377 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لِي هَذَا الْكِتَابَ : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وُجُوهِهَا فَلْيُعْطِهَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهُ فَلَا يُعْطِهِ ، فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِنْ بَلَغَتْ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ . فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ ، مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَتُهُ مِنَ الْإِبِلِ الْجَذَعَةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ [1/137] دِرْهَمًا ، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ الْحِقَّةُ ، وَعِنْدَهُ الْجَذَعَةُ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، فَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ مَخَاضٍ وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ ابْنُ اللَّبُونِ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ . فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ . وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ، وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ . وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا . وَفِي الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشْرِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ [1/138] رَبُّهَا .
EnglishUnverified translation
Muhammad ibn Yahya narrated to us, he said: Muhammad ibn 'Abdullah ibn al-Muthanna ibn 'Abdullah ibn Anas ibn Malik al-Ansari narrated to us, he said: my father narrated to me, from Thumamah ibn 'Abdullah ibn Anas, that he heard Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) say: Abu Bakr al-Siddiq sent me to Bahrain and wrote for me this letter: In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. This is the obligation of charity which the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) imposed upon the Muslims, which Allah commanded His Messenger (peace and blessings of Allah be upon him) with: whoever of the believers is asked for it in its proper amounts should give it, and whoever is asked for more should not give it. For twenty-four camels or fewer, sheep: one sheep for every five. When they reach twenty-five to thirty-five, a female bint makhad; if there is no female bint makhad, a male ibn labun. From thirty-six to forty-five, a bint labun. From forty-six to sixty, a hiqqah ready to be mounted by the stallion. From sixty-one to seventy-five, a jadha'ah. From seventy-six to ninety, two bint labuns. From ninety-one to one hundred twenty, two hiqqahs ready for the stallion. Beyond one hundred twenty, for every forty a bint labun and for every fifty a hiqqah. When ages of camels differ in charity obligations: one whose due reaches a jadha'ah but has no jadha'ah and has a hiqqah, the hiqqah is accepted from him with two sheep if available, or twenty dirhams. One whose due is a hiqqah but has no hiqqah and has a jadha'ah, the jadha'ah is accepted and the collector pays him twenty dirhams or two sheep. One whose due is a hiqqah but has only a bint labun, it is accepted with two sheep or twenty dirhams. One whose due is a bint labun but has a hiqqah, the hiqqah is accepted and the collector pays him twenty dirhams or two sheep. One whose due is a bint labun but has only a bint makhad, it is accepted and he pays twenty dirhams or two sheep. One whose due is a bint makhad but has a bint labun, it is accepted and the collector pays him twenty dirhams or two sheep. One who has no bint makhad as due but has a male ibn labun, the ibn labun is accepted with nothing extra. One who has only four camels owes nothing unless its owner wishes; at five camels, one sheep is due. For sheep charity on grazing sheep: at forty sheep, one sheep up to one hundred twenty; above one hundred twenty up to two hundred, two sheep; above two hundred up to three hundred, three sheep; above three hundred, one sheep per hundred. No old, defective, or male goat shall be taken in charity unless the collector wishes. Separated animals shall not be joined, nor joined ones separated, for fear of charity. Two partners settle evenly between them. If a man's grazing sheep are one short of forty, there is no charity unless its owner wishes. For silver, a quarter of a tenth; if one's wealth is only one hundred ninety dirhams, there is no charity unless its owner wishes.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
محمد بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ بن عبداللہ بن انس بن مالک الانصاری نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے بیان کیا، ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: مجھے ابوبکر صدیق نے بحرین بھیجا اور میرے لیے یہ خط لکھا: اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یہ صدقے کا فریضہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا، جس کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: مومنوں میں سے جس سے اس کے مقررہ مقدار پر مانگا جائے وہ دے، اور جس سے زیادہ مانگا جائے وہ نہ دے۔ چوبیس اونٹوں تک یا اس سے کم میں بکریاں: ہر پانچ میں ایک بکری۔ جب پچیس سے پینتیس تک پہنچیں تو مادہ بنت مخاض؛ اگر مادہ بنت مخاض نہ ہو تو نر ابن لبون۔ چھتیس سے پینتالیس تک بنت لبون۔ چھیالیس سے ساٹھ تک حقہ جو نر سے ملاپ کے قابل ہو۔ اکسٹھ سے پچھتر تک جذعہ۔ چھہتر سے نوے تک دو بنت لبون۔ اکانوے سے ایک سو بیس تک دو حقہ جو نر سے ملاپ کے قابل ہوں۔ ایک سو بیس سے زیادہ پر ہر چالیس میں بنت لبون اور ہر پچاس میں حقہ۔ جب صدقات کے فرائض میں اونٹوں کی عمریں مختلف ہوں: جس کی صدقہ جذعہ تک پہنچے اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ دو بکریاں اگر آسانی سے ہوں یا بیس درہم دے۔ جس کی صدقہ حقہ تک پہنچے اور اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ قبول کی جائے گی اور مصدق اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس کی صدقہ حقہ تک پہنچے اور اس کے پاس بنت لبون کے سوا کچھ نہ ہو تو اس سے بنت لبون قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے۔ جس کی صدقہ بنت لبون تک پہنچے اور اس کے پاس نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ قبول کی جائے گی اور مصدق اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس کی صدقہ بنت لبون تک پہنچے اور اس کے پاس نہ ہو بلکہ بنت مخاض ہو تو اس سے بنت مخاض قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے۔ جس کی صدقہ بنت مخاض تک پہنچے اور اس کے پاس نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون قبول کی جائے گی اور مصدق اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔ جس کے پاس بنت مخاض اس کے استحقاق پر نہ ہو بلکہ نر ابن لبون ہو تو اس سے ابن لبون قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کچھ نہیں۔ جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں اس میں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ اس کا مالک چاہے؛ جب پانچ اونٹ ہو جائیں تو اس میں ایک بکری ہے۔ اور بکریوں کے صدقے میں چرنے والی بکریوں میں جب چالیس بکریاں ہوں تو ایک بکری ہے ایک سو بیس تک؛ جب ایک سو بیس سے بڑھ کر دو سو تک پہنچیں تو دو بکریاں؛ جب دو سو سے بڑھ کر تین سو تک تو تین بکریاں؛ جب تین سو بکریوں سے بڑھ جائیں تو ہر سو میں ایک بکری۔ صدقے میں نہ بوڑھی، نہ عیب والی، نہ بکرا نکالا جائے سوائے اس کے کہ مصدق چاہے۔ صدقے کے خوف سے الگ الگ کو جمع نہ کیا جائے، نہ جمع کو الگ کیا جائے۔ اور جو دو شریکوں کا ہو تو وہ آپس میں برابر لے دیں گے۔ اگر کسی کی چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک کم ہوں تو اس میں صدقہ نہیں سوائے اس کے کہ اس کا مالک چاہے۔ اور چاندی میں چالیسواں حصہ؛ اگر اس کا مال صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں صدقہ نہیں سوائے اس کے کہ اس کا مالک چاہے۔