Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 132 · Chapter 1325

ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے

سانڈا کھانے کا بیان

15 hadiths in this chapter

7288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7288

Sahih

(۷۲۸۸)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ یُحَرِّمِ الضَّبَّ وَلٰکِنْ قَذِرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سانڈا کو حرام قرار نہیں دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے۔

7289

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7289

Sahih

(۷۲۸۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خَالَتَہُ أُمَّ حُفَیْدٍ أَہْدَتْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا قَالَ فَأَکَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الْأَقِطِ وَتَرَکَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا فَأُکِلَ عَلٰی مَائِدَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَوْ کَانَ حَرَامًا لَمْ یُؤْکَلْ عَلٰی مَائِدَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَنْ قَالَ لَوْ کَانَ حَرَامًا؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے گھی، سانڈا اور پنیر کا تحفہ بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھی کھایا اور پنیر میں سے بھی کچھ کھایا، البتہ کراہت اور گھن محسوس کرتے ہوئے سانڈا کا گوشت نہ کھایا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دستر خوان پر سانڈا کا گوشت کھایا گیا، اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دستر خوان پر تو نہ کھایا جاتا۔ ابوبشر کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر یہ جانور حرام ہوتا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا یہ بات کس نے کہی ہے، انہو ں نے کہا: یہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا ہے۔

7290

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7290

Sahih

(۷۲۹۰)۔حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الْأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا رَجُلٌ فَأَتٰی بِخِوَانٍ عَلَیْہِ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ ضَبًّا قَالَ وَذَاکَ عِشَائً فَآکِلٌ وَتَارِکٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُہُ فَأَکْثَرَ فِی ذٰلِکَ جُلَسَاؤُہُ حَتّٰی قَالَ بَعْضُہُمْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَا آکُلُہُ وَلَا أُحَرِّمُہُ۔)) قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بِئْسَمَا قُلْتُمْ إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا، ثُمَّ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَیْمُونَۃَ وَعِنْدَہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَامْرَأَۃٌ فَأُتِیَ بِخِوَانٍ عَلَیْہِ خُبْزٌ وَلَحْمُ ضَبٍّ، قَالَ فَلَمَّا ذَہَبَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَنَاوَلُ قَالَتْ لَہُ مَیْمُونَۃُ: إِنَّہُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَحْمُ ضَبٍّ فَکَفَّ یَدَہُ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَحْمٌ لَمْ آکُلْہُ وَلٰکِنْ کُلُوا۔)) قَالَ فَأَکَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ وَالْمَرْأَۃُ قَالَ وَقَالَتْ مَیْمُونَۃُ: لَا آکُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ یزید بن اصم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے ہماری دعوت کی، جب دستر خوان لگایا گیا تو اس پر تیرہ سانڈے سالن کے طور پر رکھے گئے، یہ عشاء کا وقت تھا، بعض نے کھا لیے اور بعض نے نہ کھائے، جب صبح ہوئی تو ہم سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماکے پاس گئے اورمیں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، ان کے قریب بیٹھنے والوں نے تو بہت باتیں کیں، یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ نہ میں اسے کھاتاہوں اور نہ میں اسے حرام قرار دیتاہوں۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمانے کہا: تم نے اچھی بات نہیں کہی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حلال یا حرام قرار دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، پھر انھوں نے کہا:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ایک عورت بھی تھی، ایک دستر خوان لایا گیا، جس میں روٹی اور سانڈے کا گوشت تھا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کھانا تناول فرمانے لگے تو سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سانڈے کا گوشت ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: میں اس قسم کا گوشت نہیں کھاتا، البتہ تم لوگ کھا لو۔ سیدنا فضل بن عباس، سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور اس عورت نے یہ کھانا کھایا، البتہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے انکار کیا تھا کہ میں وہ کھانا نہیں کھاتی، جسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے سے انکار دیا ہے۔

7291

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7291

Sahih

(۷۲۹۱)۔وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الضَّبِّ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ لَا آکلُہُ وَلَا اَنْہٰی عَنْہ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَلَا یَاْتِیَنَّ الْمَسْجِدَ۔ (مسند احمد: ۴۶۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سانڈا کے گوشت کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کو کھانے سے منع کرتا ہوں۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اس درخت یعنی لہسن میں سے کچھ کھائے ، وہ مسجد میں ہرگز نہ آئے۔

7292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7292

Sahih

(۷۲۹۲)۔وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَدْ اُتِیَ بِہِ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم یَعْنِی الضَّبَّ فَلَمْ یَاْکُلْہُ وَلَمْ یُحَرِّمْہُ۔ (مسند احمد: ۴۴۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈا کا گوشت لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ کھایا اور نہ اس کو حرام قراردیا۔

7293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7293

Sahih

(۷۲۹۳)۔عَنْ ثَابِتِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ وَدَاعَۃَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ اصْطَدْنَا ضِبَابًا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ قَالَ فَطَبَخَ النَّاسُ وَشَوَوْا قَالَ فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَیْتُہُ فَأَتَیْتُ بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَہُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ یُقَلِّبُ بِہِ أَصَابِعَہُ أَوْ یَعُدُّہَا ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ أُمَّۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِی الْأَرْضِ وَإِنِّی لَا أَدْرِی أَیَّ الدَّوَابِّ ہِیَ۔)) قَالَ قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَوَوْا، قَالَ: فَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ وَلَمْ یَنْہَہُمْ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ثابت بن یزید بن وداعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سانڈے شکار کیے، جبکہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ان کو پکایا اور بھون لیا، سیدنا ثابت کہتے ہیں: میں نے بھی ایک سانڈا شکار کیا اور اسے بھون کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس کی مدد سے سانڈا کی انگلیوں کو الٹ پلٹ کرنے یا ان کو گننے لگ گئے، اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت زمین پر جانوروں کی صورت میں مسخ کر دی گئی تھی، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے تو اسے بھون کرکھانا شروع کر دیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس سے کھایا اور نہ کھانے سے منع کیا۔

7294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7294

Sahih

(۷۲۹۴)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: اُتِیَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم بِسَبْعَۃِ اَضُبٍّ عَلَیْہَا تَمْرٌ وَسَمْنٌ، وَقَالَ: ((کُلُوْا فَاِنِّیْ اَعَافُہَا۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سات سانڈے لائے گئے، ان پر کھجوریں اور گھی بھی رکھا گیا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کھا لو میں انہیں پسند نہیں کرتا۔

7295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7295

Sahih

(۷۲۹۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّۃٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ مَا تُفْتِینَا قَالَ: ((ذُکِرَ لِی أَنَّ أُمَّۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ مُسِخَتْ فَلَمْ یَأْمُرْ وَلَمْ یَنْہَ۔)) قَالَ أَبُو سَعِیدٍ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللّٰہَ لَیَنْفَعُ بِہِ غَیْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّہُ لَطَعَامُ عَامَّۃِ الرِّعَاء ِ وَلَوْ کَانَ عِنْدِی لَطَعِمْتُہُ وَإِنَّمَا عَافَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی سر زمین میں رہتے ہیں، جہاں سانڈے پائے جاتے ہیں،آپ ہمیں اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ذکر کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک امت مسخ ہو گئی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس کو کھانے کا حکم دیا اور نہ کھانے سے روکا۔ سیدنا ابو سعید کہتے ہیں اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بہت سے لوگوں کو نفع دیتے ہیں، چرواہوں کا زیادہ ترکھانا یہ سانڈا ہی ہے، اگر میرے پاس ہو تومیں اسے کھاؤں گا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ناپسند کیا ہے، حرام قرار نہیں دیا۔

7296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7296

Zaeef

(۷۲۹۶)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) یَقُولُ: أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِضَبٍّ فَقَالَ: ((اِقْلِبُوہُ لِظَہْرِہِ۔)) فَقُلِبَ لِظَہْرِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اِقْلِبُوہُ لِبَطْنِہِ۔)) فَقُلِب لِبَطْنِہِ، فَقَالَ: ((تَاہَ سِبْطٌ مِمَّنْ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَإِنْ یَکُ فَہُوَ ہٰذَا فَإِنْ یَکُ فَہُوَ ہٰذَا فَإِنْ یَکُ فَہُوَ ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈے پیش کیے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پشت کے بل الٹا کرو۔ پس اسے پشت کے بل پلٹایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پیٹ کے بل پلٹاؤ۔ پس اسے پیٹ کے بل پلٹایا گیا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک نسل سرگردان ہو گئی تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے غضب کیا تھا، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے، اگر کوئی ہے تو وہ یہی ہے۔

7297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7297

Sahih

(۷۲۹۷)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((ضَلَّ سِبْطَانِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ فَاَرْھَبُ اَنْ تَکُوْنَ الضِّبَابَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے دو نسلیں بھٹک گئی تھیں، بس مجھے خدشہ ہے کہ وہ یہی سانڈے ہوں گی۔

7298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7298

Sahih

(۷۲۹۸)۔وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَامَّۃُ طَعَامِ أَہْلِی یَعْنِی الضِّبَابَ فَلَمْ یُجِبْہُ فَلَمْ یُجَاوِزْ إِلَّا قَرِیبًا فَعَاوَدَہُ فَلَمْ یُجِبْہُ فَعَاوَدَہُ ثَلَاثًا فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلٰی سِبْطٍ مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فَمُسِخُوا دَوَابَّ فَلَا أَدْرِی لَعَلَّہُ بَعْضُہَا فَلَسْتُ بِآکِلِہَا وَلَا أَنْہٰی عَنْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ایک دیہاتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے گھروالوں کا زیادہ ترکھانا سانڈے ہیں آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑا سے گزرے تو اس نے پھر یہی سوال کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، جب اس نے تین بار یہی سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک نسل پر لعنت و غضب کیا تھا اور وہ جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیئے گئے تھے، بس اب میں نہیں جانتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی ان میں سے ہو، سو نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ میں اس کے کھانے سے منع کرتاہوں۔

7299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7299

Sahih

(۷۲۹۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی مَیْمُونَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَہِیَ خَالَتُہُ فَقَدَّمَتْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَحْمَ ضَبٍّ جَائَتْ بِہِ أُمُّ حُفَیْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَکَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِی جَعْفَرٍ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَأْکُلُ شَیْئًا حَتّٰی یَعْلَمَ مَا ہُوَ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَۃِ: أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مَا یَأْکُلُ فَأَخْبَرْنَہُ أَنَّہُ لَحْمُ ضَبٍّ فَتَرَکَہُ فَقَالَ خَالِدٌ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَحَرَامٌ ہُوَ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّہُ طَعَامٌ لَیْسَ فِی قَوْمِی فَأَجِدُنِی أَعَافُہُ۔)) قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُہُ إِلَیَّ فَأَکَلْتُہُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَنْظُرُ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَحَدَّثَہُ الْأَصَمُّ یَعْنِی ابْنَ یَزِیدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَیْمُونَۃَ وَکَانَ فِی حَجْرِہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بتایا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس داخل ہوئے، یہ سیدنا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں، سیدہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بھنا ہوا سانڈے کا گوشت پیش کیا، جو کہ نجد سے سیدہ ام حفید بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا لے کر آئیں تھیں،یہ بنو جعفر کے ایک آدمی کی بیوی تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو چیز بھی کھاتے تھے، پہلے اس کے بارے پوچھ لیا کرتے تھے، (جب سانڈے کا گوشت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو) ایک بیوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتاؤ کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے چھوڑ دیا، سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام نہیں ہے، بس یہ ایسا کھانا ہے جو میری قوم میں پایا نہیں جاتا اور میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں۔ سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے وہ گوشت اپنی طرف کھینچ لیا اور کھانا شروع کر دیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیکھ رہے تھے۔ابن شہاب کہتے ہیں: مجھ سے اصم نے بیان کیا ہے اور انہوں نے سیدنا میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بیان کیا ہے یہ سیدنا میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پروردہ تھے۔

7300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7300

Sahih

(۷۳۰۰)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اُتِیَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم بِضَبٍّ فَاَبٰی اَنْ یَاْکُلَہُ وَقَالَ: ((لَا اَدْرِیْ لَعَلَّہُ مِنَ الْقُرُوْنِ الَّتِیْ مُسِخَتْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ ان قوموں میں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا۔

7301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7301

Sahih

(۷۳۰۱)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: اُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِضَبٍّ فَلَمْ یَاْکُلْہُ وَلَمْ یَنْہَ عَنْہُ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَ فَلَا نُطْعِمُہُ الْمَسَاکِیْنَ؟ قَالَ: ((لَا تُطْعِمُوْھُمْ مِمَّا لَا تَاْکُلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ اس کو کھایا اور نہ اس سے منع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خود نہیں کھاتے،وہ ان کو بھی نہ کھلاؤ۔

7302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7302

Sahih

(۷۳۰۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَۃَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا کَثِیرَۃَ الضِّبَابِ قَالَ فَأَصَبْنَا مِنْہَا وَذَبَحْنَا قَالَ فَبَیْنَا الْقُدُورُ تَغْلِی بِہَا إِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((إِنَّ أُمَّۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ فُقِدَتْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مُسِخَتْ) وَإِنِّی أَخَافُ أَنْ تَکُونَ ہِیَ فَأَکْفِئُوہَا فَأَکْفَأْنَاہَا۔ (وَفیْ رِوَایَۃٍ: فاَکْفَاْنَاھَا وَاِنَّا لَجِیَاعٌ)۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد الرحمن بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم ایک علاقے میں اترے، وہاں سانڈے بہت زیادہ تھے، ہم نے ان کو حاصل کیا اور ذبح کیا اور پکانا شروع کر دیا، ہماری ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اچانک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اورفرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت گم پائی گئی ، ایک روایت میں ہے کہ مسخ کی گئی، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ امت یہی سانڈے ہو، لہٰذا ہنڈیاں الٹ دو۔ پس ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، حالانکہ ہم سخت بھوک سے دو چار تھے۔