Muslim99Muslim99

Bulugh al-Maram · Book 2 · Chapter 1

Prayer

Hadith 129–168

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

129

Bulugh al-Maram #129

Sahih

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِوٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبْ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَلَهُ مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ فِي الْعَصْرِ: ((وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ)). وَمِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى: ((وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نماز ظہر کا وقت زوال آفتاب سے آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے تک ہے‘ جب تک کہ عصر کا وقت شروع نہ ہو۔ اور عصر کا وقت سورج کی رنگت زرد ہو جانے تک رہتا ہے۔ اور نماز مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک رہتا ہے۔ اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے۔ اور نماز فجر کا وقت صبح صادق کے طلوع سے شروع ہو کر طلوع شمس تک رہتا ہے۔‘‘ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)اور مسلم ہی میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے عصر کے بارے میں مروی ہے: ’’سورج سفید اور بالکل صاف حالت میں ہو۔‘‘ (زردی میں داخل نہ ہو۔) اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’آفتاب بلند ہو۔‘‘ (غروب کی طرف مائل نہ ہو۔)

130

Bulugh al-Maram #130

Sahih

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ مِنَ الْعِشَاءِ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَعِنْدَهُمَا مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ: وَالْعِشَاءُ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا: إِذَا رَآهُمْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ: كَانَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ. وَلِمُسْلِمٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى: فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھاتے‘ پھر ہم میں سے ایک آدمی اپنے گھر لوٹتا جو مدینے کے آخری کنارے پر ہوتا اور ابھی سورج زندہ (روشن‘ صاف) ہی ہوتا۔ آپ نماز عشاء کو کچھ تاخیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ اور نماز عشاء سے پہلے سونے کو اور بعد میں (غیر ضروری) باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے۔ اور نماز فجر سے ایسے وقت میں فارغ ہوتے جب کہ نمازی اپنے ساتھ والے شخص کو پہچان لیتا۔ آپ (عموماً) ساٹھ سے سو آیات تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)اور بخاری و مسلم ہی میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ نماز عشاء کبھی جلدی پڑھ لیتے اور کبھی تاخیر سے ادا کرتے۔ جب آپ دیکھتے کہ نمازی جمع ہو گئے ہیں تو جلد پڑھا دیتے اور اگر دیکھتے کہ نمازیوں نے آنے میں دیر کر دی ہے تو تاخیر کر دیتے‘ البتہ صبح کی نماز آپ اندھیرے ہی میں پڑھتے تھے۔ اور مسلم میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے صبح کی نماز صبح صادق طلوع ہوتے ہی شروع فرما دی یہاں تک کہ (اندھیرے کی وجہ سے) صحابہ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔

131

Bulugh al-Maram #131

Sahih

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز مغرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے‘ پھر ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوتا تو اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا۔ (بخاری و مسلم)

132

Bulugh al-Maram #132

Sahih

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعِشَاءِ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى، وَقَالَ: ((إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي)). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شب نماز عشاء اتنی تاخیر سے پڑھی کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا‘ پھر آپ تشریف لائے اور نماز پڑھی، پھر فرمایا: ’’عشاء کا (افضل) وقت یہ ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں (تو میں یہی وقت مقرر کرتا۔‘‘) (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔)

133

Bulugh al-Maram #133

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب گرمی کی شدت ہو تو ٹھنڈے وقت میں نماز پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔‘‘(بخاری و مسلم)

134

Bulugh al-Maram #134

Hasan

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’روشن کرو صبح کو (لمبی قراء ت کر کے۔) ایسا کرنا تمھارے اجر میں اضافے کا موجب ہے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔)

135

Bulugh al-Maram #135

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِمُسْلِمٍ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: ((سَجْدَةً)) بَدَلَ ((رَكْعَةً)). ثُمَّ قَالَ: وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت پالی‘ اس نے صبح کی نماز پالی۔ اور جس نے غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پا لی‘ اس نے عصر کی نماز پا لی۔‘‘ (بخاری و مسلم)اور مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں بھی اسی طرح مروی ہے مگر اس میں (رَکْعَۃً) کی جگہ (سَجْدَۃً) کا لفظ ہے‘ پھر کہا کہ سَجْدَۃ سے مراد رکعت ہی ہے۔

136

Bulugh al-Maram #136

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: ((لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلَفْظُ مُسْلِمٍ: ((لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ)). وَلَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّي فِيهِنَّ، وَأَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَتَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ. وَالْحُكْمُ الثَّانِي عِنْدَ ((الشَّافِعِيِّ)) مِنْ:nحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ. وَزَادَ: إِلَّا يَوْمَ الْجُمْعَةِ. وَكَذَا لِأَبِي دَاوُدَ: عَنْ أَبِي قَتَادَةَ نَحْوُهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے :’’صبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز (جائز) نہیں اور نماز عصر ادا کر چکنے کے بعد غروب آفتاب تک کوئی دوسری نماز (جائز) نہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور مسلم کے الفاظ ہیں: ’’نماز فجر کے بعد کوئی نمازنہیں۔‘‘ مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں نماز پڑھنے اور میت کی تدفین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں منع فرمایا کرتے تھے: اول‘ یہ کہ جب آفتاب طلوع ہو رہا ہو‘ تاآنکہ وہ بلند ہو جائے۔ دوم‘ جب دوپہر کو سورج سیدھا کھڑا ہو جب تک کہ ڈھل نہ جائے اور سوم‘ جس وقت سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے۔ دوسرا حکم امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ضعیف سند سے روایت کیا ہے‘ مگر اس میں [إِلَّا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ] کے الفاظ زیادہ ہیں‘ یعنی نصف النہار کے وقت نماز نہ پڑھو مگر جمعہ کے روز پڑھ سکتے ہو اور ابوداود نے بھی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس کے مانند روایت نقل کی ہے ۔

137

Bulugh al-Maram #137

Sahih

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَونَهَارٍ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عبد مناف کی اولاد! بیت اللہ کا طواف کرنے والے اور (اس میں) نماز پڑھنے والے کسی شخص کو نہ روکو‘ خواہ وہ شب و روز کی کسی گھڑی میں یہ کام کرے۔ ‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے‘ نیز ترمذی اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔)

138

Bulugh al-Maram #138

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا; عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ)). رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَصَحَّحَ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَغَيْرُهُ وَقْفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ’’شفق سے مراد سرخی ہے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ وغیرہ نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح کہاہے۔)

139

Bulugh al-Maram #139

Hasan

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يُحَرِّمُ الطَّعَامَ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجْرٌ تَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ - أَيْ: صَلَاةُ الصُّبْحِ - وَيَحِلَّ فِيهِ الطَّعَامُ)). رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ، وَالْحَاكِمُ، وَصَحَّحَاهُ. وَلِلْحَاكِمِ فِي حَدِيثِ جَابِرٍ - رضي الله عنه - نَحْوُهُ، وَزَادَ فِي الَّذِي يُحَرِّمُ الطَّعَامَ: ((إِنَّهُ يَذْهَبُ مُسْتَطِيلًا فِي الْأُفُقِ)) وَفِي الْآخَرِ: ((إِنَّهُ كَذَنَبِ السِّرْحَان)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فجر دو قسم کی ہے: ایک فجر وہ ہے جو کھانے کو حرام کر دیتی ہے اور نماز اس میں حلال ہے۔ اور ایک فجر وہ ہے جس میں نماز ( فجر) پڑھنا حرام ہے اور کھانا جائز و حلال۔‘‘ (اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے صحیح بھی قرار دیا ہے۔) اور مستدرک حاکم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اس میں اس فجر کے بارے میں جو کھانے کو حرام کر دیتی ہے‘ یہ اضافہ ہے کہ وہ آسمان کے کناروں اور اطراف میں لمبے رخ پھیل جاتی ہے۔ اور دوسری فجر کے بارے میں ہے کہ وہ بھیڑیے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے۔

140

Bulugh al-Maram #140

Sahih

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا)). رَوَاهُ التّ??رْمِذِيُّ، وَالْحَاكِمُ. وَصَحَّحَاهُ. وَأَصْلُهُ فِي ((الصَّحِيحَيْنِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اول وقت میں نماز پڑھنا سب اعمال سے افضل ہے۔‘‘ (اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔)

141

Bulugh al-Maram #141

Da'if

وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهُ، وَأَوْسَطُهُ رَحْمَةُ اللَّهِ; وَآخِرُهُ عَفْوُ اللَّهِ)). أَخْرَجَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ جِدًّا. وَلِلتِّرْمِذِيِّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ، دُونَ الْأَوْسَطِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اول وقت (میں نماز پڑھنا) رضائے الٰہی کا موجب ہے۔ اور درمیانے وقت میں (ادائیگی ٔنماز) رحمت الٰہی کا سبب ہے۔ اور آخر وقت (میں ادا کرنا) اللہ تعالیٰ سے معافی کا باعث ہے۔‘‘ (اسے دارقطنی نے نہایت ضعیف سند سے روایت کیا ہے اور ترمذی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں لفظ [أَوْسَط] مذکور نہیں اور وہ بھی ضعیف ہے۔)

142

Bulugh al-Maram #142

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ)). أَخْرَجَهُ الْخَمْسَةُ، إِلَّا النَّسَائِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: ((لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ)). وَمِثْلُهُ لِلدَّارَقُطْنِيّ عَنِ ابْنِ عَمْرِوِ بْنِ الْعَاصِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی (نفل) نماز نہیں۔‘‘ (اسے نسائی کے علاوہ پانچوں نے روایت کیا ہے۔) اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے: ’’طلوع فجر کے بعد صرف فجر کی دو رکعات ہیں۔‘‘ اور دارقطنی میں حضرت ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

143

Bulugh al-Maram #143

Sahih

وَعَنْ أَمْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((شُغِلْتُ عَنْ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ))، قُلْتُ: أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتْنَا? قَالَ: ((لَا)). أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ. وَلِأَبِي دَاوُدَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمَعْنَاهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ میں نے آپ سے ان کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ظہر کے (فرائض کے) بعد کی دو سنتیں مشغولیت کی وجہ سے نہیں پڑھ سکا تھا‘ میں نے وہ اب پڑھی ہیں۔‘‘ میں نے پھر عرض کیا: اگر یہ دو سنتیں قضا ہو جائیں تو کیا ہم بھی ان کی قضا دیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ (اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداود میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔)

144

Bulugh al-Maram #144

Hasan

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ - رضي الله عنه - قَالَ: طَافَ بِي - وَأَنَا [ص:54] نَائِمٌ - رَجُلٌ فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرَ اللَّهِ أَكْبَرُ، فَذَكَرَ الْآذَانَ - بِتَرْبِيع التَّكْبِيرِ بِغَيْرِ تَرْجِيعٍ، وَالْإِقَامَةَ فُرَادَى، إِلَّا قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: ((إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ ... )). الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ خُزَيْمَةَ. وَزَادَ أَحْمَدُ فِي آخِرِهِ قِصَّةَ قَوْلِ بِلَالٍ فِي آذَانِ الْفَجْرِ: ((الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ)). وَلِابْنِ خُزَيْمَةَ: عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْفَجْرِ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خواب میں مجھے ایک آدمی ملا جس نے مجھے کہا کہ کہو: [اَللّٰہُ أَکْبَـرُ اللّٰہُ أَکْبَـرُ]، پھر اس نے ساری اذان کہی‘ چار مرتبہ [اَللّٰہُ أَکْبَـرُ] کہا۔ بغیر ترجیع کے اذان کہی اور اقامت (تکبیر) ایک ایک مرتبہ کہی‘ مگر [قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ] کو دو مرتبہ کہا۔ صبح جب میں بیدار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور اپنا خواب آپ کو سنایا۔) آپ نے فرمایا: ’’یقینا یہ خواب سچا ہے۔‘‘ یہ لمبی حدیث ہے۔ (اسے احمد اور ابوداود نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)اور احمد نے اس روایت کے آخر میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی فجر کی اذان میں [اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ] کا قصہ بھی مزید بیان کیا ہے ۔اور ابن خزیمہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا: جب مؤذن صبح کی اذان میں [حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ] کہے تو وہ کہے: [اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ]۔ یہ (کہنا) سنت ہے۔

145

Bulugh al-Maram #145

Sahih

عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - عَلَّمَهُ الْآذَانَ، فَذَكَرَ فِيهِ التَّرْجِيعَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ. وَلَكِنْ ذَكَرَ التَّكْبِيرَ فِي أَوَّلِهِ مَرَّتَيْنِ فَقَطْ. وَرَوَاهُ الْخَمْسَةُ فَذَكَرُوهُ مُرَبَّعًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اذان سکھائی۔ اس میں انھوں نے ترجیع کا ذکر کیا ہے۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے لیکن اس میں اذان کے آغاز میں ’’اللہ اکبر‘‘ صرف دو مرتبہ کہنے کا ذکر ہے۔ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو پانچوں نے روایت کیا ہے اور انھوں نے ’’اللہ اکبر‘‘ کو شروع میں چار مرتبہ کہنے کا ذکر کیا ہے۔)

146

Bulugh al-Maram #146

Sahih

وَعَنْ أَنَسِ [بْنِ مَالِكٍ]- رضي الله عنه - قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْآذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ، إِلَّا الْإِقَامَةَ، يَعْنِي قَوْلَهُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسْلِمٌ الِاسْتِثْنَاءَ. وَلِلنَّسَائِيِّ: أَمَرَ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِلَالًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور تکبیر میں [قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ] کے علاوہ باقی جملہ کلمات کو ایک ایک مرتبہ کہنے کا حکم دیا گیا۔ (بخاری ومسلم) البتہ مسلم نے [قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ] کے استثنا کا ذکر نہیں کیا۔ اور نسائی میں ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا۔

147

Bulugh al-Maram #147

Sahih

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَأَتَتَبَّعُ فَاهُ، هَاهُنَا وَهَاهُنَا، وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ. وَلِابْنِ مَاجَهْ: وَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ. وَلِأَبِي دَاوُدَ: لَوَى عُنُقَهُ، لَمَّا بَلَغَ ((حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ)) يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَمْ يَسْتَدِرْ. وَأَصْلِهِ فِي الصَّحِيحَيْنِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا اور میں نے ان کے چہرے کو بغور دیکھا کہ وہ اپنا چہرہ ادھر ادھر (دائیں بائیں جانب) پھیرتے تھے۔ اور ان کی دونوں انگلیاں (انگشت ہائے شہادت) ان کے کانوں میں تھیں۔ (اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے۔) اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کر لیں۔ اور ابوداود میں ہے کہ جب وہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔ اور اس کی اصل صحیحین میں ہے۔

148

Bulugh al-Maram #148

Sahih

وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ - رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - أَعْجَبَهُ صَوْتُهُ، فَعَلَّمَهُ الْآذَانَ. رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی آواز بہت پسند آئی‘ چنانچہ آپ نے اسے خود اذان سکھلائی۔ (اسے ابن خزیمہ نے روایت کیاہے۔)

149

Bulugh al-Maram #149

Sahih

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - الْعِيدَيْنِ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَنَحْوُهُ فِي الْمُتَّفَقِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -، وَغَيْرُهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک دو مرتبہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین کی نمازیں ادا کیں۔ اس کے لیے نہ اذان دی جاتی تھی اور نہ اقامت کہی جاتی تھی۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔)

150

Bulugh al-Maram #150

Sahih

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةٌ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ، - فِي نَوْمهُمْ عَنِ الصَّلَاةِ - ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَلَهُ عَنْ جَابِرٍ; - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ. وَلَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ. زَادَ أَبُو دَاوُدَ: لِكُلِّ صَلَاةٍ. وَفِي رِوَايَةِ لَهُ: وَلَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے‘ جس میں (دوران سفر میں غلبۂ نیند اور تھکاوٹ کی وجہ سے) نماز کے وقت صحابہ کے سوئے رہ جانے کا ذکر ہے۔ (جب نیند سے بیداری ہوئی تو) حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح روزانہ آپ کا معمول تھا۔ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔) اور مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں پہنچے تو وہاں آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھیں۔ اورمسلم ہی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء دونوں نمازیں جمع کر کے ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا فرمائیں۔ اور ابوداود نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی۔ اور اسی کی ایک روایت میں منقول ہے کہ ان دونوں نمازوں میں سے کسی کے لیے بھی اذان نہیں دی گئی۔

151

Bulugh al-Maram #151

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ))، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي، حَتَّى يُقَالَ لَهُ: أَصْبَحْتَ، أَصْبَحْتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي آخِرِهِ إِدْرَاجٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم دونوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقینا بلال ( رضی اللہ عنہ ) رات کو اذان کہتا ہے۔ تم لوگ ابن ام مکتوم ( رضی اللہ عنہ ) کی اذان تک کھا پی لیا کرو۔‘‘ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینے آدمی تھے، جب تک لوگ انھیں یہ نہ کہتے کہ صبح ہوگئی‘ صبح ہوگئی، وہ اذان نہیں کہتے تھے۔ (بخاری و مسلم- اس کے آخر میں مدرج کلام ہے۔)

152

Bulugh al-Maram #152

Da'if

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: إِنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يَرْجِعَ، فَيُنَادِيَ: ((أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ)). رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک روز) حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے ہی اذان کہہ دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ جائیں اور یہ اعلان کریں کہ ’’خبردار! بے شک بندے کو نیند آگئی تھی۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔)

153

Bulugh al-Maram #153

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلِلْبُخَارِيِّ: عَنْ مُعَاوِيَةَ. وَلِمُسْلِمٍ: عَنْ عُمَرَ فِي فَضْلِ الْقَوْلِ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ كَلِمَةً كَلِمَةً، سِوَى الْحَيْعَلَتَيْنِ، فَيَقُولُ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم اذان سنو تو تم بھی اسی طرح کہتے جاؤ جس طرح مؤذن کہہ رہا ہو۔‘‘ (بخاری و مسلم) بخاری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت ہے۔ اور مسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے جو مؤذن کے جواب میں اسی طرح ایک ایک کلمہ کہنے کی فضیلت کے بارے میں ہے‘ بجز حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور حَيَّ عَلَی الْفَلَاح کے کہ ان کلمات کی جگہ لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہے۔

154

Bulugh al-Maram #154

Sahih

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ - رضي الله عنه - أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي. قَالَ: ((أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا)). أَخْرَجَهُ الْخَمْسَةُ، وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ، وَصَحَّحَهُ الْحَاكِمُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا: ’’تم ان کے امام ہو‘ ان میں سے سب سے زیادہ کمزور کو اپنا نمونہ بناؤ اور مؤذن ایسے آدمی کو مقرر کرو جو اذان کہنے کی اجرت نہ لے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔)

155

Bulugh al-Maram #155

Sahih

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ لَنَا النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم: ((وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ... )). الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ السَّبْعَةُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ’’جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی ایک تمھارے لیے اذان کہے۔‘‘ پھر پوری حدیث بیان کی۔ (اسے ساتوں نے روایت کیا ہے۔)

156

Bulugh al-Maram #156

Da'if

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لِبِلَالٍ: ((إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ، وَإِذَا أَقَمْتُ فَاحْدُرْ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ)). الْحَدِيثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ. وَلَهُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ)). وَضَعَّفَهُ أَيْضًا. وَلَهُ: عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ)). وَضَعَّفَهُ أَيْضًا. وَلِأَبِي دَاوُدَ: فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُهُ - يَعْنِي: الْأَذَانَ - وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ. قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ)). وَفِيهِ ضَعْفٌ أَيْضًا.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’جب اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر کہو اور جب تکبیر کہو تو ذرا جلدی جلدی کہو۔ اذان اور اقامت کے مابین اتنا وقفہ کروکہ کھانا کھانے والا اپنے کھانے سے فارغ ہو جائے (تاکہ جماعت میں شریک ہو سکے)۔‘‘ پھر حدیث پوری بیان کی۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔) اورترمذی ہی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’باوضو شخص کے علاوہ کوئی اذان نہ کہے۔‘‘ (اسے بھی ترمذی نے ضعیف قرار دیا ہے۔) اور ترمذی نے حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اذان کہے وہی اقامت کہے۔‘‘ (اسے بھی انھوں نے ضعیف قرار دیا ہے۔) اور ابوداود میں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ میں نے اسے‘ یعنی اذان کو خواب میں دیکھا تھا اور میری تمنا تھی کہ مجھے مؤذن مقرر کیا جائے۔ آپ نے فرمایا: ’’تم تکبیر کہو۔‘‘ (اس میں بھی ضعف ہے۔)

157

Bulugh al-Maram #157

Da'if

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((الْمُؤَذِّنُ أَمْلَكُ بِالْأَذَانِ، وَالْإِمَامُ أَمْلَكُ بِالْإِقَامَةِ)). رَوَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ. وَلِلْبَيْهَقِيِّ نَحْوُهُ: عَنْ عَلِيٍّ مِنْ قَوْلِهِ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر کہنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘ (اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ اور بیہقی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی اسی طرح منقول ہے۔)

158

Bulugh al-Maram #158

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ)). رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اذان اور اقامت کے درمیانی وقفے میں دعا مسترد نہیں کی جاتی۔‘‘ (اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

159

Bulugh al-Maram #159

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ)). أَخْرَجَهُ الْأَرْبَعَةُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس آدمی نے اذان سن کر یہ دعا کی تو اس کے لیے قیامت کے روز میری شفاعت لازم ہوگئی: [اللّٰھم رب ھذہ الدعوۃ… الذي وعدتہ] ’’اے اللہ! اے اس کامل دعا و پکار اور ہمیشہ رہنے والی نماز کے مالک! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انھیں اس مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘ (اسے چاروں نے روایت کیا ہے۔)

160

Bulugh al-Maram #160

Hasan

عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ، وَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيُعِدْ الصَّلَاةَ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن طلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دوران نماز میں جب تم میں سے کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ واپس جائے‘ ازسر نو وضو کرے اور نماز دوبارہ پڑھے۔‘‘ (اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔)

161

Bulugh al-Maram #161

Sahih

وَ عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها ، عَنْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: ((لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ)). رَوَاهُ الْخَمْسَةُ إِلَّا النَّسَائِيُّ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں‘ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کسی بالغہ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں کرتا۔‘‘ (اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

162

Bulugh al-Maram #162

Sahih

وَعَنْ جَابِرٍ - رضي الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ لَهُ: ((إِنْ كَانَ الثَّوْبُ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ))، يَعْنِي: فِي الصَّلَاةِ. وَلِمُسْلِمٍ: ((فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ - وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ)). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلَهُمَا مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه: ((لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ)).

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’جب کپڑا بڑا اور فراخ ہو تو اسے نماز میں جسم پر لپیٹ لو۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے: ’’(کہ کپڑا کشادہ ہو تو) کپڑے کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف کندھوں پر ڈال لو۔ اور اگر کپڑا تنگ ہو تو اسے تہبند کی صورت میں باندھ لو۔‘‘ (بخاری و مسلم) اور بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’تم میں سے کوئی شخص بھی ایک کپڑے میں (اس طرح) نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو۔‘‘

163

Bulugh al-Maram #163

Da'if

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم: ((أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ، بِغَيْرِ إِزَارٍ? قَالَ: ((إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا)). أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ وَصَحَّحَ الْأَئِمَّةُ وَقْفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا کوئی عورت تہبند کے بغیر محض قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’جب قمیص اتنی لمبی اور فراخ ہو کہ قدموں کے اوپر والے حصوں تک پہنچ جائے تو جائز ہے۔‘‘ (اسے ابوداود نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔)

164

Bulugh al-Maram #164

Da'if

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي لَيْلَةٍ مَظْلَمَةٍ، فَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّيْنَا. فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَنَزَلَتْ: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ} [البقرة: 115]. أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک اندھیری رات میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو قبلے کا رخ شناخت کرنا ہم پر دشوار ہوگیا۔ ہم نے (اندازاً قبلے کا رخ متعین کر کے) نماز پڑھ لی۔ جب آفتاب طلوع ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم نے غیرقبلے کی جانب نماز پڑھی تھی‘ چنانچہ (اس موقع پر) یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ﴾ ’’پس جدھر تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کا چہرہ ہے۔‘‘ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔)

165

Bulugh al-Maram #165

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم: ((مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ)). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَوَّاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔‘‘ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور بخاری نے قوی قرار دیا ہے۔)

166

Bulugh al-Maram #166

Sahih

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. زَادَ الْبُخَارِيُّ: يُومِئُ بِرَأْسِهِ، وَلَمْ يَكُنْ يَصْنَعُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ. وَلِأَبِي دَاوُدَ: مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ: كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَجْهُ رِكَابِهِ. وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے دیکھاہے‘ وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ (بخاری و مسلم) اور بخاری نے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ اپنے سر مبارک سے اشارے (کے ساتھ نماز ادا) فرماتے‘ اور فرض نماز میں ایسا نہیں کرتے تھے۔اور ابوداود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آپ سفر کرتے اور نفلی نماز پڑھنا چاہتے تو (ایک مرتبہ) اپنی اونٹنی کا رخ قبلے کی طرف موڑ دیتے اور تکبیر کہتے ‘ اس کے بعد پھر سواری کا رخ جس جانب بھی ہو جاتا‘ نماز پڑھتے رہتے۔ (اس حدیث کی سند حسن ہے۔)

167

Bulugh al-Maram #167

Sahih

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رضي الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم: ((الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ)). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَلَهُ عِلَّةٌ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قبرستان اور حمام کے سوا ساری زمین مسجد ہے۔ (جہاں چاہو نماز پڑھ لو)۔‘‘ (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک علت ہے۔)

168

Bulugh al-Maram #168

Da'if

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا-[قَالَ]: نَهَى النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ: الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَالْحَمَّامِ، وَمَعَاطِنِ الْإِبِلِ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: گھورے (کوڑا ڈالنے کی جگہ)‘ ذبح خانے‘ قبرستان‘ شارع عام‘ حمام‘ باڑوں (اونٹ باندھنے کی جگہوں) میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔ (اسے ترمذی نے روایت کیاہے اور ضعیف کہا ہے۔)