Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 7 · Chapter 3

Business Transactions

بَابُ الْخِيَارِ

3 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

692

Bulugh al-Maram #692

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدَ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب دو آدمی آپس میں سودا کرنے لگیں تو جب تک وہ اکٹھے رہیں اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں‘ ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہے‘ یا وہ ایک دوسرے کو اختیار دے دیں۔ اگر ایک‘ دوسرے کو اختیار دے دے‘ پھر اس پر سودا طے ہو جائے تو سودا پختہ ہوگیا۔ اور اگر سودا طے کرنے کے بعد ایک دوسرے سے الگ الگ ہو جائیں اور دونوں میں سے کسی نے بھی بیع کو فسخ نہ کیا ہو تو بیع پختہ ہو جائے گی۔‘‘ (بخاری و مسلم۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں)

693

Bulugh al-Maram #693

Sahih

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ; أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا ابْنَ مَاجَهْ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ الْجَارُودِ. وَفِي رِوَايَةٍ: ((حَتَّى يَتَفَرَّقَا عَنْ مَكَانِهِمَا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ (شعیب) سے‘ وہ (شعیب) اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خریدار اور فروخت کرنے والے کو جدا ہونے سے پہلے تک اختیار حاصل ہے‘ الا یہ کہ سودا اختیار والا ہو۔ اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا جائز نہیں ہے۔‘‘ (اسے ابن ما جہ کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے‘ نیز دارقطنی‘ ابن خزیمہ اور ابن جارود نے بھی اسے روایت کیا ہے۔) اور ایک روایت میں ہے: ’’یہاں تک کہ وہ اپنی جگہ سے جدا ہو جائیں۔‘‘

694

Bulugh al-Maram #694

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: ((إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خَلَابَةَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا کہ اسے بیع میں عام طور پر دھوکا دیا جاتا ہے۔ آپ نے (اسے بلا کر) فرمایا: ’’سودا کرتے وقت کہہ دیا کرو کہ کوئی فریب و دھوکا نہیں ہوگا۔‘‘ (بخاری و مسلم)