Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 8 · Chapter 9

Marriage

بَابُ اللِّعَانِ

9 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

936

Bulugh al-Maram #936

Sahih

عَنِ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَأَلَ فُلَانٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا اِمْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ؟ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ! فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ، فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ. قَالَ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَاهَا النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فَوَعَظَهَا كَذَلِكَ، قَالَتْ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فلاں شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول !بتائیے اگر ہم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کو برائی کی حالت میں پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ اسے دوسروں سے بیان کرتا ہے تو یہ نہایت قبیح فعل ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو یہ بھی نہایت مشکل کام ہے۔ آپ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جب بعد میں وہ آیا تو اس نے کہا کہ تحقیق جو کچھ میں نے آپ سے پوچھا ہے‘ میں خود ہی اس میں مبتلا ہوا ہوں‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی آیات نازل فرمائیں۔ آپ نے وہ آیات اس کے سامنے پڑھیں اور اسے نصیحت فرمائی اور اللہ کی سزا یاد کرائی اور اسے متنبہ کیا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے بہت ہلکی ہے۔ اس نے کہا: نہیں‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں نے اس پر الزام نہیں لگایا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اسے بھی اسی طرح نصیحت فرمائی۔ اس نے بھی کہا: نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! یقینا یہ جھوٹا ہے۔ پھر آپ نے اس مرد سے آغاز فرمایا۔ اس نے اللہ کی چار قسمیں کھائیں ‘پھر آپ نے عورت سے بھی قسمیں لیں‘ پھر دونوں کے درمیان تفریق کردی۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ )

937

Bulugh al-Maram #937

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: ((حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا)). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَالِي؟ قَالَ: ((إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں سے فرمایا: ’’تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔ دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے‘ اب تیرا اس عورت پر کوئی حق نہیں۔‘‘ اس (مرد) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا مال (مجھے دلوا دیجیے۔) آپ نے فرمایا: ’’اگر تو نے اس پر سچ کہا ہے تو پھر وہ مال اس کا عوض ہے جو تونے اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اور اگر تو نے اس پر الزام لگایا ہے تو اس مال کا تجھے ملنا اور بھی بعید ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

938

Bulugh al-Maram #938

Sahih

وَعَنِ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا فَهُوَ لِزَوْجِهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا، فَهُوَ الَّذِي رَمَاهَا بِهِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت پر نظر رکھو‘ اگر اس نے سفید رنگ کا‘ سیدھے بالوں والا بچہ جنم دیا تو وہ اس کے شوہر کا ہے۔ اور اگر اس نے ایسا بچہ جنم دیا جس کی آنکھیں سرمگیں اور بال گھنگھریالے ہوں تو پھر وہ بچہ اس کا ہوگا جس کے متعلق شوہر نے اس پر تہمت لگائی ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

939

Bulugh al-Maram #939

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ، وَقَالَ: ((إِنَّهَا مُوجِبَةٌ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ پانچویں قسم کے وقت قسم کھانے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے اور آپ نے فرمایا: ’’یہ (پانچویں قسم) واجب کر دینے والی ہے۔‘‘ (اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔)

940

Bulugh al-Maram #940

Sahih

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ -فِي قِصَّةِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ- قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دو لعان کرنے والوں کے قصے میں مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوگئے تو مرد نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اگر میں اب اسے اپنے پاس ٹھہرا لوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے‘ چنانچہ (یہ کہہ کر) اس نے اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم فرماتے‘ اسے تین طلاقیں دے دیں۔ (بخاری و مسلم)

941

Bulugh al-Maram #941

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ. قَالَ: ((غَرِّبْهَا)). قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَتْبَعَهَا نَفْسِي. قَالَ: ((فَاسْتَمْتِعْ بِهَا)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَأَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِلَفْظٍ - قَالَ: طَلِّقْهَا. قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا. قَالَ: ((فَأَمْسِكْهَا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) میری بیوی کسی چھونے والے کا ہاتھ رد نہیں کرتی۔ آپ نے فرمایا: ’’اسے دور کر دے۔‘‘ اس نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ میرا جی اس کے پیچھے رہے گا۔ آپ نے فرمایا: ’’تو پھر اس سے فائدہ اٹھاتا رہ۔‘‘ ( اسے ابوداود اور بزار نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔) اور امام نسائی نے ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے طلاق دے دو۔‘‘ اس نے کہا: میں تو اس کے بغیر صبر نہیں کر سکتا۔ آپ نے فرمایا: ’’تو پھر اسے اپنے پاس ٹھہرائے رکھو۔‘‘

942

Bulugh al-Maram #942

Hasan

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ - حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ: ((أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ -وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ- احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفَضَحَهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب دو لعان کرنے والوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو عورت کسی قوم میں ایسا بچہ شامل کرے جو اس قوم میں سے نہ ہو تو اس عورت کا اللہ تعالیٰ (کی رحمت اور دین) سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ایسی عورت کو ہرگز اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اور جس مرد نے اپنے بچے کا انکار کیا جبکہ وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہو ‘ تو (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ اس سے پردے میں ہو جائے گا اور اسے پہلی اور پچھلی ساری مخلوق کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا۔‘‘ (اسے ابوداود‘ نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔)

943

Bulugh al-Maram #943

Da'if

وَعَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه - قَالَ: مَنْ أَقَرَّ بِوَلَدٍ طَرْفَةَ عَيْنٍ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْفِيَهُ. أَخْرَجَهُ الْبَيْهَقِيُّ، وَهُوَ حَسَنٌ مَوْقُوفٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس شخص نے لمحہ بھر کے لیے بھی اپنے بچے کا اقرار کیا تو اسے اس کی نفی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ (اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور یہ روایت حسن موقوف ہے۔)

944

Bulugh al-Maram #944

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ؟ قَالَ: ((هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟)) قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ((فَمَا أَلْوَانُهَا؟)) قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ: ((هَلْ فِيهَا مَنْ أَوْرَقَ؟))، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ((فَأَنَّى ذَلِكَ؟))، قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ. قَالَ: ((فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: وَهُوَ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ -، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میری بیوی نے کالے رنگ کا بچہ جنا ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا: ’’کیا تمھارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’ان کے رنگ کیا ہیں؟‘‘ اس نے کہا: سرخ۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا: ’’وہ (رنگ) کہاں سے آگیا؟‘‘ اس نے کہا: کوئی رگ اسے کھینچ لائی ہوگی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: ’’پھر تیرے اس بیٹے کو بھی کوئی رگ کھینچ لائی ہوگی۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: وہ اس بچے کی نفی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ آپ نے اسے بچے کی نفی کی رخصت و اجازت نہ دی۔