Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 8 · Chapter 6

Marriage

بَابُ الْقَسْمِ · بَابُ الْخُلْعِ

10 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

905

Bulugh al-Maram #905

Sahih

عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقْسِمُ، فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: ((اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ)). رَوَاهُ الْأَرْبَعَةُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ، وَلَكِنْ رَجَّحَ التِّرْمِذِيُّ إِرْسَالَه ُ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان باری تقسیم کرتے تھے اور اس معاملے میں انصاف سے کام لیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ’’الٰہی! جو میرے بس میں ہے‘ اس کے مطابق یہ میری تقسیم ہے اور جو میرے بس میں نہیں بلکہ تیرے اختیار میں ہے‘ اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔‘‘ (اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ لیکن ترمذی نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔)

906

Bulugh al-Maram #906

Da'if

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - عَنْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْأَرْبَعَةُ، وَسَنَدُهُ صَحِيحٌ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس کا رجحان ایک کی طرف ہو تو وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہو گا۔‘‘ (اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔)

907

Bulugh al-Maram #907

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، ثُمَّ قَسَمَ، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَسَمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شوہر دیدہ کی موجودگی میں کنواری سے شادی کرے تو اس (نئی دلھن) کے پاس سات دن قیام کرے‘ پھر باری تقسیم کرے۔ اور جب کنواری کی موجودگی میں شوہر دیدہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین روز قیام کرے‘ پھر باری تقسیم کرے۔ (بخاری و مسلم ۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔)

908

Bulugh al-Maram #908

Sahih

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین روز قیام کیا اور فرمایا: ’’تو اپنے اہل خانہ کے ہاں بے قدر (اور حقیر) نہیں ہے۔ اگرتو چاہتی ہے تو میں تیرے لیے سات روز مقرر کرتا ہوں۔ اوراگر تیرے لیے سات دن مقرر کیے تو اپنی باقی سب عورتوں کے ہاں بھی سات سات دن گزاروں گا۔‘‘ (مسلم)

909

Bulugh al-Maram #909

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ان کا اپنا دن اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا دن بھی تقسیم کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)

910

Bulugh al-Maram #910

Hasan

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي! كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ، حَتَّى يَبْلُغَ الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا، فَيَبِيتَ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ. وَلِمُسْلِمٍ: عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يَدْنُو مِنْهُنَّ. الْحَدِيثَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں ہم میں سے کسی کو کسی پر فوقیت و فضیلت نہیں دیتے تھے۔ اور کم ہی ایسا کوئی دن ہوگا جس میں آپ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں۔ آپ ہر بیوی کے پاس جاتے مگر مباشرت نہ کرتے حتیٰ کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس (کی باری) کا دن ہوتا‘ چنانچہ آپ رات اس کے پاس بسر کرتے۔ (اسے احمد اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔اور یہ الفاظ ابوداود کے ہیں‘ نیز حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔) اور مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عصر ادا فرما لیتے تو اپنی ساری بیویوں کے پاس چکر لگاتے، پھر ان کے قریب بھی ہوتے …الحدیث۔

911

Bulugh al-Maram #911

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ((أَيْنَ أَنَا غَدًا?)) ، يُرِيدُ: يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مرض میں وفات پائی اس میں دریافت فرماتے تھے: ’’میں کل کہاں ہوں گا؟ (کل میری باری کس کے ہاں ہے؟‘‘) آپ کا مقصود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دن تھا‘ چنانچہ آپ کی ازواج مطہرات نے اس بات کی اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں‘ پھر آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہی رہے۔ (بخاری و مسلم)

912

Bulugh al-Maram #912

Sahih

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا، خَرَجَ بِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے‘ چنانچہ جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے۔(بخاری و مسلم)

913

Bulugh al-Maram #913

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔)

914

Bulugh al-Maram #914

Sahih

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟))، قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: وَأَمَرَهُ بِطَلَاقِهَا. وَلِأَبِي دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيِّ وَحَسَّنَهُ: ((أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - عِدَّتَهَا حَيْضَةً)). وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِوِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ: أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ كَانَ دَمِيمًا وَأَنَّ امْرَأَتَهُ قَالَتْ: لَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ لَبَسَقْتُ فِي وَجْهِهِ. وَلِأَحْمَدَ: مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ فِي الْإِسْلَامِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین میں کوئی عیب نہیں نکالتی لیکن اسلام (کی موجودگی )میں نافرمانی و ناشکری کو مکروہ جانتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تو اس کا باغ اسے واپس کر دے گی؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں!۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(اے ثابت!) اپنا باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔‘‘ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے‘ اور بخاری ہی کی ایک روایت میں ہے: آپ نے اسے طلاق دینے کا حکم دیا۔ ابوداود اور ترمذی میں ہے‘ اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے‘ کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ اور ابن ماجہ میں عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے منقول روایت میں ہے: ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ خوبصورت نہ تھے اور ان کی بیوی نے کہا: اگر مجھے اللہ کا خوف اور ڈر نہ ہوتا تو جس وقت وہ (خلوت میں) میرے پاس آیا تھا‘ میں اس کے منہ پر تھوک دیتی۔ اور مسند احمد میں حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسلام میں یہ پہلا خلع تھا۔