Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7527
(۷۵۲۷)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ غَسَّانَ التَّیْمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کَانَ اَبِیْ فِی الْوَفْدِ الَّذِیْنَ وَفَدُوْا عَلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ عَبْدِ قَیْسٍ فَنَہَاہُمْ عَنْ ہٰذِہِ الْأَوْعِیَۃِ قَالَ فَأَتْخَمْنَا ثُمَّ أَتَیْنَاہُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّکَ نَہَیْتَنَا عَنْ ہٰذِہِ الْأَوْعِیَۃِ، فَأَتْخَمْنَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنْتَبِذُوا فِیمَا بَدَا لَکُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْکِرًا فَمَنْ شَائَ أَوْکَأَ سِقَائَہُ عَلَی إِثْمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۴۵)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ یحییٰ بن غسان تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ابا جان اس وفد میں تھے، جو عبد قیس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا، آپ نے انہیں ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تھا، وہ کہتے ہیں: ہم نے ان برتنوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم وبا زدہ ہو گئے تھے، جب ہم آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور ہمارا علاقہ وبائی ہے، ہم وبا زدہ ہو گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جس برتن میں چاہو نبیذ بنا سکتے ہو، بس نشہ آور چیز نہ پینا،جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ بند کر سکتا ہے۔