Bulugh al-Maram #735
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ - رضي الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا وَ أَحَلَّ حَرَامًا، وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ، إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا وَ أَحَلَّ حَرَامًا)). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ. وَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ لِأَنَّ رَاوِيَهُ كَثِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِوِ بْنِ عَوْفٍ ضَعِيفٌ. وَكَأَنَّهُ اعْتَبَرَهُ بِكَثْرَةِ طُرُقِهِ. وَقَدْ صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمرو بن عوف مُزَنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔ مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں سوائے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔‘‘ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اور دوسرے محدثین نے اس کا انکار کیا ہے کیونکہ اس کا ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ضعیف ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترمذی نے کثرت طرق کی وجہ سے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسے صحیح کہا ہے۔)