Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 133 · Chapter 1364

مشروبات کا بیان

وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے

17 hadiths in this chapter

7538

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7538

Sahih

(۷۵۳۸)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مِنَ الْحِنْطَۃِ خَمْرٌ، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرٌ، وَمِنَ الشَّعِیْرِ خَمْرٌ، وَمِنَ الزَّبِیْبِ خَمْرٌ، وَمِنَ الْعَسْلِ خَمْرٌ۔)) (مسند احمد: ۵۹۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گندم سے شراب بنتی ہے، کھجور سے شراب ہوتی ہے، جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، منقّی سے شراب ہے اور شہد سے شراب تیار کی جاتی ہیں۔

7539

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7539

Sahih

(۷۵۳۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ رَفَعَہُ قَالَ: ((اِنَّ مِنَ الزَّبِیْبِ خَمْرًا، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنَ الْحِنْطَۃِ خَمْرًا، وَمِنَ الشَّعِیْرِ خَمْرًا، وَمِنَ الْعَسْلِ خَمْرًا)) (مسند احمد: ۱۸۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: منقّی، کھجور، گندم، جو اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے۔

7540

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7540

Sahih

(۷۵۴۰)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْخَمْرُ مِنْ ھَاتَیْنِ الشَّجَرَتَیْنِ مِنَ الْنَخْلَۃِ وَالْعِنَبَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور کے پھلوں سے بنائی جاتی ہے۔

7541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7541

Sahih

(۷۵۴۱)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، وَالْبِتْعُ نَبِیذُ الْعَسَلِ، وَکَانَ أَہْلُ الْیَمَنِ یَشْرَبُونَہُ، فَقَالَ: ((کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ فَہُوَ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان فرماتی ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بتع کے متعلق سوال کیا گیا، بتع شہد سے بنائی گئی نبیذ کو کہتے ہیں اور یمن والے یہ مشروب پیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہے، وہ حرام ہے۔

7542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7542

Sahih

(۷۵۴۲)۔عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنِّی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَۃٌ فَذَکَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ، فَقَالَ: اِجْتَنِبْ مَا أَسْکَرَ مِنْ زَبِیبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوٰی ذٰلِکَ، قَالَ: مَا تَقُولُ فِی نَبِیذِ الْجَرِّ؟ قَالَ: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عیینہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماکے پاس آیا اور کہا: میں خراسان کارہنے والا ہوں اور ہماراعلاقہ ٹھنڈا ہے، پھر اس نے مشروبات کی کئی قسمیں بیان کیں، انہوں نے کہا: جو چیز بھی نشہ دے، تو اس سے اجتناب کر، وہ منقّی سے بنی ہو یا کھجورسے ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس نے کہا: مٹکے میں بنائی گئی نبیذ کے متعلق کیا خیال ہے؟ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مٹکے میں بنائی گئی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔

7543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7543

Sahih

(۷۵۴۳)۔عَنْ سَلَامِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ یَعْنِی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ، مَا اَسْکَرَ کَثِیْرُہُ فَقَلِیْلُہُ حَرَامٌ)) (مسند احمد: ۵۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز نشہ پیدا کرے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔

7544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7544

Sahih

(۷۵۴۴)۔عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَ کُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ۔)) (مسند احمد: ۴۸۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اورہر شراب حرام ہے۔

7545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7545

Sahih

(۷۵۴۵)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَا اَسْکَرَ کَثِیْرُہُ فَقَلِیْلُہُ حَرَامٌ)) (مسند احمد: ۶۵۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرتی ہے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔

7546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7546

Sahih

(۷۵۴۶)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

7547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7547

Sahih

(۷۵۴۷)۔عَنْ عَائَشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَا اَسْکَرَ الْفَرَقُ مِنْہُ اِذَا شَرِبْتَہُ فَمِلْئُ الْکَفِّ مِنْہُ حَرَامٌ)) (مسند احمد: ۲۴۹۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کا ایک فرق نشہ پیدا کر دے، اس سے ایک لپ بھر پینا بھی حرام ہو گا۔

7548

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7548

Sahih

(۷۵۴۸)۔عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ: اُمَّ سَلَمَۃَ تَقُوْلُ: نَہٰی رَسُوْلُ اللہ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ کُلِّ مُکْسِرٍ وَ مُفْتِرٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہرفتور پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔

7549

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7549

Sahih

(۷۵۴۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ إِدْرِیسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنِ الشُّرْبِ فِی الْأَوْعِیَۃِ، فَقَالَ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَفَّتَۃِ وَقَالَ: ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْمُزَفَّتَۃُ؟ قَالَ: الْمُقَیَّرَۃُ، قَالَ: قُلْتُ: فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَۃُ؟ قَالَ: مَا بَأْسٰ بِہِمَا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا یَکْرَہُونَہُمَا، قَالَ: ((دَعْ مَا یَرِیبُکَ إِلٰی مَا لَا یَرِیبُکَ، فَإِنَّ کُلَّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔)) قَالَ قُلْتُ لَہُ: صَدَقْتَ، السُّکْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَۃُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلٰی طَعَامِنَا؟ قَالَ: مَا أَسْکَرَ کَثِیرُہُ فَقَلِیلُہُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیرِ وَالذُّرَۃِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذٰلِکَ فَہِیَ الْخَمْرُ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے برتنوں میں مشروب پینے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تارکول والے برتن سے منع کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: کچ اور شیشے کے برتن کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کہا: کچھ لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے، اسے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک کہ شک ختم نہ ہو جائے اور بے شک ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد اگر ایک دو گھونٹ پی لیں تو؟ انہوں نے کہا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کر دے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے، شراب انگور سے ہوتی ہے، کھجور سے ہوتی ہے، شہد سے ہوتی ہے، گندم سے ہوتی ہے، جو سے ہوتی ہے، مکئی سے ہوتی ہے، ان میں سے جو بھی تو شراب بنائے گا، یہ وہ شراب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔

7550

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7550

Zaeef

(۷۵۵۰)۔عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِنْتِ أَبِی سُفْیَانَ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ قَدِمُوا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْلَمَہُمْ الصَّلَاۃَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ، ثُمَّ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُہُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِیرِ، قَالَؒ فَقَالَ: ((الْغُبَیْرَائُ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((لَا تَطْعَمُوہُ۔)) ثُمَّ لَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ بِیَوْمَیْنِ ذَکَرُوہُمَا لَہُ أَیْضًا فَقَالَ: ((الْغُبَیْرَائُ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((لَا تَطْعَمُوہُ۔)) ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ یَنْطَلِقُوا سَأَلُوہُ عَنْہُ فَقَالَ: ((الْغُبَیْرَائُ؟)) قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: ((لَا تَطْعَمُوہُ۔)) قَالُوا فَإِنَّہُمْ لَا یَدَعُونَہَا قَالَ: ((مَنْ لَمْ یَتْرُکْہَا فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ غبیراء؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔

7551

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7551

Sahih

(۷۵۵۱)۔عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی حَرَّمَ عَلَیَّ الْخَمْرَ وَالْکُوْبَۃَ وَالْقِنِّیْنَ، وَاِیَّاکُمْ وَالْغُبَیْرَائَ فَاِنَّہَا ثُلُثُ خَمْرِ الْعَالَمِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میرے رب نے میرے اوپر شراب، ڈھولک بجانا اور رومیوں والا جوا کھیلنا حرام کیا ہے اور غبیراء سے بچو، (یہ غبیراء جو گندم اور جو سے تیار کی جاتی ہے) یہ پوری دنیا کی شرابوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔

7552

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7552

Sahih

(۷۵۵۲)۔عَنْ دَیْلَمٍ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ رضي الله عنه فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَۃٍ نُعَالِجُ بِہَا عَمَلًا شَدِیدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ ہٰذَا الْقَمْحِ نَتَقَوّٰی بِہِ عَلٰی أَعْمَالِنَا وَعَلٰی بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ: ((ہَلْ یُسْکِرُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: ((فَاجْتَنِبُوہُ۔)) قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ فَقُلْتُ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((ہَلْ یُسْکِرُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاجْتَنِبُوہُ۔)) قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَیْرُ تَارِکِیہِ قَالَ: ((فَإِنْ لَمْ یَتْرُکُوہُ فَاقْتُلُوہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا دیلم حمیری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ ہماری سر زمین ٹھنڈک والی ہے اور ہماری محنت بہت سخت ہے، ہم گندم سے ایک شراب تیار کرتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم قوت حاصل کرتے ہیں تاکہ عملی مشقت اور علاقے کی ٹھنڈک پر قابو پائیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے کہا: جی وہ نشہ آور تو ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے اجتناب کرو اور اسے نہ پیو۔ میں سامنے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہی سوال دوہرایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس سے بچو۔ میں نے کہا: لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔

7553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7553

Sahih

(۷۵۵۳)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَیْشَانَ وَجَیْشَانُ مِنَ الْیَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ شَرَابٍ یَشْرَبُونَہُ بِأَرْضِہِمْ مِنَ الذُّرَۃِ، یُقَالُ لَہُ الْمِزْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَمُسْکِرٌ ہُوَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ وَإِنَّ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ عَہْدًا لِمَنْ یَشْرَبُ الْمُسْکِرَ أَنْ یَسْقِیَہُ مِنْ طِینَۃِ الْخَبَالِ۔)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَمَا طِینَۃُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: ((عَرَقُ أَہْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَۃُ أَہْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جیشان کا ایک آدمی آیا، جیشان یمن کا علاقہ ہے، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک شراب کے متعلق دریافت کیا، جسے وہ پیتے تھے، وہ ان کے ہاں تیار کی جاتی تھی، اس کا نام مزر تھا، وہ مکئی سے تیار کرتے تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ جونشہ آور چیز پیے گا، وہ اسے طینہ الخبال سے پلائے گا۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے یا ان کے زخموں سے بہنے والا مادہ ہے۔

7554

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7554

Sahih

(۷۵۵۴)۔عَنِ ابْنِ شَرَاحِیلَ بْنِ بُکَیْلٍ عَنِ أَبِیہِ شُرَاحْبِیلَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ لِی أَرْحَامًا بِمِصْرَ یَتَّخِذُونَ مِنْ ہٰذِہِ الْأَعْنَابِ قَالَ وَفَعَلَ ذٰلِکَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ لَا تَکُونُوا بِمَنْزِلَۃِ الْیَہُودِ حُرِّمَتْ عَلَیْہِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوہَا وَأَکَلُوا أَثْمَانَہَا۔ قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا فَعَصَرَہُ فَشَرِبَہُ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ، فَلَمَّا سِرْتُ قَالَ مَا حَلَّ شُرْبُہُ حَلَّ بَیْعُہٗ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ شراحبیل بن بکیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے کہا: میرے مصر میں کچھ رشتہ دار رہتے ہیں، وہ انگور سے شراب تیار کرتے ہیں، انھوں نے کہا: کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی یہ کام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: یہودیوں کی طرح کی روش اختیار نہ کرو، ان پر چربی حرام قرار دی گئی، لیکن انہوں نے اسے فروخت کیااور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔ میں نے کہا: آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے، جو انگور کا ایک گچھا لیتا ہے اور اسے نچور کر پی لیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب میں چلا تو انھوں نے کہا: جس چیز کا پینا حلال ہے، اس چیز کا فروخت کرنا بھی حلال ہے۔