Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 1 · Chapter 4

کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ

توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان

27 hadiths in this chapter

24

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #24

Sahih

۔ (۲۴)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ وَ أَنَّ عِیْسٰی عَبْدُاللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ وَ کَلِمَتُہُ أَلْقَاہَا إِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِنْہُ وَ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ عَلَی مَا کَانَ مِنَ عَمَلٍ، (وَفِی رِوَایَۃٍ:) أَدْخَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی الْجَنَّۃَ مِنْ أَبْوَابِہَا الثَّمَانِیَۃِ مِنْ أَیِّہَا شَائَ دَخَلَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیؑ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، ایک روایت میں ہے: وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔

25

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #25

Sahih

۔ (۲۵)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ حُرِّمَ عَلَی النَّارِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) حَرَّمَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْہِ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبادہ بن صامتؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں، تووہ آگ پر حرام کر دیا جائے گا، ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا۔

26

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #26

Sahih

۔ (۲۶)۔عَنْ یُوْسُفَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ أَبِیْہِ(ؓ) قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَہُمْ یَقُوْلُوْنَ: أَیُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ وَ جِہَادٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) ثُمَّ سُمِعَ نِدَائٌ فِی الْوَادِی یَقُوْلُ: أَشْہَدُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَ أَنَا أَشْہَدُ وَ أَشْہَدُ أَنْ لَا یَشْہَدَ بِہَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِیَٔ مِنَ الشِّرْکِ۔))، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَ سَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہٰرُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن سلامؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور۔ پھر وادی سے یہ آواز سنی گئی، کوئی کہہ رہا تھا: أَشْہَدُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور میں بھی یہی گواہی دیتا ہوں اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ جو آدمی بھی یہ گواہی دے گا، وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔ امام احمد i کے بیٹے عبد اللہ بن احمد نے کہا: میں نے یہ حدیث ہارون راوی سے براہِ راست سنی ہے۔

27

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #27

Sahih

۔ (۲۷)۔عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ مَا تَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

28

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #28

Sahih

۔ (۲۸)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

29

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #29

Sahih

۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دیتے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔

30

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #30

Sahih

۔ (۲۹،۳۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ الْبَیْضَائِ ؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَنَا رَدِیْفُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا سُہَیْلَ بْنَ الْبَیْضَائِ!)) وَرَفَعَ صَوْتَہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، کُلُّ ذٰلِکَ یُجِیْبُہُ سُہَیْلٌ، فَسُمِعَ صَوْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَظَنُّوْا أَنَّہُ یُرِیْدُہُمْ، فَحَبَسَ مَنْ کَانَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَ لَحِقَہُ مَنْ کَانَ خَلْفَہُ حَتَّی إِذَا اجْتَمَعُوْا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ وَ أَوْجَبَ لَہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) أَوْجَبَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِہَا الْجَنَّۃَ وَ أَعْتَقَہُ بِہَا مِنَ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۰، ۱۵۹۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہیل بن بیضاءؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دو یا تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا: اے سہیل بن بیضاء! آگے سے سیدنا سہیل ؓجواب بھی دے تھے، بہرحال جب صحابہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اس طرح کی آواز سنی تو ان کو یہ گمان ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سب کو بلانا چاہتے ہیں، اس لیے آگے والے رک گئے اور پیچھے والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو آ ملے، یہاں تک کہ وہ سارے جمع ہو گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ اس شہادت کی وجہ سے اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے اوراس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔

31

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #31

Sahih

۔ (۳۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ مَعِیَ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِیْ، فَقَالَ:((أَبْشِرُوْا وَ بَشِّرُوْا مَنْ وَرَائَ کُمْ أَنَّہُ مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ صَادِقًا بِہَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَشِّرُ النَّاسَ،فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ(ؓ) فَرَجَعَ بِنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذًا یَتَّکِلُ النَّاسُ، فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، جبکہ میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: خود بھی خوش ہو جاؤ اور اپنے پچھلوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو کہ جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ سن کر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس سے نکل پڑے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں، لیکن جب ہمیں آگے سے سیدنا عمرؓ ملے توانھوں نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ مشورہ دیا کہ (اس طرح کی باتیں عام لوگوں کو نہ بتائی جائیں وگرنہ) وہ توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ خاموش ہو گئے۔

32

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #32

Sahih

۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔

33

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #33

Zaeef

۔ (۳۳)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍؓ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَفَاتِیْحُ الْجَنَّۃِ شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: جنت کی چابیاں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دینا ہے۔

34

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #34

Sahih

۔ (۳۴)۔عَنْ رِفَاعَۃَ الْجُہَنِیِّ ؓ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیْدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَیْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُوْنَ إِلَی أَہْلِیْہِمْ فَیَأْذَنُ لَہُمْ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ أَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ یَکُوْنُ شِقُّ الشَّجَرَۃِ الَّتِی تَلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبْغَضَ إِلَیْہِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ۔))،فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذٰلِکَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاکِیًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہٰذَا لَسَفِیْہٌ،فَحَمِدَ اللّٰہَ وَقَالَ حِیْنَئِذٍ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ لَا یَمُوْتُ عَبْدٌ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))، قَالَ: ((وَقَدْ وَعَدَنِیْ رَبِّی أَنْ یُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِیْنَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ، وَ إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ لَا یَدْخُلُوْہَا حَتَّی تَبَوَّؤُا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِکُمْ وَ أَزْوَاجِکُمْ وَ ذُرِّیَّاتِکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۳۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا رفاعہ جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ (مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف) سفرمیں تھے، جب ہم کَدِیْد یا قُدَید مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اپنے گھروں کی طرف جانے کے لیے اجازت لینا شروع کر دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان کو اجازت دیتے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ درخت کی جو طرف رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے ملی ہوئی ہے، وہ ان کو دوسری طرف کی بہ نسبت زیادہ ناپسند ہے۔ ہم نے دیکھا کہ یہ الفاظ سن کر سارے لوگ رونے لگ گئے، ایک آدمی (یعنی سیدنا ابو بکرؓ) نے کہا: اس کے بعد جو آدمی آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ بیوقوف ہو گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی اور فرمایا: جو آدمی صدقِ دل سے یہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے گا تو میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے بارے میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ وہ جنت کی طرف چلا جائے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسے جنت میں داخل کرے گا کہ ان کا کو ئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ تم اور تمہارے نیک آباء، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر بنا چکے ہوں گے۔

35

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #35

Sahih

۔ (۳۵) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ)۔ قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَکَّۃَ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَسْتَأْذِنُوْنَہُ،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ قَالَ: قَالَ أَبُوبَکْرٍ(ؓ): إِنَّ الَّذِی یَسْتَأْذِنُکَ بَعْدَ ہَذِہِ لَسَفِیْہٌ فِی نَفْسِی، ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمِدَ اللّٰہَ وَ قَالَ خَیْرًا، ثُمَّ قَالَ: ((أَشْہَدُ عِنْدَ اللّٰہِ۔)) وَکَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا مِنْ عَبْدٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ثُمَّ یُسَدِّدُ إِلَّا سَلَکَ فِی الْجَنَّۃِ۔))،فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس آ رہے تھے کہ لوگوں نے اجازتیں لینا شروع کر دیں، … پھر اوپر والی حدیث بیان کی…۔ سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: جو آدمی اس کے بعد آپ سے اجازت طلب کرے گا، وہ میرے نزدیک تو بیوقوف ہی ہو گا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور خیر والی بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ شہادت دیتا ہوں کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر راہِ صواب پر چلتا رہے تو وہ جنت کی طرف چلے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب قسم اٹھاتے تھے تو یوں فرماتے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔

36

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #36

Sahih

۔ (۳۶)(وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ:)قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکََدِیْدِ أَوْ قَالَ بِعَرَفَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۳۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم کدید یا عرفہ مقام پر تھے، پھر وہی حدیث ذکر کی۔

37

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #37

Sahih

۔ (۳۷)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَاتَ یَعْلَمُ أَن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد:۴۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے تووہ جنت میں داخل ہو گا۔

38

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #38

Sahih

۔ (۳۸)۔وَ عَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنِّی لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَایَقُوْلُہَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِہِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَی النَّارِ۔)) فَقَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ: أَنَا أُحَدِّثُکَ مَا ہِیَ، ہِیَ کَلِمَۃُ الْإِخْلَاصِ الَّتِی أَعَزَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہَا مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أَصْحَابَہُ، وَ ہِیَ کَلِمَۃُ التَّقْوَی الَّتِی أَلاَصَ عَلَیْہَا نَبِیُّ اللّٰہِ عَمَّہُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَہَادَۃُ أَنْ لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ۔ (مسند أحمد: ۴۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن عفانؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی دل کی سچائی کے ساتھ اس کو کہے گا، وہ آگ کے حق میں حرام ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدناعمرؓ نے کہا: میں بتلاتا ہوں کہ وہ کلمہ کون سا ہے، وہ تو وہ کلمہ اخلاص ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعے حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ کو عزت بخشی، وہ کلمۂ تقوی ہے جو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے چچا ابو طالب کی موت کے وقت اس پر پیش کیا تھا اور وہ ہے لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ کی شہادت دینا۔

39

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #39

Sahih

۔ (۳۹)۔عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدُّئَلِیِّ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ عَلَیْہِ ثَوْبٌ أَبْیَضُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ أُحَدِّثُہُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ وَ قَدِ اسْتَیْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔))،قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔))،قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔)) ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ: ((عَلَی رَغْمِ أَبِی ذَرٍّ۔)) قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ یَجُرُّ إِزَارَہُ وَہُوَ یَقُوْلُ: وَ إِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِی ذَرٍّ۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سفید کپڑا اوڑھ کر سوئے ہوئے تھے، پھر دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے باتیں کرنے کے لیے آیا، لیکن ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ آرام فرما رہے تھے، اس کے بعد جب میں آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیدار ہو چکے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آ کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ کہے گا اور پھر اسی پر مر جائے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ میں دوسری بار پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ تین دفعہ تو ایسے ہی ہوا اور چوتھی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ ساتھ۔ یہ سن کر سیدنا ابو ذر ؓوہاں سے ازار کو گھسیٹتے اور یہ کہتے ہوئے نکل پڑے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔

40

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #40

Sahih

۔ (۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَا ذَا رَدَّ إِلَیْکَ رَبُّکَ فِی الشَّفَاعَۃِ؟ فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَوَّلُ مَنْ یَسْأَلُنِیْ عَنْ ذٰلِکَ مِنْ أُمَّتِیْ لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْعِلْمِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! مَا یَہُمُّنِیْ مِنَ انْقِصَافِہِمْ عَلَی أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ أَہَمُّ عِنْدِیْ مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِیْ، وَ شَفَاعَتِیْ لِمَنْ شَہِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا یُصَدِّقُ قَلْبُہُ لِسَانَہُ وَ لِسَانُہُ قَلْبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: آپ کے ربّ نے سفارش کے بارے میں آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! میرا یہ خیال تھا کہ اس کے بارے میں سوال کرنے والا میری امت میں سے تو ہی پہلا فرد ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ تیرے اندر علم کی حرص پائی جاتی ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! مجھے جنت کے دروازوں پر اپنی امت کے لوگوں کے ہجوم کے بارے میں جو فکر ہے، وہ میرے نزدیک میری سفارش کی تکمیل سے زیادہ اہم ہے، اور میری سفارش ہر اس آدمی کے لیے ہے جو اخلاص کے ساتھ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت اس طرح دے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی اور اس کی زبان، اس کے دل کی تصدیق کر رہی ہو۔

41

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #41

Sahih

۔ (۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عمرہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو آدمی بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ملے گا، تو قیامت کے دن اس سے آگ کو دور کر دیا جائے گا۔

42

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #42

Sahih

۔ (۴۲)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ (ؓ): خَصْلَتَانِ یَعْنِی إِحْدَاہُمَا سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ الْأُخْرٰی مِنْ نَفْسِیْ، ((مَنْ مَاتَ وَہُوَ یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ۔)) وَ أَنَا أَقُوْلُ: مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ لَا یَجْعَلُ لِلّٰہِ نِدًّا وَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔ (مسند أحمد: ۳۵۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ابووائل سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں: دو باتیں ہیں، ایک بات تو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہے اور دوسری بات میری اپنی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو بندہ اس حال میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ اور میں خود کہتا ہوں: اور جو آدمی اس حال میں مرے کہ نہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر ٹھہراتا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک بناتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

43

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #43

Sahih

۔ (۴۳)۔عَنْ أَبِیْ نُعَیْمٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ أَوْ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ فَنَزَلَ عَلَی مَسْرُوْقٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو(بْنِ الْعَاصِ ؓ) یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، لَمْ تَضُرَّہُ مَعَہُ خَطِیْئَۃٌ، وَ مَنْ مَاتَ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ لَمْ تَنْفَعْہُ مَعَہُ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نعیم کہتے ہیں: ایک آدمی یا ایک بوڑھا، جس کا تعلق اہل مدینہ سے تھا، آیا اور مسروق کے پاس ٹھہرا، اس نے کہا: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی خطا اس کو نقصان نہیں دے گی، لیکن جو بندہ اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ٹھہراتا ہو تو اس عمل کی وجہ سے کوئی نیکی اس کو فائدہ نہیں دے گی۔

44

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #44

Sahih

۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

45

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #45

Sahih

۔ (۴۵)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِمُعَاذٍ: ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: لَا یُشْرِکُ بِہِ) دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: (( لَا، إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یَتَّکِلُوْاعَلَیْہَا۔)) أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا معاذ ؓ سے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو ا س حال میں ملے کہ وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی شہادت دیتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں لوگوں یہ خوشخبری سنا نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی نہیں، مجھے یہ ڈر ہے کہ اس پر توکّل کر لیں گے (اور عمل ترک کر دیں گے)۔

46

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #46

Sahih

۔ (۴۶)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ ؓ قَالَ: وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ إِنْ زَنٰی وَ إِنْ سَرَقَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمہ بن نعیمؓ، جو کہ صحابۂ کرام میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اگرچہ اس نے زنا بھی کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔

47

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #47

Sahih

۔ (۴۷)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ حَدَّثَنَا ہِصَّانُ الْکَاہِنُ الْعَدِوِیُّ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِیْہِ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ (ؓ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَلَی الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوْتُ لَا تُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا،تَشْہَدُ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ یَرْجِعُ ذَاکُمْ إِلَی قَلْبٍ مُوْقِنٍ إِلَّا غُفِرَ لَہُ۔))، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ الْقَوْمُ: فَعَنَّفَنِیْ، فَقَالَ: دَعُوْہُ فَإِنَّہُ لَمْ یُسِیئِ الْقَوْلَ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ مُعَاذٍ زَعَمَ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ہصان کاہن عدوی کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس میں سیدنا عبد الرحمن بن سمرہؓ بھی تشریف فرما تھے، ہمیں سیدنا معاذ بن جبلؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے، جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتی ہو اور یہ گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جبکہ اس شہادت کا تعلق یقینِ دل سے ہو، مگر اس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث سیدنا معاذؓ سے سنی ہے؟ اس بات پر لوگوں نے میری سرزنش کی اور کہا: اس کو چھوڑ دو، اس نے کوئی بری بات تو نہیں کہی ہے، بہرحال میں (عبد الرحمن) نے سیدنا معاذؓ سے یہ بات سنی ہے اور ان کا خیال تھا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ حدیث سنی تھی۔

48

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #48

Sahih

۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔

49

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #49

Sahih

۔ (۴۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلٰی عَنْ یُوْنُسَ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ وَکَانَ أَبُوْہُ کَاہِنًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِی إِمَارَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَإِذَا شَیْخٌ أَبْیَضُ الرَّأْسِ وَ اللِّحْیَۃِ یُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ہصان بن کاہل، ان کے باپ دورِ جاہلیت میں کہانت کرتے تھے، کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفانؓ کی خلافت کے زمانے میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، وہ سیدنا معاذؓ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے، …۔ پھر اوپر والی حدیث بیان کی۔

50

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #50

Sahih

۔ (۵۰)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطَایَا وَلَمْ تُشْرِکْ بِی شَیْئًا جَعَلْتُ لَکَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَۃً۔)) زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: وَ قُرَابُ الْأَرْضِ مِلْئُ الْأَرْضِ۔ (مسند أحمد: ۲۱۶۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! اگر تو زمین کے بھراؤ کے برابر گناہ کرے، لیکن میرے ساتھ شرک نہ کرے تو میں تجھے زمین کے بھرنے کے برابر ہی بخشش عطا کر دوں گا۔ ایک روایت میں ہے: قُرَابُ الْأَرْضِ سے مراد زمین کا بھراؤ ہے۔