Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 1 · Chapter 3

کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ

اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

19

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #19

Zaeef

۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے ربّ کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ (سورۂ اخلاص) اَلصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: اَلْمَصْمُوْدُ اِلَیْہِ فِیْ الْحَوَائِجِ، اَلْغَنِیُّ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ۔ (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔

20

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #20

Sahih

۔ (۱۹)۔عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ أَنَّ الْمُشْرِکِیْنَ قَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: یَا مُحَمَّدُ! اُنْسُبْ لَنَا رَبَّکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی: {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ۔ اَللّٰہُ الصَّمَدُ۔ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔} (مسند أحمد: ۲۱۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندے کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔

21

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #21

Sahih

۔ (۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یُؤْذِیْنِیْ ابْنُ آدَمَ، یَسُبُّ الدَّہْرَ وَ أَنَا الدَّہْرُ، بِیَدِی الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برابھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔

22

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #22

Sahih

۔ (۲۲)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ فَیَقُوْلُ: اَللّٰہُ، فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ اللّٰہَ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ہَذَا، فَلْیَقُلْ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ۔)) (مسند أحمد:۸۳۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔

23

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #23

Sahih

۔ (۲۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: شَکَوْا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا یَجِدُوْنَ مِنَ الْوَسْوَسَۃِ وَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّا لَنَجِدُ شَیْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ کَانَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِہٖ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَحْضُ الْإِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔