Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 132 · Chapter 1324

ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے

اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے یا فرض نہ قرار دیا جائے

7 hadiths in this chapter

7281

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7281

Sahih

(۷۲۸۱)۔عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ مِنْ اَکْبَرِ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا، رَجُلًا سَاَلَ عَنْ شَیْئٍ وَنَقَّرَ عَنْہُ حَتّٰی اُنْزِلُ فِیْ ذٰلِکَ الشَّیْئِ تَحْرِیْمٌ مِنْ اَجْلِ مَسْاَلَتِہٖ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ آدمی ہے، جو کسی چیز کے متعلق سوال کرتا ہے اور اس کے بارے میں اتنا کریدتا ہے کہ اس کے سوال کی وجہ سے اس چیز کو حرام کر دیا جاتا ہے۔

7282

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7282

Sahih

(۷۲۸۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ اَبِیْہِ) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَعْظَمُ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا، مَنْ سَاَلَ عَنْ اَمْرٍ لَمْ یَحْرُمْ فَحُرِّمَ عَلَی النَّاسِ مِنْ اَجْلِ مَسْاَلَتِہٖ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں وہ مسلمان سب سے بڑا مجرم ہے، جو کسی ایسے معاملہ کے بارے میں سوال کرتاہے، جو کہ حرام نہ تھا، لیکن اس کے سوال کی وجہ سے حرام کر دیا گیا ہو۔

7283

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7283

Sahih

(۷۲۸۳)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((ذَرُوْنِیْ مَاتَرَکْتُکُمْ فَاِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُوَالِھِمْ وَاِخْتِلَافِہِمْ عَلٰی اَنْبِیَائِہِمْ، مَانَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا، وَمَا اَمَرْتُکُمْ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۳۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کا سبب ہی یہ چیز بنی تھی کہ وہ اپنے انبیاء سے کثرت سے سوال کرتے تھے اور پھر ان پر اختلاف کیا کرتے تھے، پس میں جس چیز سے تمہیں منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا تمہیں حکم دے دوں، اپنی طاقت کے مطابق اسے پورا کرو۔

7284

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7284

Zaeef

(۷۲۸۴)۔وَعَنْ عَلِیٍّ رضي الله عنه قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلا} قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَ فِیْ کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: اَفِیْ کُلِّ عَامٍ؟ فَسَکَتَ، فَقَالُوْا: اَفِیْ کُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ((لَا، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ۔)) فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْاَلُوْا عَنْ اَشْیَائَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ} [المائدۃ: ۱۰۱] اِلٰی آخِرِ الْاٰیَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورۂ آل عمران: ۹۷) یعنی: جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج لازم ہے۔ تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا ہر سال یہ فرض ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ کہا: کیا ہر سال یہ عبادت فرض ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا ۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ} (سورۂ مائدۃ: ۱۰۱) یعنی: ایمان والو! تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے بیان کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔

7285

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7285

Sahih

(۷۲۸۵)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: ذَبَحْنَا یَوْمَ خَبْیَرَ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ، فَنَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِیْرِ وَلَمْ یَنْہَنَا عَنِ الْخَیْلِ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خچر اور گدھے سے تو منع کر دیا، لیکن گھوڑے کا گوشت کھانے سے منع نہ کیا تھا۔

7286

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7286

Sahih

(۷۲۸۶)۔وَعَنْہُ اَیْضًا: اَکَلْنَا زَمْنَ خَیْبَرَ الْخَیْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ، وَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم عَنِ الْحِمَارِ الْاَھْلِیِّ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم نے جنگ خیبر کے دن گھوڑے اورجنگلی گدھے کا گوشت کھایا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں گھریلو گدھے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔

7287

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7287

Sahih

(۷۲۸۷)۔عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: نَحَرْنَا فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَرَسًا فَاَکَلْنَا مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑا ذبح کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔