Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 1 · Chapter 2

کتاب کی قسمِ اوّل … توحید اور دین کے اصولوں کا حصہ

اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان

8 hadiths in this chapter

11

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11

Sahih

۔ (۱۱)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِأَرْبَعٍ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ،یُرْفَعُ إِلَیْہِ عَمَلُ اللَّیْلِ بِالنَّہَارِ وَ عَمَلُ النَّہَارِ بِاللَّیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ چار چیزیں بتلانے کے لیے ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور سونا اسے زیب بھی نہیں دیتا، وہ ترازو کوپست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، رات کے عمل دن کو اور دن کے عمل رات کو اس کی طرف بلند کر دیئے جاتے ہیں۔

12

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12

Sahih

۔ (۱۲) (وَ عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَنَامَ، یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ یَرْفَعُہُ، حِجَابُہُ النَّارُ، لَوْ کَشَفَہَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ کُلَّ شَیْئٍ أَدْرَکَہُ بَصَرُہُ۔)) ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: {فَلَمَّا جَائَ ہَا نُوْدِیَ أَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کے شایان شان بھی نہیں ہے کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، اس کا پردہ آگ ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی انوار و تجلیات ان تمام چیزوں کو جلا دیں، جن کو اس کی نظر پاتی ہے، اللہ کی نظر تمام مخلوق پر ہے۔ اس لیے مفہوم یہ ہے کہ پردہ دور ہونے سے تمام مخلوق جل کر راکھ ہو جائے۔ پھر ابو عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)

13

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13

Sahih

۔ (۱۳)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأٰی،لَا یَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ سَحَّائُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔)) وَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّہُ لَمْ یَغِضْ مَا فِی یَمِیْنِہِ۔)) قَالَ: ((وَعَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ، بِیَدِہِ الْأُخْرَی الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَ یَرْفَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کا متواتر خرچ اس میں کمی نہیں کر سکتا، کیا تم نے غور کیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے لے کر (آج تک) کیا کچھ خرچ کیا ہے، لیکن یہ خرچ بھی اس چیز میں کوئی کمی نہ کر سکا، جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، کسی کے حق میں اس کو پست کر دیتا ہے اور کسی کے حق میں بلند کر دیتا ہے۔

14

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #14

Sahih

۔ (۱۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ یَطْوِی السَّمَائَ بِیَمِیْنِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ: أَنَا الْمَلِکُ،أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت والے دن زمین و آسمان دائیں ہاتھ میں پکڑ کر اور لپیٹ کر کہے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین والے بادشاہ؟

15

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #15

Sahih

۔ (۱۵)۔عَنْ أَبِی ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((إِنِّیْ أَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ وَ أَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ،أَطَّتِ السَّمَائُ وَ حَقَّ لَہَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِیْہَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ سَاجِدٌ،لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَ لَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَائِ عَلَی الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ عَلَی أَعْلَی الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُوْنَ إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: وَاللّٰہِ لَوَدِدْتُّ أَنِّیْ شَجَرَۃٌ تُعْضَدُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۸۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں وہ چیزیں دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھ سکتے اور میں وہ چیزیں سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے اور اسے یہی زیب دیتا ہے کہ وہ آواز نکالے، کیونکہ اس میں ہر چار انگشت کے بقدر جگہ پر فرشتہ سجدہ کیے ہوئے ہے، اگر تم کو ان امور کا علم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ اور تم بستروں پر اپنی بیویوں سے لذتیں حاصل کرنا ترک کر دو، بلکہ تم (ویران) راستوں (اور صحراؤں) کی طرف نکل جاؤ، تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف گڑگڑا سکو۔ سیدنا ابو ذرؓ نے یہ حدیث سنا کر کہا (ظاہر ہے کہ ابو ذر کے شاگرد ان کے بارے یہ بیان کر رہے ہیں): اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ میں درخت ہوتا، جسے کاٹ دیا جاتا ہے۔

16

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #16

Sahih

۔ (۱۶)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَیْتُ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ أَغْفِرْلَکُمْ، وَمَنْ عَلِمَ أَنِّی أَقْدِرُ عَلَی الْمَغْفِرَۃِ فَاسْتَغْفَرَنِیْ بِقُدْرَتِیْ غَفَرْتُ لَہُ وَلَا أُبَالِیْ، وَکُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِی أَہْدِکُمْ،وَکُلُّکُمْ فَقِیْرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَیْتُ، فَاسْأَلُوْنِیْ أُغْنِکُمْ،وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ۔ وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ وَ صَغِیْرَکُمْ وَ کَبِیْرَکُمْ وَ ذَکَرَکُمْ وَ أُنْثَاکُمْ) وَ حَیَّکُمْ وَ مَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَ یَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا عَلٰی أَشْقٰی قَلْبٍ مِنْ قُلُوْبِ عِبَادِیْ مَا نَقَصَ فِی مُلْکِیْ مِنْ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ، وَ لَوِ اجْتَمَعُوْا عَلَی أَتْقٰی قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِیْ مَا زَادَ فِی مُلْکِیْ مِنْ جَنَاحِ بَعُوْضَۃٍ،وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَ إِنْسَکُمْ وَ جِنَّکُمْ وَ صَغِیْرَکُمْ وَ کَبِیْرَکُمْ وَ ذَکَرَکُمْ وَ أُنْثَاکُمْ) وَ حَیَّکُمْ وَ مَیِّتَکُمْ وَ رَطْبَکُمْ وَ یَابِسَکُمْ اِجْتَمَعُوْا فَسَأَلَنِیْ کُلُّ سَائِلٍ مِنْہُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِیَّتُہُ فَأَعْطَیْتُ کُلَّ سَائِلٍ مِنْہُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَنِیْ، کَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ مَرَّ بِشَفَۃِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِیْہَا إِبْرَۃً ثُمَّ انْتَزَعَہَا کَذَالِکَ لَا یَنْقُصُ مِنْ مُلْکِیْ، ذَالِکَ بِأَنِّیْ جَوَّادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ،عَطَائِی کَلَامٌ وَ عَذَابِی کَلَامٌ (وَ فِی رِوَایَۃٍ: عَطَائِی کَلَامِیْ وَ عَذَابِی کَلَامِیْ)، إِذَا أَرَدْتُّ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَقُوْلُ لَہُ: کُنْ! فَیَکُوْنُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندو! تم سارے گنہگار ہو، مگر جس کو میں عافیت دے دو، لہٰذا مجھ سے بخشش طلب کیا کرو، میں تمہیں معاف کر دیا کروں گا، اور جس نے یہ جان لیا کہ میں (اللہ) بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں، پھر اس نے مجھ سے میری قدرت کی وجہ سے بخشش طلب کی تو میں اسے بخش دوں گا اور اس سلسلے میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ تم سارے گمراہ ہو، مگر جس کو میں ہدایت دے دوں، پس مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم سارے کے سارے فقیر ہو، مگر جس کو میں غنی کر دوں، پس مجھ سے سوال کیا کرو، میں تم کو غنی کر دوں گا، یا درکھو کہ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک میرے بندوں میں سے بدبخت ترین بندے کے دل کی مانند ہو جائیں، تو میری بادشاہت میں سے تو مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آ ئے گی، اور اگر یہی مخلوق میرے بندوں میں سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند نیک ہو جائیں تو میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر اضافہ بھی نہیں ہو گا، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، انسان اور جن، چھوٹے اور بڑے، مذکر اور مؤنث، زندہ اور مردہ اور تر اور خشک جمع ہو جائیں اور ہر سائل مجھ سے سوال کرے، جہاں تک اس کی خواہش کا تقاضا ہو اور میں سائل کو اس کے مطالبے کے مطابق دے دوں تو اس سے مجھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، (اس مثال سے سمجھ لیں کہ) ایک آدمی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں سوئی ڈبو کر واپس لائے اور (دیکھے کہ اس میں کتنا پانی لگا ہوا ہے اور اس سے سمندر میں کیا کمی ہے)، اسی طرح میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے میں انتہائی سخی ہوں، بزرگی والا ہوں، بے نیاز ہوں، میرا دینا کلام ہے، میرا عذاب کلام ہے، ایک روایت میں ہے میری عطا میرا کلام ہے، میری سزا میرا کلام ہے، جب میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہو جا ، پس ہو جاتی ہے۔

17

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #17

Sahih

۔ (۱۷) (وَعَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((إِنِّی حَرَّمْتُ عَلٰی نَفْسِیَ الظُّلْمَ وَ عَلٰی عِبَادِیْ، أَ لَا فَـلَا تَظَالَمُوْا، کُلُّ بَنِیْ آ دَمَ یُخْطِیئُ بِاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرُ لَہُ فَـلَا أُبَالِیْ، وَقَالَ: یَا بَنِیْ آدَمَ! کُلُّکُمْ کَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا إِلَّا مَنْ کَسَوْتُ،وَکُلُّکُمْ کَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ أَہْدِکُمْ، وَاسْتَکْسُوْنِیْ أَکْسُکُمْ، وَاسْتَطْعِمُوْنِیْ أُطْعِمْکُمْ، وَاسْتَسْقُوْنِیْ أَسْقِکُمْ،یَا عِبَادِی! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ( فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَ فِیْہِ۔ لَمْ یَنْقُصُوْا مِن مُلْکِی شَیْئًا إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْیَطِ مِنَ الْبَحْرِ)۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کر تی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اورپچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

18

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #18

Sahih

۔ (۱۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ یَقُوْلُ: ((أَللّٰہُمََّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ الْحَقُّ، وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَ لِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَ الْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَ النَّارُ حَقٌّ، وَ السَّاعَۃُ حَقٌّ، أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَ إِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ إِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ أَخَّرْتُ وَ أَسْرَرْتُ وَ أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰہِیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: أَللّٰہُمََّ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ، وَ لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ الْحَقُّ، وَ قَوْلُکَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَ لِقَاؤُکَ حَقٌّ، وَ الْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَ النَّارُ حَقٌّ، وَ السَّاعَۃُ حَقٌّ، أَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَ بِکَ آمَنْتُ، وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَ إِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَ بِکَ خَاصَمْتُ، وَ إِلَیْکَ حَاکَمْتُ، فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ أَخَّرْتُ وَ أَسْرَرْتُ وَ أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلٰہِیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ (اے اللہ! تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا نور ہے، اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والوں کا ربّ ہے اور تیرے لیے ہی تعریف ہے، تو حق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، اے اللہ! میں تیرے لیے مسلمان ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ساتھ جھگڑا کیا اور تیری طرف فیصلہ لے کر آیا، پس تو میرے لیے میرے وہ وہ گناہ بخش دے، جو پہلے کیے،، جو بعد میں کیے، جو مخفی طور پر کیے اور جو اعلانیہ طور پر کیے، تو میرا معبود ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔)