Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 134 · Chapter 1369

شکار اور ذبائح کا بیان

سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان

3 hadiths in this chapter

7578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7578

Sahih

(۷۵۷۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیَّ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی کِلَابًا مُکَلَّبَۃً فَأَفْتِنِی فِی صَیْدِہَا، فَقَالَ: ((إِنْ کَانَتْ لَکَ کِلَابٌ مُکَلَّبَۃٌ فَکُلْ مِمَّا أَمْسَکَتْ عَلَیْکَ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ذَکِیٌّ وَغَیْرُ ذَکِیٍّ؟ قَالَ: ((ذَکِیٌّ وَغَیْرُ ذَکِیٍّ۔)) قَالَ: وَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ، قَالَ: ((وَإِنْ أَکَلَ مِنْہُ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَفْتِنِی فِی قَوْسِی، قَالَ: ((کُلْ مَا أَمْسَکَتْ عَلَیْکَ قَوْسُکَ۔)) قَالَ: ذَکِیٌّ وَغَیْرُ ذَکِیٍّ؟ قَالَ: ((ذَکِیٌّ وَغَیْرُ ذَکِیٍّ۔)) قَالَ: وَإِنْ تَغَیَّبَ عَنِّی؟ قَالَ: ((وَإِنْ تَغَیَّبَ عَنْکَ مَا لَمْ یَصِلَّ یَعْنِی یَتَغَیَّرْ أَوْ تَجِدْ فِیہِ أَثَرَ غَیْرِ سَہْمِکَ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! َٔفْتِنَا فِی آنِیَۃِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَیْہَا، قَالَ: ((إِذَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْہَا فَاغْسِلُوہَا بِالْمَاء ِ وَاطْبُخُوا فِیہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں، مجھے ان کے شکار کے بارے میں تفصیل بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس شکاری کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے روکیں، وہ کھانا جائزہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ! ذبح ہو سکے یا نہ سکے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ذبح کر سکو یا نہ کر سکو، دونوں صورتوں میں جائز ہو گا۔ انھوں نے کہا: اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کمان سے شکار کئے ہوئے جانور کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم کمان کے ذریعے شکار کر لو، اس کو کھا لو۔ انہوں نے کہا: خواہ ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، ذبح کر سکو یا ذبح نہ کر سکو۔ انہوں نے کہا: اگروہ شکار نظروں سے اوجھل ہو جائے تو پھر بھی جائز ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگروہ غائب ہوجائے تو اس وقت تک جائز ہے، جب تک اس میں تغیر سے بدبو پیدا نہ ہوئی ہو یا اس میں تمہارے لگے ہوئے تیر کے علاوہ کسی اور تیر کا نشان نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم مجبور ہوں تو مجوسیوں کے برتن میں کھانے کے متعلق فتویٰ جاری فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم ان کے برتنوں میں کھانے پر مجبور ہو تو انہیں پانی سے دھو لو اور پھر ان میں کھانا پکا لو۔

7579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7579

Sahih

(۷۵۷۹)۔عَنْ أَبِی ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ أَنَّہُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا بِأَرْضِ أَہْلِ کِتَابٍ أَفَنَأْکُلُ فِی آنِیَتِہِمْ وَإِنَّا فِی أَرْضِ صَیْدٍ أَصِیدُ بِقَوْسِی وَأَصِیدُ بِکَلْبِی الْمُعَلَّمِ وَأَصِیدُ بِکَلْبِی الَّذِی لَیْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَأَخْبِرْنِی مَاذَا یَصْلُحُ؟ قَالَ: ((أَمَّا مَا ذَکَرْتَ أَنَّکُمْ بِأَرْضِ أَہْلِ کِتَابٍ تَأْکُلُ فِی آنِیَتِہِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَیْرَ آنِیَتِہِمْ فَلَا تَأْکُلُوا فِیہَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَیْرَ آنِیَتِہِمْ فَاغْسِلُوہَا ثُمَّ کُلُوا فِیہَا وَأَمَّا مَا ذَکَرْتَ أَنَّکُمْ بِأَرْضِ صَیْدٍ فَإِنْ صِدْتَ بِقَوْسِکَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللّٰہِ فَکُلْ وَمَا صِدْتَ بِکَلْبِکَ الْمُعَلَّمِ فَاذْکُرْ اسْمَ اللّٰہِ ثُمَّ کُلْ وَمَا صِدْتَ بِکَلْبِکَ الَّذِی لَیْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَکْتَ ذَکَاتَہُ فَکُلْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا! اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں اورہم ایسی سر زمین میں ہیں، جو شکار کے لیے سازگار ہے، میں اپنے کمان یا سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ شکار کرتاہوں اور اپنے اس کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں جو سدھایا ہوا نہیں، اب آپ ان کے بارے میں فرمائیں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ ہم اہل کتاب کی سر زمین میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھانے کا کیا حکم ہے، تو اس بارے میں فتویٰ یہ ے کہ اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن پاؤ تو پھر ان میں نہ کھاؤ، اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن نہیں پاتے ہو تو ان کو دھو لو اور ان میں کھا لو۔جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار والی زمین میں ہو، اگر تم نے اپنے تیر کمان سے شکار کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی تو پھر وہ شکار کھا لو اور جب تم نے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے بسم اللہ پڑھی تھی تو وہ شکار بھی کھا لو اور جو تم نے نہ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کیا ہے، اگر اسے ذبح کر لو تو اس کو بھی کھا لو اور اگر وہ ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو پھر نہ کھانا۔

7580

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7580

Sahih

(۷۵۸۰)۔عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَنِی الْإِسْلَامَ وَنَعَتَ لِی الصَّلَاۃَ وَکَیْفَ أُصَلِّی کُلَّ صَلَاۃٍ لِوَقْتِہَا، ثُمَّ قَالَ لِی: ((کَیْفَ أَنْتَ یَا ابْنَ حَاتِمٍ إِذَا رَکِبْتَ مِنْ قُصُورِ الْیَمَنِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ حَتّٰی تَنْزِلَ قُصُورَ الْحِیرَۃِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَأَیْنَ مَقَانِبُ طَیِّئٍ وَرِجَالُہَا، قَالَ: ((یَکْفِیکَ اللّٰہُ طَیِّئًا وَمَنْ سِوَاہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَیَّدُ بِہٰذِہِ الْکِلَابِ وَالْبُزَاۃِ فَمَا یَحِلُّ لَنَا مِنْہَا؟ قَالَ: ((یَحِلُّ لَکُمْ {مَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِینَ تُعَلِّمُونَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ فَکُلُوا مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ} فَمَا عَلَّمْتَ مِنْ کَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَ وَذَکَرْتَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ فَکُلْ مِمَّا أَمْسَکَ عَلَیْکَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَکَہُ عَلَیْکَ۔)) قُلْتُ: أَفَرَأَیْتَ إِنْ خَالَطَ کِلَابَنَا کِلَابٌ أُخْرٰی حِینَ نُرْسِلُہَا؟ قَالَ: ((لَا تَأْکُلْ حَتّٰی تَعْلَمَ أَنَّ کَلْبَکَ ہُوَ الَّذِی أَمْسَکَ عَلَیْکَ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِی بِالْمِعْرَاضِ فَمَا یَحِلُّ لَنَا؟ قَالَ: ((لَا تَأْکُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَکَّیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور وضاحت کی کہ میں نے کیسے ہر نماز اس کے وقت پر پڑھنی ہے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا: اے ابن حاتم! تیری اس وقت کیا حالت ہو گی جب تو یمن کے قلعوں پر چڑھے گا، تجھے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا حتی کہ تو حیرہ کے قلعوں میں اترے گا، وہ کہتے ہیں ،میں نے پوچھا :طی قبیلہ کے شہسوار اور پیادہ (جرائم پیشہ) لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے طی اور دیگر لوگوں سے کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ کتوں اور بازوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں، ہمارے لیے ان کے شکار میں سے کیا حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شکاری کتے تم نے سدھائے ہیں، اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے، ان کے روکے ہوئے شکار کو کھا سکتے ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہو اور جو کتایا باز تم نے چھوڑا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے، تو وہ جو شکار روک کر رکھیں، وہ کھا لو۔ میں نے کہا: اگرچہ یہ شکار کو مار بھی دیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ یہ مار بھی دیں، لیکن شکار سے خود نہ کھایا ہو تو انہوں نے شکار تمہارے لیے روکا ہے۔ میں نے کہا: اب یہ فرمائیں کہ چھوڑتے وقت اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے مل جل جاتے ہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک شکار نہ کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ شکار تمہارے کتے نے ہی کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تیر کے درمیانی موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شکار تیر کے اس حصے سے مر جائے، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ خود ذبح کر لو۔