Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7264
(۷۲۶۴)۔عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((إِذَا أَنْفَقَتْ وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ إِذَا أَطْعَمَتْ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِیۃَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَۃُ مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا غَیْرَ مُفْسِدَۃٍ کَانَ لَہَا أَجْرُہَا وَلَہُ مِثْلُ ذٰلِکَ بِمَا کَسَبَ وَلَہَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذٰلِکَ قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۷۳)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی پر خرچ کرے یا اسے کھلائے، لیکن بیچ میں فساد اور اسراف کا ارادہ نہ ہو توجتنا اجر اس عورت کو ملے گا، اتنا اجر اس کے خاوند کو ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور اس عورت کو اجر اس بنا پر ثواب ملے گا کہ اس نے خرچ کیا ہے، اس طرح خزانچی کو بھی ثواب ملے گا اور کسی کی وجہ سے کسی کے اجر میں کمی واقع نہیں ہو گی۔