ الْکَبِیْرِ، اَعَوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ (اللہ تعالیٰ کے نام سے، جو بہت بڑا ہے، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں خون بہانے والی رگ سے اور دوزخ کی گرمی کے شر سے)۔

7643

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7643

Zaeef

(۷۶۴۳)۔عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا أَصَابَ أَحَدَکُمُ الْحُمّٰی وَإِنَّ الْحُمّٰی قِطْعَۃٌ مِنَ النَّارِ فَلْیُطْفِئْہَا عَنْہُ بِالْمَائِ الْبَارِدِ وَلْیَسْتَقْبِلْ نَہَرًا جَارِیًا یَسْتَقْبِلُ جِرْیَۃَ الْمَائِ فَیَقُولُ: بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ وَصَدِّقْ رَسُولَکَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَیَغْتَمِسُ فِیہِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ لَمْ یَبْرَأْ فِی ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ یَبْرَأْ فِی خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ یَبْرَأْ فِی سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّہُ لَا یَکَادُ یُجَاوِزُ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو وہ اسے ٹھنڈے پانی کے ساتھ بجھائے، کیونکہ یہ دوزخ کی آگ کا ٹکڑا ہے اورجاری نہر میں چلا جائے اور پانی کے چلاؤ کی طرف رخ کرے اور یہ پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰھُمَّ اشْفِ عَبْدَکَ وَصَدِّقْ رَسُولَکَ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! اپنے اس بندے کو شفا دے اور اپنے رسول کی تصدیق فرما) نماز فجر کے بعد اور طلوع آفتاب سے پہلے اس طرح نہائے اور اس میں تین غوطے لگائے، تین دن یہی عمل دہرائے، اگر تندرست نہ ہو تو پانچ دن ایسا کر لے اور اگر پانچ دن میں صحت یاب نہ ہو تو سات دن ایسا کرے اور اگر اتنے دنوں میں بھی صحت نہ پائے تو نو دن ایسا کرے، اللہ کے حکم سے بخار نو دنوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔

7644

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7644

Zaeef

(۷۶۴۴)۔عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاۃِ سَعْدٍ قَالَتْ: جَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَکَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَکَتَ سَعْدٌ ثُمَّ عَادَ فَسَکَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَرْسَلَنِی إِلَیْہِ سَعْدٌ أَنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَکَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِیدَنَا قَالَتْ فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَی الْبَابِ یَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرٰی شَیْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ أَنْتِ؟)) قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: ((لَا مَرْحَبًا بِکِ وَلَا أَہْلًا أَتَہْدِینَ إِلٰی أَہْلِ قُبَائٍ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ((فَاذْہَبِی إِلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ ام طارق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ان سے اجازت طلب کی، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ اجازت طلب کی، وہ پھرخاموش رہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لے گئے، ام طارق کہتی ہیں: مجھے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب بھیجا کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کروں کہ ہم نے آپ کو اجازت صرف اس لیے نہیں دی کہ ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں سلام کی برکات سے مزید نوازتے رہیں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر آواز سنی کہ کوئی اجازت طلب کر رہاہے، لیکن میں اسے دیکھ نہیں رہی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں ام ملدم ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کوئی مرحبا نہیں ہے، تجھے کوئی خوش آمدید نہیں ہے، کیا تو قباء والوں کے پاس نہیں چلا جاتا؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف چلا جا۔