Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 102 · Chapter 1084

گری پڑی چیز کی کتاب

سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان

3 hadiths in this chapter

6236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6236

Sahih

۔ (۶۲۳۶)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُوَیْدَ بْنَ غَفْلَۃَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ زَیْدِ بْنِ صُوْحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِیْعَۃَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَاَخَذْتُہُ فَقَالَا لِیْ: اطْرَحْہُ، فقُلْتُ: لَا وَلٰکِنْ اُعَرِّفُہُ فَإِنْ وَجَدْتُّ مَنْیَعْرِفُہُ وَاِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِہٖفَأَبَیَا عَلَیَّ وَأَبَیْتُ عَلَیْہِمَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا حَجَجْتُ فَأَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَذَکَرْتُ لَہُ قَوْلَھُمَا وَقَوْلِیْ لَھُمَا، فَقَالَ: وَجَدْتُّ صُرَّۃً فِیْہَا مِائَۃُ دِیْنَارٍ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ لَہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا حَوْلًا۔)) فَلَمْ اَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا حَوْلًا۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ وَلَا أَدْرِیْ قَالَ لَہُ ذٰلِکَ فِیْ سَنَۃٍ أَوْ فِیْ ثَلَاثِ سِنِیْنَ، فَقَالَ لَہُ فِیْ الرَّابِعَۃِ: ((اِعْرِفْ عَدَدَھَا وَوِکَائَھَا فَاِنْ وَجَدْتَّ مَنْ یَعْرِفُہَا وَاِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِہَا۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِیَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ قَالَ: فَلَقِیْتُہُ بَعْدَ ذٰلِکَ بِمَکَّۃَ فَقَالَ: لَا أَدْرِیْ ثَلَاثَۃَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سویدین بن غفلہ کہتے ہیں: میں نے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کی معیت میں غزوہ کیا، میں نے راستے میں ایک کوڑا پایا اور اس کو اٹھا لیا، لیکن انہوں نے مجھے کہا: یہ کوڑا پھینک دے، میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا، بلکہ اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کو پہچان لینے والے مالک کو پا لیا تو اسے دے دوں گا،وگرنہ خود استعمال کر لوں گا، ان دونوں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا، جب ہم غزوہ سے واپس آئے اورمیں حج کے لئے گیا تو میں مدینہ منورہ گیا اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا اور ان کو اُن دونوں کی اور اپنی بات بتلائی، انھوں نے آگے سے کہا: عہد ِ نبوی کی بات ہے، مجھے سو دیناروں پر مشتمل ایک تھیلی ملی تھی، جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اس کے بارے میں ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن ایسا کوئی شخص نہ ملا جو اس تھیلی کو پہچانتا ہو، اس لیے میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ کوئی ایسا نہیں ملا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، راوی کہتا ہے: میں نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک سال میں (اعلان کرنے کا) کہا تھا یا تین برسوں میں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چوتھی مرتبہ مجھے فرمایا: ان دیناروں کی تعداد اور اس تھیلی کے تسمے کو ذہن نشین کرلے اور اگر اس کےبعد اس کو پہچاننے والے کو پا لے تو اسے دے دینا، وگرنہ اس سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں، محمد بن جعفر نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہاہے کہ سیدنا شعبہ کہتے ہیں میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل کو مکہ میں ملا اوران سے پوچھا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال مراد ہیں یا ایک سال میں تین دفعہ اعلان کرنا مراد ہے۔

6237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6237

Sahih

۔ (۶۲۳۷)۔ (وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ) مِنْ طَرِیْقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ قَالَ: ((فَعَرِّفْہَا عَامَیْنِ أَوْثلَاثَۃً۔)) قَالَ: ((اعْرِفْ عَدَدَھَا وَوِعَائَھَا وَوِکَائَھَا وَاسْتَمْتِعْ بِہَا، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَعَرَفَ عِدَّتَہَا وَوِکَائَ ھَا فَأَعْطِہَا اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) حماد بن سلمہ سے مروی ہے کہ سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت کو اس طرح بیان کیا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو یا تین سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر فرمایا: وگرنہ اس چیز کی تعداد،تھیلی اور تسمے کو ذہن نشین کر لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اگر بعد میں اس کامالک آگیا اور اس کی تعداد اورتسمے کو پہنچان لیا تو اس کو دے دینا۔

6238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6238

Sahih

۔ (۶۲۳۸)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: اِلْتَقَطْتُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃَ دِیْنَارٍ فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً۔)) فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً، ثُمَّ أَتَیْتُہُ فَقُلْتُ: قَدْ عَرَّفْتُہَا سَنَۃً، فَقَالَ: ((عَرِّفْہَا سَنَۃً اُخْرٰی۔)) فَعَرَّفْتُہَا سَنَۃً اُخْرٰی ثُمَّ أَتَیْتُہُ فِیْ الثَّالِثَۃِ فَقَالَ: ((أَحْصِ عَدَدَھَا وَوِکَائَھَا وَاسْتَمْتِعْ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔