Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 132 · Chapter 1326

ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے

بجو کے حلال ہونے کا بیان

3 hadiths in this chapter

7303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7303

Sahih

(۷۳۰۳)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ عَمَّارٍ قَالَ: سَاَلْتُ جَابِرًا فَقُلْتُ: اَلضَّبُعُ آکُلُہَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: اَصَیْدٌ ھِیَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: اَ سَمِعْتَ ذَاکَ مِنْ نَبِیِّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ الرحمن بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: کیا میں بجو کا گوشت کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔

7304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7304

Sahih

(۷۳۰۴)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیدَ السَّعْدِیِّ قَالَ أَمَرَنِی نَاسٌ مِنْ قَوْمِی أَنْ أَسْأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنْ سِنَانٍ یُحَدِّدُونَہُ وَیُرَکِّزُونَہُ فِی الْأَرْضِ فَیُصْبِحُ وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ أَتُرَاہُ ذَکَاتَہُ قَالَ فَجَلَسْتُ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فَإِذَا عِنْدَہُ شَیْخٌ أَبْیَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ لِی: وَإِنَّکَ لَتَأْکُلُ الضَّبُعَ؟ قَالَ: قُلْتُ مَا أَکَلْتُہَا قَطُّ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِی لَیَأْکُلُونَہَا قَالَ فَقَالَ: إِنَّ أَکْلَہَا لَا یَحِلُّ، قَالَ فَقَالَ الشَّیْخُ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ! أَلَا أُحَدِّثُکَ بِحَدِیثٍ سَمِعْتُہُ مِنْ أَبِی الدَّرْدَائِ یَرْوِیہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی قَالَ فَإِنِّی سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ یَقُولُ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کُلِّ ذِی خِطْفَۃٍ وَعَنْ کُلِّ نُہْبَۃٍ وَعَنْ کُلِّ مُجَثَّمَۃٍ وَعَنْ کُلِّ ذِی نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، قَالَ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ: صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن یزید سعدی کہتے ہیں: میری قوم میں سے کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کروں کہ لوگ نیزے کی نوک تیز کر کے اسے زمین پر گاڑھ دیتے ہیں، اس سے بجو مارا جاتا ہے، کیا اس طرح ذبح کرنا آپ کی رائے میں درست ہے؟ پس میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھ گیا، ان کے پاس ایک بزرگ تشریف فرما تھے، جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ شامی تھے، میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تو بجو کھاتا ہے؟ میں نے کہا: میں نے تو کبھی نہیں کھایا، البتہ میری قوم کے لوگ کھاتے ہیں، انہوں نے کہا: بجو کھانا حلال نہیں، بزرگ نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا میں تجھے وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے اور وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، ضرور بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان چیزوں سے منع کیا ہے: زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والا حصہ، لوٹا ہوا مال، جس جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بنایا جائے اور ہر کچلی والا درندہ۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں: بزرگ نے سچ کہا ہے۔

7305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7305

Sahih

(۷۳۰۵)۔(عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) سَاَلْتُ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الضَّبُعِ فَکَرِھَہَا، فَقُلْتُ لَہُ: اِنَّ قَوْمَکَ یَاْکُلُوْنَہُ، قَالَ: لَا یَعْلَمُوْنَ، فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَہُ: سَمِعْتُ اَبَا الدَّرْدَائِ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ الْمُتَقَدِّمِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے بجو کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا، میں نے کہا: آپ کی قوم تو کھاتی ہے، انھوں نے کہا: ان کو علم نہیں ہے، ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا: میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔