Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 102 · Chapter 1085

گری پڑی چیز کی کتاب

اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا

6 hadiths in this chapter

6239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6239

Sahih

۔ (۶۲۳۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ آوٰی ضَالَّۃً فَہُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ یُعَرِّفْہَا)) (مسند احمد: ۱۷۱۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص گم شدہ چیز اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا، وہ گمراہ ہے۔

6240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6240

Zaeef

۔ (۶۲۴۰)۔ عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ اَبِی جَرِیْرٍ بِالْبَوَازِیْجِ فِی السَّوَادِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فرَأَی بقَرَۃً اَنْکَرَھَا فَقَالَ: مَاھٰذِہِ الْبَقَرَۃُ؟ قَالَ: بَقَرَۃٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِہَا فَطُرِدَتْ حَتّٰی تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَأْوِی الضَّالَّۃَ اِلَّا ضَالٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی ، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔

6241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6241

Sahih

۔ (۶۲۴۱)۔ عَنِ الْجَارُوْدِ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ وَفِی الظَّہْرِ قِلَّۃٌ اِذْ تَذَاکَرَ الْقَوْمُ الظَّہْرَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ عَلِمْتُ مَایَکْفِیْنَا مِنَ الظَّہْرِ، فَقَالَ: ((وَمَا یَکْفِیْنَا؟)) قُلْتُ: ذَوْدٌ نَاْتِیْ عَلَیْہِنَّ فِیْ جُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُہُوْرِھِنَّ، قَالَ: ((لَا، ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَـلَا تَقْرَبَنَّہَا، ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَـلَا تَقْرَبَنَّہَا، ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَـلَا تَقْرَبَنَّہَا۔)) وَقَالَ فِی اللُّقَطَۃِ: ((الضَّالَّۃُ تَجِدُھَا فَانْشُدَنَّہَا وَلَا تَکْتُمُ وَلَا تُغَیِّبُ فَاِنْ عُرِفَتْ فَأَدِّھَا وَ اِلَّا فَمَالُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جارود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، سواریوں کی قلت تھی، لوگ سواریوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہے کہ ہمیں سواریاں میسر آسکتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: (مدینہ منورہ کی) پانی کی بہاؤ والی جگہ میں اونٹ موجود ہیں، ہم ان پر سواری کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ،مسلمان کا گم شدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب تو گم شدہ چیز پائے تو ضرور ضرور اس کا اعلان کر اور چھپا کے نہ رکھ اور نہ اس کو غائب کر، اگر وہ پہچان لیا جائے تو متعلقہ بندے کو ادا کر دے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔

6242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6242

Sahih

۔ (۶۲۴۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ: ((ضَالَّۃُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجارود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس انداز سے بھی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گم شدہ جانوروں کے متعلق دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔

6243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6243

Sahih

۔ (۶۲۴۳)۔ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَوَامُّ الْاِبِلِ نُصِیْبُہَا؟ قَالَ: ((ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مطرف انپے باپ سیدنا عبد اللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!: ہم گم شدہ اونٹوں کو پا لیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گم شدہ جانور آگ کا شعلہ ہے۔

6244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6244

Sahih

۔ (۶۲۴۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ لِلْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رُمْحٌ فَکُنَّا اِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزَاۃٍ خَرَجَ بِہٖمَعَہَفَیَرْکُزُہُ فَیَمُرُّ النَّاسُ عَلَیْہِ فَیَحْمِلُوْنَہُ، فَقُلْتُ: لَئِنْ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأُخْبِرَنَّہُ، فَقَالَ: ((اِنَّکَ اِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔