Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 133 · Chapter 1368

مشروبات کا بیان

شراب کو بہانے اور اس کے برتنوں کو توڑ دینے کا اور شراب کو سرکہ بنا لینے سے ممانعت کا بیان

9 hadiths in this chapter

7569

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7569

Sahih

(۷۵۶۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃِ اَھْرَاقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْخَمْرَ وَکَسَّرَ جِرَارَہٗ وَنَہٰی عَنْ بَیْعِہٖ وَبَیْعِ الْاَصْنَامِ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کو بہا دیا اور اس کے مٹکوں کو توڑ دیا اور اس کی اور بتوں کی خریدو فروخت سے منع کر دیا۔

7570

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7570

Sahih

(۷۵۷۰)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ اَبَا طَلْحَۃَ سَاَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ اَیْتَامِ وَرِثُوْا خَمْرًا، فَقَالَ: ((اَھْرِقْہَا۔)) قَالَ: اَفَلَا نَجْعَلُہَا خَلًّا؟ قَال:((لَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا کہ چند یتیم ہیں، جنہیں شراب وراثت میں ملی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو۔ انھوں نے کہا: کیا ہم اسے سرکہ نہ بنا لیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔

7571

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7571

Sahih

(۷۵۷۱)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ فِیْ حِجْرِ اَبِیْ طَلْحَۃَ یَتَامٰی فَابْتَاعَ لَھُمْ خَمْرًا، فَلَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلمفَقَالَ: اَصْنَعُہٗ خَلًا؟ قَالَ: ((لَا۔))، قَالَ: فَاَھْرَاقَہٗ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں کچھ یتیم بچے تھے، انہوں نے ان کے لیے شراب خریدی، (لیکن ابھی تک وہ پڑی تھی کہ)شراب حرام ہو گئی، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اوردریافت کیا کیا میں اس کا سرکہ بنا لوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پس انھوں نے وہ شراب بہا دی۔

7572

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7572

Sahih

(۷۵۷۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِیَہُ بِمُدْیَۃٍ وَہِیَ الشَّفْرَۃُ فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَأَرْسَلَ بِہَا فَأُرْہِفَتْ ثُمَّ أَعْطَانِیہَا وَقَالَ: ((اُغْدُ عَلَیَّ بِہَا۔)) فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِہِ إِلٰی أَسْوَاقِ الْمَدِینَۃِ وَفِیہَا زِقَاقُ خَمْرٍ، قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ فَأَخَذَ الْمُدْیَۃَ مِنِّی فَشَقَّ مَا کَانَ مِنْ تِلْکَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِہِ ثُمَّ أَعْطَانِیہَا وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ الَّذِینَ کَانُوا مَعَہُ أَنْ یَمْضُوا مَعِی وَأَنْ یُعَاوِنُونِی وَأَمَرَنِی أَنْ آتِیَ الْأَسْوَاقَ کُلَّہَا فَلَا أَجِدُ فِیہَا زِقَّ خَمْرٍ إِلَّا شَقَقْتُہُ فَفَعَلْتُ فَلَمْ أَتْرُکْ فِی أَسْوَاقِہَا زِقًّا إِلَّا شَقَقْتُہُ۔ (مسند احمد: ۶۱۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس چھری لاؤں، میں چھری لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چھری تیز کرنے کے لیے بھیجی، پس اس کو تیز کیا گیا، پھر مجھے دے دی اور فرمایا: یہ چھری لے کر صبح کو میرے پاس آنا۔ پس میں نے ایسے ہی کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے بازاروں میں نکلے، بازاروں میں شراب کی مشکیں تھیں، جو شام سے لائی گئی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے وہ چھری لے لی اور جومشکیں موجود تھیں، ان سب کو چاک کر دیا، اور پھر چھری مجھے دے دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جتنے ساتھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے تعاون کریں اور مجھے حکم دیا کہ میں بازاروں میں جاؤں اور شراب کی جو بھی مشک پاؤں، اسے پھاڑ ڈالوں، پس میں نے ایسے ہی کیا، میں نے بازاروں میں کوئی شراب کی ایسی مشک نہ چھوڑی، جسے میں نے چیر نہ ڈالا ہو۔

7573

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7573

Sahih

(۷۵۷۳)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ إِنِّی یَوْمَئِذٍ لَأَسْقِیہِمْ لَأَسْقِی أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَمَرُونِی فَکَفَأْتُہَا وَکَفَأَ النَّاسُ آنِیَتَہُمْ بِمَا فِیہَا حَتّٰی کَادَتٰ السِّکَکُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِیحِہَا قَالَ أَنَسٌ وَمَا خَمْرُہُمْ یَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَیْنِ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّہُ کَانَ عِنْدِی مَالُ یَتِیمٍ فَاشْتَرَیْتُ بِہِ خَمْرًا أَفَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَبِیعَہُ فَأَرُدَّ عَلَی الْیَتِیمِ مَالَہُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُودَ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمْ الثُّرُوبُ فَبَاعُوہَا وَأَکَلُوا أَثْمَانَہَا۔)) وَلَمْ یَأْذَنْ لَہُمْ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَیْعِ الْخَمْرِ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو سیدنا انس کہتے ہیں: میں اس دن ساتھیوں کوشراب پلا رہا تھا، کل گیارہ آدمی تھے، جنہیں میں نے شراب پلائی، پھر حرام ہونے کے بعد انہوں نے مجھے حکم دیا میں شراب انڈیل دوں، میں نے بھی انڈیل دی اور لوگوں نے بھی اپنے اپنے برتن انڈیل دیئے، گلیاں شراب کی بدبو سے بھر گئیں، چلنا مشکل ہو رہا تھا، ان دنوں ان کی شراب زیادہ کچی کھجور اورخشک کھجور سے ملا کر تیار کی گئی تھی، ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے پاس یتیموں کامال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، (جبکہ اب شراب تو حرام ہو گئی ہے) تو کیا آپ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ میں وہ فروخت کرکے ان کا مال بچا لوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودیوں کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرے، ان پرچربی حرام تھی، انہوں نے اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھا گئے۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوشراب فروخت کرنے کی اجازت نہ دی۔

7574

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7574

Sahih

(۷۵۷۴)۔عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ: اِنَّ عِنْدَنَا خَمْرًا لِیَتِیْمٍ لَنَا، فَاَمَرَنَا فَاَھْرَقْنَاھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۲۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کی کہ ہمارے پاس یتیموں کی شراب ہے، اس کا کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اس شراب کو بہا دیا۔

7575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7575

Sahih

(۷۵۷۵)۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ کُنْتُ أَسْقِی أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَسُہَیْلَ ابْنَ بَیْضَائَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِہِ عِنْدَ أَبِی طَلْحَۃَ وَأَنَا أَسْقِیہِمْ حَتّٰی کَادَ الشَّرَابُ أَنْ یَأْخُذَ فِیہِمْ فَأَتٰی آتٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ: أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ؟ فَمَا قَالُوا حَتّٰی نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ فَقَالُوا: یَا أَنَسُ! اکْفِ مَا بَقِیَ فِی إِنَائِکَ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَادُوا فِیہَا وَمَا ہِیَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَہِیَ خَمْرُہُمْ یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۹۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ بن جراح، سیدنا ابی بن کعب، سیدنا سہیل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کوسیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں شراب پلا رہا تھا، تقریباً شراب اپنا اثر ان میں دکھا رہی تھی کہ ایک مسلمان آیا اور اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ شراب حرام ہو چکی ہے؟ انہوں نے جواباً یہ نہیں کہا کہ اچھا ہم دیکھتے ہیں یا کسی اور سے پوچھتے ہیں، بلکہ انہوں نے فوراً حکم دیا: اے انس! جو برتن میں باقی ہے، اسے انڈیل دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد انہوں نے شراب کودیکھا تک نہیں، اس دور میں وہ عام طور پر شراب خشک کھجور اور کچی کھجور سے بناتے تھے۔

7576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7576

Sahih

(۷۵۷۶)۔عَنْ طَارَقِ بْنِ سُوَیْدِ نِ الْحَضْرَمِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ بِاَرْضِنَا اَعْنَابًا نَعْتَصِرُھَا فَنَشْرَبُ مِنْہَا، قَالَ: ((لا۔)) فَعَاوَدْتُہٗ؟ فَقَالَ: ((لا۔)) فَقُلْتُ: اِنَّا نَسْتَشْفِیْ بِہَا لِلْمَرِیْضِ، فَقَالَ: ((اِنَّ ذَاکَ لَیْسَ شِفَائً ا وَلٰکِنَّہُ دَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا طاربق بن سوید حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دوہرائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔

7577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7577

Sahih

(۷۵۷۷)۔عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلًا یُقَالُ لَہُ سُوَیْدُ بْنُ طَارِقٍ سَاَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْخَمْرِ فَنَہَاہٗ عَنْہَا، فَقَالَ: اِنِّیْ اَصْنَعُہَا لِلدَّوَائِ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّہَا دَائٌ وَلَیْسَتْ بِدَوَائٍ)) (مسند احمد: ۱۹۰۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا وائل حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سوید بن طارق نامی ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شراب کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پینے سے روک دیا، اس نے کہا: میں دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ تو بیماری ہے اور دوا نہیں ہے۔