Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7267
(۷۲۶۷)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ مِنْہَا عَنْ ظَہْرِ غِنًی وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنْ الْیَدِ السُّفْلٰی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ۔)) فَقِیلَ: مَنْ أَعُولُ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِمْرَاَتُکَ مِمَّنْ تَعُوْلُ تَقُوْلُ اَطْعِمْنِیْ وَاِلَّا فَارِقْنِیْ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَوْ طَلِّقْنِیْ) وَجَارِیَتُکَ تَقُوْلُ اَطْعِمْنِیْ وَاسْتَعْمِلْنِیْ، وَوَلَدُکَ یَقُوْلُ: اِلٰی مَنْ تَتْرُکْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۳۰)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے، کہ خرچ کرنے کے بعد پھر بھی مالداری رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اس سے شروع کرو جس کی تم کفالت کے ذمہ دار ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس کی کفالت کا ذمہ دار ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بیوی اس میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلاؤ، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہاری لونڈی ان میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلاؤ اور کام مہیا کرو، اور تمہاری اولاد بھی اس میں شامل ہے، جو کہتی ہے: مجھے کس کے حوالے کرو گے۔