Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 129 · Chapter 1320

نفقہ کا بیان

اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

7268

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7268

Sahih

(۷۲۶۸)۔عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ اَبرُّ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔)) قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اَبَاکَ، ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْرَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ اور پھر جو جتنا زیادہ قریبی ہے۔

7269

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7269

Sahih

(۷۲۶۹)۔عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی یَرْبُوعَ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُہُ وَہُوَ یُکَلِّمُ النَّاسَ یَقُولُ: ((یَدُ الْمُعْطِی الْعُلْیَا أُمَّکَ وَأَبَاکَ وَأُخْتَکَ وَأَخَاکَ ثُمَّ أَدْنَاکَ أَدْنَاکَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰؤُلَاء ِ بَنُو ثَعْلَبَۃَ بْنِ یَرْبُوعَ الَّذِینَ أَصَابُوا فُلَانًا، قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا لَا تَجْنِی نَفْسٌ عَلٰی أُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنو یربوع کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیچ میں فرمایا: دینے والا ہاتھ بلند ہے، اپنی ماں سے نیکی کرو اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے، پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی جان دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑی جائے گی (یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔

7270

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7270

Sahih

(۷۲۷۰)۔وَعَنْ اَبِیْ رِمْثَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۷۱۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پہلے مذکور روایت جیسی حدیث مروی ہے۔

7271

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7271

Sahih

(۷۲۷۱)۔عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِاُمَّہَاتِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِاٰبَائِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فَالْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ دوسرے قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔

7272

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7272

Sahih

(۷۲۷۲)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ اَحَقُّ مِنِّیْ بِحُسْنِ الْصُحْبَۃِ؟ قَالَ: ((اُمُّکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اُمُّکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُمَّ اُمُّکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((اَبُوْکَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میری اچھی ہم نشینی کا کون مستحق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھرکون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔

7273

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7273

Sahih

(۷۲۷۳)۔حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَفْضَلُ دِیْنَارٍ دِیْنَارٌ یُنْفِقُہُ الرَّجُلُ عَلٰی عِیَالِہِ، وَدِیْنَارٌ عَلٰی دَابَّتِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ اَبُوْقِلَابَۃُ مِنْ قِبَلِہِ: بِرًّا بِالْعِیَالِ، قَالَ: وَاَیُّ رَجُلٍ اَعْظَمُ اَجْرًا مِنْ رَجُلٍ یُنْفِقُ عَلٰی عِیَالِہِ صِغَارًا یُعَفِّہِمُ اللّٰہُ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے اپنی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا: جیسے وہ عیال کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور ابو قلابہ نے ہی کہا: اس آدمی سے بڑھ کر کون بڑے اجر والا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان بچوں کو اس کے ذریعے سوال کرنے سے بچاتا ہے۔

7274

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7274

Sahih

(۷۲۷۴)۔ (وَعَنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ اَبِیْ اَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَفْضَلُ دِیْنَارٍ یُنْفِقُہُ الرَّجُلُ عَلٰی عِیَالِہِ ثُمَّ عَلٰی نَفْسِہِ، ثُمَّ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، ثُمَّ عَلٰی اَصْحَابِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ اَبُوْ قَلَابَۃُ: فَیَبْدَاُ بِالْعِیَالِ، وَقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: وَلَمْ یَرْفَعْہُ دِیْنَارًا نَفَقَہُ الرَّجُلُ عَلٰی دَابَّتِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ جو اپنے آپ پر خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اہل و عیال سے ابتدا کرے، سلیمان بن حرب کہتے ہیں: اسے ابوقلابہ نے ان الفاظ کو مرفوعاً بیان نہیں کیا: افضل وہ دینار ہےاورفضیلت والا بھی کہ جسے آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے۔

7275

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7275

Sahih

(۷۲۷۵)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: یَا ابْنَ آدَمَ اِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ وَاِنْ تُمْسِکْہُ فَھُوَ شَرٌّ لَکَ، وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَلَا یَلُوْمُ اللّٰہُ عَلَی الْکَفَافِ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِّ السُّفْلٰی۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! اگر تو ضرورت سے زائد بچا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا اور اگر تو اسے روک لے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا اور خرچ کرنے میں ابتدا اس سے کر جس کی تو کفالت کا ذمہ دار ہے اوراگر تیرے پاس پہلے ہی پورا پورا ہے، تو تجھے اللہ تعالیٰ خرچ نہ کرنے پر ملامت نہیں کریں گے اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔