Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 7 · Chapter 1

Business Transactions

بَابُ شُرُوطِهِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ مِنْهُ (1)

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

648

Bulugh al-Maram #648

Da'if

عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - سُئِلَ: أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ? قَالَ: ((عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ)). رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’آدمی کے اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر قسم کی تجارت جو دھوکے اور فریب سے پاک ہو۔‘‘ (اسے بزار نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا۔)

649

Bulugh al-Maram #649

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ، وَهُوَ بِمَكَّةَ: ((إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ)). فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ تُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَتُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ? فَقَالَ: ((لَا، هُوَ حَرَامٌ)) ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عِنْدَ ذَلِكَ: ((قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں فتح مکہ کے سال یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب‘ مردار‘ خنزیر اور بتوں کی تجارت کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ آپ سے پوچھاگیا: اے اللہ کے رسول! مردار جانور کی چربی کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ کیونکہ اس سے کشتیوں کو طلا کیا جاتا ہے اور چمڑوں کو چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اسے جلا کر روشنی حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’نہیں‘ وہ بھی حرام ہے۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ہی فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ یہود کو غارت کرے‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربیوں کو حرام کر دیا تو انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی۔‘‘ (بخاری و مسلم)

650

Bulugh al-Maram #650

Hasan

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: ((إِذَا اخْتَلَفَ الْمُتَبَايِعَانِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا‘ آپ فرما رہے تھے: ’’جب فروخت کرنے والے اور خریدنے والے میں اختلاف واقع ہو جائے اور ثبوت و شہادت کسی کے پاس نہ ہو تو صاحب مال کی بات معتبر ہو گی‘ یا وہ دونوں اس سودے کو چھوڑ دیں۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

651

Bulugh al-Maram #651

Sahih

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت‘ بدکار عورت کی (بدکاری کی) کمائی اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم)

652

Bulugh al-Maram #652

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ كَانَ [يَسِيرُ] عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَعْيَا. فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ. قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فَدَعَا لِي، وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، قَالَ: ((بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ)) قُلْتُ: لَا. ثُمَّ قَالَ: ((بِعْنِيهِ)) فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ، وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي. فَقَالَ: ((أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ؟ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَهَذَا السِّيَاقُ لِمُسْلِمٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک تھکے ماندے اونٹ پر سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے اسے چھوڑنے کا ارادہ کر لیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اتنے میں پیچھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آملے۔ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی اور اونٹ کو مارا تو وہ ایسی تیز روی سے چلنے لگا کہ اس سے پہلے ایسی تیز رفتاری سے نہیں چلا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے یہ اونٹ ایک اوقیہ چاندی کے عوض فروخت کر دو۔‘‘ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ نے پھر دوبارہ فرمایا: ’’مجھے یہ اونٹ بیچ دو۔‘‘ تو میں نے اسے ایک اوقیہ چاندی کے عوض آپ کو بیچ دیا اور شرط یہ طے کی کہ اپنے گھر والوں تک سوار ہو کر جاؤں گا۔ چنانچہ میں جونہی (مدینہ) پہنچا تو میں وہ اونٹ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ آپ نے اس کی نقد قیمت مجھے ادا فرما دی‘ پھر میں (رقم وصول کرکے) واپس آگیا تو آپ نے میرے پیچھے (اونٹ بھی) بھیج دیا اور فرمایا: ’’کیا تم نے میرے بارے میں گمان کیا کہ میں نے اس لیے قیمت کم کرائی تاکہ تیرا اونٹ لے لوں؟ اپنا اونٹ لے لے اور رقم بھی اپنے پاس رکھ‘ پس وہ تیرے لیے ہے۔‘‘ (بخاری و مسلم‘ یہ سیاق مسلم میں ہے۔)

653

Bulugh al-Maram #653

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ. فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فَبَاعَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے اپنا غلام مدبر کردیا۔ اس غلام کے سوا اس کے پاس اور کوئی مال نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلوایا اور اسے فروخت کر دیا۔ (بخاری و مسلم)

654

Bulugh al-Maram #654

Sahih

وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَضِيَ عَنْهَا -; أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ فِيهِ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - عَنْهَا. فَقَالَ: ((أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوهُ)). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَزَادَ أَحْمَدُ. وَالنَّسَائِيُّ: فِي سَمْنٍ جَامِدٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی۔ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو (جواب میں) آپ نے فرمایا: ’’اسے نکال کر باہر پھینک دو اور اس کے اردگرد کا گھی بھی باہر ڈال دو اور (بقیہ گھی) استعمال کر لو۔‘‘ (بخاری) نسائی اور احمد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: ’’منجمد گھی میں۔‘‘

655

Bulugh al-Maram #655

Da'if

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ، فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَايِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَدْ حَكَمَ عَلَيْهِ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ بِالْوَهْمِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی منجمد ہو تو اس چوہیا کو اور اس کے اردگرد کے گھی کو باہر پھینک دو اور اگر گھی مائع (سیال) ہو تو اس کے قریب بھی نہ پھٹکو۔‘‘ (اسے احمد اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔ بخاری اور ابوحاتم نے اس پر وہم کا حکم لگایا ہے۔)

656

Bulugh al-Maram #656

Sahih

وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ؟ فَقَالَ: زَجَرَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ: إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابو زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بلّے اور کتے کی قیمت کے متعلق پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں زجر و توبیخ فرمائی ہے۔ (مسلم و نسائی) اور نسائی میں یہ اضافہ ہے: ’’شکاری کتے کے علاوہ۔‘‘

657

Bulugh al-Maram #657

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعٍ أُوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ، فَأَعِينِينِي. فَقُلْتُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا. فَقَالَتْ لَهُمْ; فَأَبَوْا عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - جَالِسٌ. فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -. فَقَالَ: ((خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ)) فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي النَّاسِ [خَطِيبًا] ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ، مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ - عز وجل - مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.nوَعِنْدَ مُسْلِمٍ فَقَالَ: اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا (لونڈی) میرے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے اپنے مالکوں سے نو (۹) اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال میں ایک اوقیہ ادا کرتی رہوں گی‘ لہٰذا (اس معاملے میں) میری مدد کریں۔ میں نے کہا: اگر تیرے مالکان کو یہ پسند ہو کہ میں تیری مجموعی رقم یک مشت ادا کر دوں اور تیری ولا میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کرنے کو تیار ہوں۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا یہ تجویز لے کر اپنے مالکان کے پاس گئی اور ان سے یہ کہا تو انھوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس سے واپس آئی‘ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اپنے مالکوں کے سامنے وہ تجویز پیش کی تھی مگر انھوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ولا ان ہی کے لیے ہو گی۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس واقعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اسے لے لو اور ان سے ولا کی شرط کر لو کیونکہ ولا کا حق دار وہی ہے جو آزادی دے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطاب فرمانے کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی‘ پھر فرمایا: ’’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ (یاد رکھو کہ) ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے‘ خواہ سینکڑوں شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ نہایت برحق ہے اور اللہ کی شرط نہایت ہی پختہ اور پکی ہے۔ اور ولا اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔‘‘ (بخاری و مسلم۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔) اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اسے خرید لو اور آزاد کر دو اور ان سے ولا کی شرط کرلو۔‘‘

658

Bulugh al-Maram #658

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ، وَلَا تُوهَبُ، وَلَا تُورَثُ، لِيَسْتَمْتِعْ بِهَا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ. رَوَاهُ مَالِكٌ، وَالْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ: رَفَعَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ، فَوَهِمَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا اور فرمایا: یہ فروخت ہو سکتی ہے نہ ہبہ کی جا سکتی ہے اور نہ میراث میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ جب تک مالک چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جب مالک فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔ (اسے بیہقی اور مالک نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض نے اسے مرفوع کہا ہے جو وہم ہے۔)

659

Bulugh al-Maram #659

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَنَا، أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَالنَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - حَيٌّ، لَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارَقُطْنِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ام ولد لونڈیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں فروخت کردیا کرتے تھے۔ آپ اس میں کوئی قباحت و مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔ (اسے نسائی‘ ابن ماجہ اور دارقطنی تینوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔)

660

Bulugh al-Maram #660

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَعَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد از ضرورت پانی کے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: اور آپ نے اونٹ کی جفتی کا معاوضہ لینے سے بھی منع فرمایا ہے۔

661

Bulugh al-Maram #661

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کی جفتی کے معاوضے کو ممنوع قرار دیا ہے۔ (بخاری)

662

Bulugh al-Maram #662

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ، وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ: كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ بیع دور جاہلیت میں (اس طرح) تھی کہ آدمی اونٹنی اس شرط پر خریدتا کہ اس کی قیمت اس وقت دے گا جب اونٹنی بچہ جنے‘ پھر وہ بچہ جو اونٹنی کے پیٹ میں ہے وہ (آگے ایک بچہ) جنے۔ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں)

663

Bulugh al-Maram #663

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولا کے فروخت کرنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم)

664

Bulugh al-Maram #664

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینک کر تجارت کرنے اور دھوکے کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم)

665

Bulugh al-Maram #665

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کوئی غلہ خریدے تو وہ جب تک اسے ماپ تول نہ لے اسے (آگے) فروخت نہ کرے۔‘‘ (مسلم)

666

Bulugh al-Maram #666

Hasan

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالنَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ. وَلِأَبِي دَاوُدَ: ((مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوَكَسُهُمَا، أَوْ الرِّبَا)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا ہے۔ ( اسے احمدا ور نسائی نے روایت کیا ہے،نیز ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔) اور ابوداود کی روایت میں ہے: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ’’جس کسی نے ایک سودے میں دو سودے کیے‘ اسے یا تو کم ملے گا یا پھر وہ سود لے گا۔‘‘

667

Bulugh al-Maram #667

Sahih

وَعَنْ عَمْرِوِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحَاكِمُ. وَأَخْرَجَهُ فِي ((عُلُومِ الْحَدِيثِ)) مِنْ رِوَايَةِ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَمْرٍو الْمَذْكُورِ بِلَفْظِ: ((نَهَى عَنْ بَيْعٍ وَشَرْطٍ)) وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي ((الْأَوْسَطِ)) وَهُوَ غَرِيبٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ) سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قرض اور بیع (ایک ساتھ) حلال نہیں اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں حلال ہیں۔ اور کسی چیز کا منافع حاصل کرنا اسے اپنے قبضے میں لینے سے پہلے جائز نہیں۔ اور جو چیز تیرے (اپنے) پاس موجود نہ ہو اس کا فروخت کرنا بھی جائز و حلال نہیں۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے‘ نیز امام ترمذی‘ امام ابن خزیمہ اور امام حاکم تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔) امام حاکم نے علوم الحدیث میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی روایت سے مذکورہ حضرت عمرو رحمہ اللہ کے واسطے سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: آپ نے بیع شرط کے ساتھ منع فرمائی ہے۔ (اس حدیث کو طبرانی نے اوسط میں اسی طریق سے نقل کیا ہے اور وہ غریب ہے۔)

668

Bulugh al-Maram #668

Hasan

وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ. رَوَاهُ مَالِكٌ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، بِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن شعیب ہی اپنے والد (شعیب) سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ) سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عربان سے منع فرمایا۔ (اسے امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ اور فرمایا: مجھے عمرو بن شعیب سے یہ روایت پہنچی ہے۔)

669

Bulugh al-Maram #669

Hasan

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: ابْتَعْتُ زَيْتًا فِي السُّوقِ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُهُ لَقِيَنِي رَجُلٌ فَأَعْطَانِي بِهِ رِبْحًا حَسَنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي بِذِرَاعِي، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ: لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ، حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے بازار سے روغن (زیتون) خریدا۔ جب میرا سودا طے ہوگیا تو مجھے ایک آدمی ملا جس نے مجھے اچھا منافع دینے کی پیش کش کی۔ میں نے اس آدمی سے سودا طے کرنے کا ارادہ کر لیا‘ اتنے میں پیچھے سے کسی نے میرا بازو پکڑ لیا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے۔ انھوں نے کہا: جس جگہ سے تم نے اسے خریدا ہے‘ اسی جگہ پر اسے فروخت نہ کرو حتی کہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں سے چیزیں خریدی جائیں وہیں پر فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے‘ جب تک کہ تاجر و سوداگر حضرات اس خریدے ہوئے مال و اسباب کو اپنے گھروں میں نہ لے جائیں۔ (اسے احمد اور ابوداود نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ ابوداود کے ہیں‘ نیز ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہاہے۔)

670

Bulugh al-Maram #670

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَبِيعُ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذَا مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِي هَذَهِ مِنْ هَذِا? فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَتَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بقیع میں اونٹوں کی تجارت کرتا ہوں۔ دینار میں فروخت کر کے درہم وصول کرتا ہوں اور (کبھی) میں فروخت تو درہم میں کرتا ہوں اور وصول دینار کرتا ہوں (یعنی) درہم کے بدلے میں دینار لیتا ہوں اور دینار کے بدلے میں درہم دیتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی حرج نہیں‘ اگر تم اسی روز کے بھاؤ سے ان کا تبادلہ کر لو اور تم دونوں کے ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے رقم کا کوئی حصہ کسی کے ذمے باقی نہ رہے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔)

671

Bulugh al-Maram #671

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: نَهَى - صلى الله عليه وسلم - عَنِ النَّجْشِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے مروی ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجش سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم)

672

Bulugh al-Maram #672

Hasan

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-; - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَعَنْ الثُّنْيَا، إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ - رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا اِبْنَ مَاجَهْ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ‘ مزابنہ‘ مخابرہ اور ثنیا سے منع فرمایا ہے مگر اس صورت میں (بیع ثنیا) جائز ہے کہ اس کی تعیین کر لی جائے۔ (اسے ابن ماجہ کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔)

673

Bulugh al-Maram #673

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَاضَرَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ‘ مخاضرہ‘ ملامسہ‘ منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری)

674

Bulugh al-Maram #674

Sahih

وَعَنْ طَاوُسٍ، عَنِ اِبْنِ عَبَّاسٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ، وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ)). قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ: ((وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ?)) قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طاوس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تجارتی قافلوں کو آگے جا کر نہ ملو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔‘‘ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ’’شہری دیہاتی کا سامان فروخت نہ کرے‘‘ کا کیا مطلب ہے ؟ ا نھوں نے فرمایا: شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے۔ (بخاری و مسلم۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں)

675

Bulugh al-Maram #675

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا تَلَقَّوا الْجَلَبَ، فَمَنْ تُلُقِّيَ فَاشْتُرِيَ مِنْهُ، فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’باہر سے شہر میں غلہ لانے والوں کو آگے جا کر نہ ملو۔ جس (تاجر) سے راستے ہی میں ملاقات کر کے اس کا سامان خرید لیا گیا تو منڈی میں پہنچنے کے بعد مال کے مالک (تاجر) کو اختیار ہے (چاہے سودا باقی رکھے یا منسوخ کر دے۔‘‘) (مسلم)

676

Bulugh al-Maram #676

Sahih

وَعَنْهُ رضي الله عنه قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، ((وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تُسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِمُسْلِمٍ: ((لَا يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ الْمُسْلِمِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے۔ اور (فرمایا): ’’اگر سودا خریدنے کا ارادہ نہ ہو تو بھاؤ مت بڑھاؤ۔ اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح ہی دے۔ اور کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا تقاضا نہ کرے کہ جو اس کا حصہ ہے وہ خود حاصل کر لے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور صحیح مسلم میں ہے: ’’کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے سودے پر سودا نہ کرے۔‘‘

677

Bulugh al-Maram #677

Hasan

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ - رضي الله عنه -[قَالَ]: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: ((مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالْحَاكِمُ، وَلَكِنْ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ. وَلَهُ شَاهِدٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا‘ آپ فرما رہے تھے: ’’جس نے ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالی‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے اور اس کے احباء و اعزہ کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے‘ نیز ترمذی اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے‘ لیکن اس کی سند میں کلام ہے۔ اور اس کا شاہد موجود ہے۔)

678

Bulugh al-Maram #678

Da'if

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ أَبِيعَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ، فَبِعْتُهُمَا، فَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: ((أَدْرِكْهُمَا، فَارْتَجِعْهُمَا، وَلَا تَبِعْهُمَا إِلَّا جَمِيعًا)). رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَقَدْ صَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ الْجَارُودِ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَابْنُ الْقَطَّانِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں دو غلام بھائیوں کو فروخت کروں۔ میں نے ان دونوں کو الگ الگ آدمیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا اور پھر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’دونوں کو جا کر واپس لے آؤ اور دونوں کو اکٹھا ہی فروخت کرو۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں اور اسے ابن خزیمہ‘ ابن جارود‘ ابن حبان‘ حاکم‘ طبرانی اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے۔)

679

Bulugh al-Maram #679

Sahih

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: غَلَا السِّعْرُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! غَلَا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى-، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ منورہ میں چیزوں کے بھاؤ چڑھ گئے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اشیاء کے نرخ (بڑے) تیز ہو گئے ہیں‘ آپ ہمارے لیے (ان کے) نرخ مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نرخ کا تعین کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے‘ وہی تنگی کرنے والا‘ فراخی کرنے والا اور رازق ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملوں تو کوئی شخص جان و مال کی بابت ظلم کی بنا پر مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔‘‘ (نسائی کے سوا اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

680

Bulugh al-Maram #680

Sahih

وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رضي الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے‘ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’خطا کار کے سوا ذخیرہ اندوزی کوئی نہیں کرتا۔‘‘ (مسلم)

681

Bulugh al-Maram #681

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا تَصُرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدُ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِمُسْلِمٍ: ((فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ)). وَفِي رِوَايَةٍ: لَهُ، عَلَّقَهَا - الْبُخَارِيُّ: ((رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، لَا سَمْرَاءَ)). قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَالتَّمْرُ أَكْثَرُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’(فروخت کرتے وقت) اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کا دودھ ان کے تھنوں میں نہ روکو۔ جو شخص ایسا جانور خرید لے تو اسے اس کا دودھ دوہنے کے بعد دو باتوں میں سے بہتر کے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے‘ چاہے اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے اور چاہے تو ایک صاع کھجور ساتھ دے کر واپس کر دے۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے: ’’اسے تین دن تک اختیار ہے۔‘‘ اور مسلم کی ایک دوسری روایت جسے بخاری نے بھی تعلیقاً نقل کیا ہے‘ اس میں ہے: ’’اس کے ساتھ عمدہ گندم نہیں بلکہ ایک صاع کسی اور کھانے والی چیز سے واپس کرے۔‘‘ امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اکثر روایات میں کھجور کا ذکر ہے۔

682

Bulugh al-Maram #682

Sahih

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: مَنِ اشْتَرَى شَاةً مَحَفَّلَةً، فَرَدَّهَا، فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَزَادَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: مِنْ تَمْرٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص ایسی بکری خریدے جس کا دودھ تھنوں میں روک دیا گیا ہو‘ پھر وہ اسے واپس کرے تو اسے چاہیے کہ اس کے ساتھ ایک صاع واپس کرے۔ (بخاری) اور اسماعیلی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ ایک صاع کھجوریں ہوں۔

683

Bulugh al-Maram #683

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: ((مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟)) قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: ((أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ; كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اناج کے ایک ڈھیر کے قریب سے ہوا۔ آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی۔ آپ نے فرمایا: ’’اے اناج کے مالک! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش برس گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’پھر تو نے اس (نمی زدہ حصے) کو اناج کے اوپر کیوں نہ ڈال دیا تاکہ (خریدار) لوگ اسے دیکھ لیتے۔ جس نے دھوکا دیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘(مسلم)

684

Bulugh al-Maram #684

Da'if

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَنْ حَبَسَ الْعِنَبَ أَيَّامَ الْقِطَافِ، حَتَّى يَبِيعَهُ مِمَّنْ يَتَّخِذُهُ خَمْرًا، فَقَدَ تَقَحَّمَ النَّارَ عَلَى بَصِيرَةٍ)). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي ((الْأَوْسَطِ)) بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے انگوروں کو ان کے اتارنے کے ایام میں روک لیا تاکہ اسے کسی شراب بنانے والے کے ہاتھ فروخت کرے تو وہ جانتے بوجھتے آتش جہنم میں داخل ہوا۔‘‘ (اسے طبرانی نے اوسط میں حسن سند سے روایت کیا ہے۔)

685

Bulugh al-Maram #685

Hasan

وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الخَرَاجُ بِالضَّمَانِ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ، وَابْنُ الْجَارُودِ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَالْحَاكِمُ، وَابْنُ الْقَطَّانِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آمدنی کا حق دار وہی ہے جو ضامن ہے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ بخاری اور ابوداود نے ضعیف جبکہ ترمذی‘ ابن خزیمہ‘ ابن جارود‘ ابن حبان‘ حاکم اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

686

Bulugh al-Maram #686

Sahih

وَعَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - أَعْطَاهُ دِينَارًا يَشْتَرِي بِهِ أُضْحِيَّةً، أَوْ شَاةً، فَاشْتَرَى شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَأَتَاهُ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى تُرَابًا لَرَبِحَ فِيهِ. رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيَّ. وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ضِمْنَ حَدِيثٍ، وَلَمْ يَسُقْ لَفْظَهُ. وَأَوْرَدَ التِّرْمِذِيُّ لَهُ شَاهِدًا: مِنْ حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار عطا فرمایا۔ انھوں نے ایک دینار کے عوض دو بکریاں خریدیں‘ پھر ان دو میں سے ایک کو ایک دینار کے عوض فروخت کر دیا اور ایک بکری اور ایک دینار لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا فرمائی‘ چنانچہ وہ ایسے تھے کہ اگر مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی انھیں ضرور نفع حاصل ہوتا۔ (نسائی کے سوا پانچوں نے اسے روایت کیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک حدیث کے ضمن میں اسے روایت کیا ہے‘ مگر یہ الفاظ نقل نہیں کیے اور ترمذی نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو اس کے لیے بطور شاہد بیان کیا ہے۔)

687

Bulugh al-Maram #687

Da'if

وَعَنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - نَهَى عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ، وَعَنْ بَيْعِ مَا فِي ضُرُوعِهَا، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَزَّارُ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ کے بچوں کو ان کی پیدائش سے پہلے خریدنے سے منع فرمایا اور ان کے تھنوں میں (جمع شدہ) دودھ کو خریدنے سے منع فرمایا اور بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے منع فرمایا اور اموال غنیمت کو تقسیم سے پہلے خریدنے سے منع فرمایا اور صدقات کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدنے سے منع فرمایا اور غوطہ لگانے والے کے غوطے (سے حاصل ہونے والی چیز کی پیشگی خریداری) سے منع فرمایا۔ (اسے ابن ماجہ‘ بزار اور دارقطنی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔)