Muslim99Muslim99

Al-Mujam al-Kabir Tabarani · Book 39 · Chapter 46

Hadith 22801–23286

حديث جعفر بن أبي طالب مع عمرو بن العاص وعمارة بن الوليد عند النجاشي · إسلام قيس بن عاصم المنقري رضي الله عنه · حديث ثعلبة بن حاطب …

15 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

23237

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23237

حَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ 14 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّيبَاجِيُّ التُّسْتَرِيُّ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : ثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَقَالُوا لَهُ وَنَحْنُ عِنْدَهُ : قَدْ بَعَثُوا إِلَيْكَ أُنَاسًا مِنْ سَفَلَتِهِمْ وَسُفَهَائِهِمْ فَادْفَعْهُمْ إِلَيْنَا ، قَالَ : لَا ، حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ ؟ قُلْنَا : إِنَّ قَوْمَنَا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ ، وَإِنَّ اللهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَآمَنَّا بِهِ وَصَدَّقْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ : عَبِيدٌ هُمْ لَكُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَلَكُمْ عَلَيْهِمْ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ فِي عِيسَى غَيْرَ [25/221] مَا تَقُولُونَ ، قَالَ : إِنْ لَمْ يَقُولُوا فِي عِيسَى مِثْلَ مَا أَقُولُ لَمْ أَدَعْهُمْ فِي أَرْضِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا ، وَكَانَتِ الدَّعْوَةُ الثَّانِيَةُ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنَ الْأُولَى ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ؟ فَقُلْنَا : يَقُولُ : " هُوَ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ " ، قَالَ : فَأَرْسَلَ ، فَقَالَ : ادْعُوا فُلَانًا الْقَسَّ وَفُلَانًا الرَّاهِبَ ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فَقَالُوا : أَنْتَ أَعْلَمُنَا فَمَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ النَّجَاشِيُّ وَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا عِيسَى ، مَا زَادَ عَلَى مَا قَالَ هَؤُلَاءِ مِثْلَ هَذَا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَيُؤْذِيكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ آذَى أَحَدًا مِنْهُمْ فَأَغْرِمُوهُ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَكْفِيكُمْ ؟ فَقُلْنَا : لَا ، فَأَضْعَفَهَا ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ وَظَهَرَ بِهَا قُلْنَا لَهُ : إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهَاجَرَ وَقَتَلَ الَّذِينَ كُنَّا حَدَّثْنَاكَ عَنْهُمْ ، وَقَدْ أَرَدْنَا الرَّحِيلَ فَزَوِّدْنَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَّلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا ، ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْ صَاحِبَكَ بِمَا صَنَعْتُ إِلَيْكُمْ ، وَهَذَا رَسُولِي مَعَكَ ، وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّهُ رَسُولُ اللهِ ، وَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَنَقَنِي فَقَالَ : مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ أَوْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ ؟ " ثَمَّ جَلَسَ فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ : هُوَ ذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ مَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَدْ فَعَلَ بِنَا ، قَدْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، وَحَمَلَنَا وَحَمَّلَنَا ، وَزَوَّدَنَا ، وَنَصَرَنَا ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُهُ ، وَقَالَ : قُلْ لَهُ : يَسْتَغْفِرْ لِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ " فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : آمِينَ ، قَالَ جَعْفَرٌ : فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ : انْطَلِقْ فَأَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

EnglishUnverified translation

The account of Ja'far ibn Abi Talib with 'Amr ibn al-'As and 'Umarah ibn al-Walid before al-Najashi. 14 - Muhammad ibn 'Abd al-Rahim al-Dibaji al-Tustari narrated to us, he said: Muhammad ibn Adam al-Massisi narrated to us, he said: Asad ibn 'Amr al-Bajali al-Kufi narrated to us, he said: Mujalid ibn Sa'id al-Hamdani narrated to us, from al-Sha'bi, from 'Abd Allah ibn Ja'far ibn Abi Talib, from his father, he said: Quraysh sent 'Amr ibn al-'As and 'Umarah ibn al-Walid with a gift from Abu Sufyan to al-Najashi. They said to him, while we were with him: There have been sent to you some of their lowliest and most foolish; hand them to us. He said: No, until I hear their speech. He sent to us, saying: What do you say? We said: Our people worship idols, and Allah, the Mighty and Majestic, sent to us a Messenger; we believed in him and affirmed him. Al-Najashi said to them: Are they slaves of yours? They said: No. He said: Do you have a debt upon them? They said: No. He said: Then leave their way free. We left him. 'Amr ibn al-'As said: These say of 'Isa other than what you say. He said: If they do not say of 'Isa as I say, I shall not leave them in my land an hour of the day. He said: He sent to us - the second summons being harder upon us than the first - saying: What does your companion say of 'Isa son of Maryam? We said: He says: He is Allah's spirit and word, cast to the chaste Virgin. He said: He sent, saying: Call so-and-so the priest and so-and-so the monk. Some of them came to him. He said: What do you say of 'Isa son of Maryam? They said: You are the most learned of us - what do you say? Al-Najashi said, taking something from the ground, then said: Thus is 'Isa; he has not exceeded what these have said by even this much. Then he said to them: Does anyone harm you? They said: Yes. He ordered a caller, who called: Whoever harms any of them shall be fined four dirhams. Then he said: Does that suffice you? We said: No. So he doubled it. When the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) emigrated to Madinah and prevailed there, we said to him: Our companion has set out to Madinah, emigrated, and killed those of whom we told you; we wish to depart, so provision us. He said: Yes. He carried us, provisioned us, and gave us. Then he said: Inform your companion of what I did for you; this messenger of mine is with you, and I bear witness that there is no god but Allah and that he is Allah's Messenger; tell him to seek forgiveness for me. He said: We set out until we reached Madinah; the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) met me, embraced me, and said: "I know not whether I rejoice more at the conquest of Khaybar or the coming of Ja'far." Then he sat, and the messenger of al-Najashi stood and said: Here is Ja'far - ask him what our companion did with him. I said: Yes; he did with us - he did such-and-such, carried us and loaded us, provisioned us, aided us, bore witness that there is no god but Allah and that you are His Messenger, and said: Tell him to seek forgiveness for me. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) stood, performed ablution, then supplicated three times: "O Allah, forgive al-Najashi." The Muslims said: Amen. Ja'far said: I said to the messenger: Go and inform your companion of what you saw of the Prophet, peace and blessings of Allah be upon him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جعفر بن ابی طالب کی عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کے ساتھ نجاشی کے پاس حدیث۔ 14 - ہم سے محمد بن عبدالرحیم دیباجی تستری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن آدم مصیصی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسد بن عمرو بجلی کوفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے مجالد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، شعبی سے، عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب سے، ان کے والد سے، انہوں نے کہا: قریش نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو ابوسفیان کی طرف سے تحفے کے ساتھ نجاشی کی طرف بھیجا۔ انہوں نے اس سے کہا، جبکہ ہم اس کے پاس تھے: ان کی طرف سے تمہارے پاس ان کے کمینے اور بے وقوف بھیجے گئے ہیں؛ انہیں ہمیں سونپ دو۔ کہا: نہیں، یہاں تک کہ میں ان کی بات سنوں۔ اس نے ہمیں بلوایا اور کہا: تم کیا کہتے ہو؟ ہم نے کہا: ہماری قوم بتوں کی عبادت کرتی ہے، اور اللہ عزوجل نے ہمیں ایک رسول بھیجا؛ ہم ان پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی۔ نجاشی نے ان سے کہا: کیا وہ تمہارے غلام ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ کہا: کیا ان پر تمہارا کوئی قرض ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ کہا: تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ ہم اس کے پاس سے نکلے۔ عمرو بن عاص نے کہا: یہ عیسیٰ کے بارے میں وہ کہتے ہیں جو تم نہیں کہتے۔ کہا: اگر وہ عیسیٰ کے بارے میں ویسا نہ کہیں جیسا میں کہتا ہوں تو میں انہیں دن کی ایک گھڑی بھی اپنی زمین میں نہ چھوڑوں گا۔ کہا: اس نے ہمیں بلوایا - اور دوسری بلاوا پہلے سے ہم پر سخت تھی - اور کہا: تمہارا ساتھی عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ کہتا ہے: وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے کنواری بتول کی طرف ڈالا۔ کہا: اس نے بھیجا اور کہا: فلاں پادری اور فلاں راہب کو بلاؤ۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئے۔ کہا: تم عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: تم ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے ہو - تم کیا کہتے ہو؟ نجاشی نے کہا، زمین سے کوئی چیز اٹھائی، پھر کہا: عیسیٰ ایسے ہی ہیں؛ انہوں نے جو کہا اس سے اتنی بھی زیادہ نہیں کہا۔ پھر ان سے کہا: کیا کوئی تمہیں تکلیف دیتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے منادی کو حکم دیا، اس نے اعلان کیا: جو ان میں سے کسی کو تکلیف دے گا اس پر چار درہم جرمانہ ہو گا۔ پھر کہا: کیا یہ تمہیں کافی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اسے دوگنا کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت کر کے وہاں غالب آئے تو ہم نے اس سے کہا: ہمارا ساتھی مدینہ کی طرف نکلا ہے، ہجرت کی ہے، اور انہیں قتل کیا جن کے بارے میں ہم نے تمہیں بتایا تھا؛ ہم روانہ ہونا چاہتے ہیں، تو ہمیں توشہ دو۔ کہا: ہاں۔ اس نے ہمیں سوار کیا، توشہ دیا اور ہمیں دیا۔ پھر کہا: اپنے ساتھی کو بتانا جو میں نے تمہارے ساتھ کیا؛ میرا یہ قاصد تمہارے ساتھ ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ اللہ کے رسول ہیں؛ ان سے کہنا کہ میرے لیے مغفرت مانگیں۔ کہا: ہم نکلے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ملاقات کی، مجھے گلے لگایا اور فرمایا: "میں نہیں جانتا کہ میں خیبر کی فتح پر زیادہ خوش ہوں یا جعفر کی آمد پر۔" پھر آپ بیٹھے، اور نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا اور کہا: یہ جعفر ہیں - ان سے پوچھیں کہ ہمارے ساتھی نے ان کے ساتھ کیا کیا۔ میں نے کہا: ہاں؛ اس نے ہمارے ساتھ کیا - اس نے ایسا ایسا کیا، ہمیں سوار کیا اور لادا، توشہ دیا، ہماری مدد کی، گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے رسول ہیں، اور کہا: ان سے کہنا: میرے لیے مغفرت مانگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، وضو کیا، پھر تین بار دعا کی: "اے اللہ، نجاشی کو بخش دے۔" مسلمانوں نے کہا: آمین۔ جعفر نے کہا: میں نے قاصد سے کہا: جاؤ اور اپنے ساتھی کو بتاؤ جو تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا۔

23238

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23238

[25/222] 15 - حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ قَالَ : ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ : ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ النَّجَاشِيِّ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْدُمُهُمْ بِنَفْسِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ كَانُوا لِأَصْحَابِنَا مُكْرِمِينَ .

EnglishUnverified translation

15 - Hafs ibn 'Umar ibn al-Sabbah al-Raqqi narrated to us, he said: al-'Ala' ibn Hilal narrated to us, he said: Talhah ibn Zayd narrated to us, from al-Awza'i, from Yahya ibn Abi Kathir, from Abu Salamah, from Abu Qatadah, he said: When the delegation of al-Najashi came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) stood serving them himself. He said: "They were honoring to our companions."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

15 - ہم سے حفص بن عمر بن صباح رقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے علاء بن ہلال نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے طلحہ بن زید نے بیان کیا، اوزاعی سے، یحییٰ بن ابی کثیر سے، ابوسلمہ سے، ابوقتادہ سے، انہوں نے کہا: جب نجاشی کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی خدمت کے لیے کھڑے ہوئے۔ فرمایا: "وہ ہمارے ساتھیوں کی عزت کرنے والے تھے۔"

23239

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23239

16 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ الْقَاضِي قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَنَّ النَّجَاشِيَّ سَأَلَهُ : مَا دِينُكُمْ ؟ قَالَ : " بُعِثَ فِينَا رَسُولٌ نَعْرِفُ لِسَانَهُ وَصِدْقَهُ وَوَفَاءَهُ ، فَدَعَانَا إِلَى أَنْ نَعْبُدَ اللهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَخَلْعِ مَا كَانَ يَعْبُدُ قَوْمُنَا وَغَيْرُهُمْ مِنْ دُونِهِ ، يَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، فَدَعَانَا إِلَى مَا نَعْرِفُ ، وَقَرَأَ عَلَيْنَا تَنْزِيلًا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللهِ لَا يُشْبِهُهُ غَيْرُهُ ، فَصَدَّقْنَاهُ ، وَآمَنَّا بِهِ ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ ، فَفَارَقْنَا مُنْذُ ذَلِكَ قَوْمَنَا ، فَآذَوْنَا وَقَهَرُونَا ، فَلَمَّا أَنْ بَلَغُوا مِنَّا مَا نَكْرَهُ وَلَمْ نَقْدِرْ أَنْ نَمْتَنِعَ مِنْهُمْ خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ " ، قَالَ النَّجَاشِيُّ : اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي ، يَقُولُ : آمِنُونَ ، مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ .

EnglishUnverified translation

16 - Ja'far ibn Muhammad al-Firyabi the judge narrated to us, he said: Sulayman ibn 'Abd al-Rahman al-Dimashqi narrated to us, he said: 'Abd al-Rahman ibn Bashir narrated to us, from Muhammad ibn Ishaq, from al-Zuhri, from Abu Bakr ibn 'Abd al-Rahman ibn al-Harith, from Umm Salamah, from Ja'far ibn Abi Talib - may Allah be pleased with him: that al-Najashi asked him: What is your religion? He said: "There has been sent among us a Messenger whose tongue, truthfulness, and fidelity we know. He called us to worship Allah alone, associating nothing with Him, and to cast off what our people and others worshipped besides Him. He commands us to right and forbids us wrong; he commanded us with prayer, fasting, charity, and joining kinship. He called us to what we know, reciting to us a revelation come from Allah, like which there is none other. We affirmed him, believed in him, and knew that what he brought is truth from Allah. Since then we parted from our people; they harmed and overpowered us. When they reached of us what we dislike and we could not defend ourselves from them, we came out to your land, preferring you over all besides you." Al-Najashi said: Go, for you are siyum in my land - meaning, safe; whoever reviles you shall be fined."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

16 - ہم سے جعفر بن محمد فریابی قاضی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن بشیر نے بیان کیا، محمد بن اسحاق سے، زہری سے، ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث سے، ام سلمہ سے، جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے: کہ نجاشی نے ان سے پوچھا: تمہارا دین کیا ہے؟ انہوں نے کہا: "ہمیں ایک رسول بھیجا گیا جن کی زبان، سچائی اور امانت کو ہم جانتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں بلایا کہ اللہ اکیلے کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کچھ شریک نہ ٹھہرائیں، اور اسے چھوڑ دیں جس کی ہمارے قوم اور دوسرے اس کے سوا عبادت کرتے تھے۔ وہ ہمیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں؛ انہوں نے ہمیں نماز، روزے، صدقے اور صلہ رحمی کا حکم دیا۔ انہوں نے ہمیں اس کی دعوت دی جسے ہم جانتے ہیں، اور ہم پر ایسی وحی پڑھی جو اللہ کے پاس سے آئی، جس جیسا کوئی دوسرا نہیں۔ ہم نے ان کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائے، اور جانا کہ جو وہ لائے وہ اللہ کے پاس سے حق ہے۔ تب سے ہم اپنی قوم سے جدا ہوئے؛ انہوں نے ہمیں تکلیف دی اور ہم پر غالب آئے۔ جب وہ ہم سے اس حد تک پہنچے جو ہم ناپسند کرتے ہیں اور ہم ان سے اپنا بچاؤ نہ کر سکے تو ہم تمہارے ملک نکلے، تمہیں تمہارے سوا سب پر ترجیح دی۔" نجاشی نے کہا: جاؤ، تم میری زمین میں سیوم ہو - یعنی امن میں ہو؛ جو تمہیں گالی دے گا اس پر جرمانہ ہو گا۔

23240

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23240

[25/223] 17 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَعَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .

EnglishUnverified translation

17 - Ishaq ibn Ibrahim al-Dabari narrated to us, from 'Abd al-Razzaq, from Ma'mar, from al-Zuhri, from Ibn al-Musayyib and Abu Salamah ibn 'Abd al-Rahman, from Abu Hurayrah, he said: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) announced al-Najashi to his Companions while in Madinah; they prayed behind him, and he prayed over him, takbir four times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

17 - ہم سے اسحاق بن ابراہیم دبری نے بیان کیا، عبدالرزاق سے، معمر سے، زہری سے، ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوہریرہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی خبر اپنے صحابہ کو مدینہ میں دی؛ وہ آپ کے پیچھے نماز پڑھے، اور آپ نے ان پر نماز پڑھی، چار تکبیریں کہیں۔

23241

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23241

18 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ ، هَلُمَّ فَصُفُّوا وَصَلُّوا عَلَيْهِ فَصَفَفْنَا ، فَصَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مَعَهُ .

EnglishUnverified translation

18 - Ishaq ibn Ibrahim narrated to us, from 'Abd al-Razzaq, from Ibn Jurayj, he said: 'Ata' informed me that he heard Jabir ibn 'Abd Allah say: The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "A righteous man, Ashamah, has died today; come, form rows and pray over him." So we formed rows, and the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) prayed, we with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

18 - ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، عبدالرزاق سے، ابن جریج سے، انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ کو کہتے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آج ایک نیک آدمی، اصحمہ، فوت ہوا ہے؛ آؤ، صفیں بناؤ اور ان پر نماز پڑھو۔" تو ہم نے صفیں بنائیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، ہم ان کے ساتھ تھے۔

23242

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23242

إِسْلَامُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ 19 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ قَالَ : ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، [25/224] قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ : ثَنَا زِيَادٌ الْجَصَّاصُ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيُّ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ " قَالَ : فَلَمَّا نَزَلْتُ أَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أَخْدُمُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ حَيْفٍ أَصَابَنِي وَعِيَالٍ كَثُرُوا ، قَالَ : نِعْمَ الْمَالُ أَرْبَعُونَ ، وَالْأَكْثَرُ سِتُّونَ ، وَوَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِائَتَيْنِ ، إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا ، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا ، وَنَحَرَ سَمِينَهَا ، فَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ وَأَحْسَنَهَا ، يَا نَبِيَّ اللهِ ، لَا يُحَلُّ بِالْوَادِي الَّذِي أَنَا فِيهِ لِكَثْرَةِ إِبِلِي ، قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ ؟ " قَالَ : يَغْدُو الْإِبِلُ وَيَغْدُو النَّاسُ ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ ، قَالَ : " فَمَا تَصْنَعُ بِأَفْقَارِ الظَّهْرِ ؟ " قُلْتُ : إِنِّي لَا أُفْقِرُ الصَّغِيرَ ، وَلَا أَلْتَابُ الْمُدْبِرَ الْكَبِيرَ ، قَالَ : " فَمَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مَوَالِيكَ ؟ " قُلْتُ : مَالِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ ، قَالَ : " فَإِنَّ لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ ، وَإِلَّا فَلِمَوَالِيكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللهِ لَئِنْ بَقِيتُ لَأُفْنِيَنَّ عَدَدَهَا . قَالَ الْحَسَنُ : فَفَعَلَ وَاللهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ قَيْسًا الْوَفَاةُ قَالَ : يَا بَنِيَّ ، خُذُوا عَنِّي ، لَا أَحَدَ أَنْصَحُ لَكُمْ مِنِّي ، إِذَا أَنَا مُتُّ فَسَوِّدُوا كِبَارَكُمْ ، وَلَا تُسَوِّدُوا صِغَارَكُمْ فَيَسْتَسْفِهَكُمُ النَّاسُ ، فَهَوِّنُوا عَلَيْكُمْ ، وَعَلَيْكُمْ بِاسْتِصْلَاحِ الْمَالِ ؛ فَإِنَّهُ مَنْبَهَةُ الْكَرِيمِ ، وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ ، وَإِيَاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ ؛ فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ [25/225] الْمَرْءِ ، إِنَّ أَحَدًا لَمْ يَسْأَلْ إِلَّا تَرَكَ كَسْبَهُ ، وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ ، وَكَفِّنُونِي فِي ثِيَابِي الَّتِي كُنْتُ أُصَلِّي فِيهَا وَأَصُومُ ، وَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَلَا تَدْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ يَطَّلِعُ عَلَيَّ فِيهِ أَحَدٌ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ خُمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَنْبُشُونِي فَيَصْنَعُونَ فِيَّ ذَلِكَ مَا يَذْهَبُ فِيهِ دِينُكُمْ وَدُنْيَاكُمْ ، قَالَ الْحَسَنُ : نَصَحَ لَهُمْ فِي الْحَيَاةِ ، وَنَصَحَ لَهُمْ فِي الْمَمَاتِ .

EnglishUnverified translation

The Islam of Qays ibn 'Asim al-Minqari, may Allah be pleased with him. 19 - Muhammad ibn 'Abdous ibn Kamil al-Sarraj narrated to us, he said: 'Ali ibn al-Ja'd narrated to us, he said: Muhammad ibn Yazid al-Wasiti narrated to us, he said: Ziyad al-Jassas narrated to us, from al-Hasan, he said: Qays ibn 'Asim al-Minqari narrated to me, he said: I came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him); when he saw me I heard him say: "This is the master of the people of the tents." He said: When I settled, I came to him and began serving him. He said: I said: O Prophet of Allah, wealth for which there shall be no consequence upon me, of injustice befalling me and numerous dependents. He said: "Excellent wealth is forty; more is sixty; woe to the owners of two hundred, except one who gives in its milch and its aid, lends its back, slaughters its fat, feeding the content and the beggar." He said: I said: O Prophet of Allah, how noble and excellent are these manners! O Prophet of Allah, the valley I am in cannot be settled for the multitude of my camels. He said: "How do you do?" He said: The camels go out in the morning and the people go out; whoever wishes takes a camel's head and goes with it. He said: "What do you do with lending the back?" I said: I do not lend the small, nor borrow the aged, worn-out great. He said: "Is your wealth dearer to you or your freedmen's wealth?" I said: My wealth is dearer to me than my freedmen's wealth. He said: "Of your wealth is only what you ate and consumed, wore and wore out, or gave and sent forth; otherwise it is for your freedmen." He said: I said: By Allah, if I remain I shall surely consume their number. Al-Hasan said: By Allah, he did. When death came to Qays, he said: O my sons, take from me; none is more sincere to you than I. When I die, make your elders masters, and do not make your young masters, lest people deem you foolish; take it lightly upon yourselves. Upon you is to set wealth aright, for it alerts the noble and suffices against the mean. Beware asking, for it is the last earning of a man; none asks but he leaves his earning. When I die, do not wail over me, for I heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) forbid wailing. Shroud me in the garments wherein I used to pray and fast. When you bury me, do not bury me in a place where anyone looks upon me, for there were skirmishes between me and Bakr ibn Wa'il in pre-Islamic times, and I fear they will exhume me and do therein that which shall take your religion and world. Al-Hasan said: He advised them in life and advised them in death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن عاصم منقری کا اسلام، رضی اللہ عنہ۔ 19 - ہم سے محمد بن عبدوس بن کامل سراج نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن یزید واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زیاد جصاص نے بیان کیا، حسن سے، انہوں نے کہا: مجھ سے قیس بن عاصم منقری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا؛ جب آپ نے مجھے دیکھا تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: "یہ خیموں والوں کا سردار ہے۔" کہا: جب میں اترا تو آپ کے پاس آیا اور آپ کی خدمت کرنے لگا۔ کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی، ایسا مال جس میں مجھ پر کوئی ذمہ نہ ہو، مجھ پر ظلم پڑا اور عیال بہت ہیں۔ فرمایا: "بہترین مال چالیس ہے؛ زیادہ ساٹھ ہے؛ دو سو والوں کے لیے ہلاکت ہے، سوائے اس کے جو اس کے دودھ اور اس کی مدد میں دے، اس کی پیٹھ ادھار دے، اس کے موٹے کو ذبح کرے، قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو کھلائے۔" کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی، یہ اخلاق کتنے معزز اور اچھے ہیں! اے اللہ کے نبی، جس وادی میں میں ہوں وہ میرے اونٹوں کی کثرت کی وجہ سے آباد نہیں ہو سکتی۔ فرمایا: "تو تم کیا کرتے ہو؟" کہا: اونٹ صبح نکلتے ہیں اور لوگ نکلتے ہیں؛ جو چاہے اونٹ کی نکیل پکڑے اور اسے لے جائے۔ فرمایا: "پیٹھ ادھار دینے کا کیا کرتے ہو؟" میں نے کہا: میں چھوٹے کو ادھار نہیں دیتا، نہ بوڑھے، پشت پھرے بڑے کو۔ فرمایا: "کیا تمہارا مال تمہیں زیادہ پیارا ہے یا تمہارے موالیوں کا مال؟" میں نے کہا: میرا مال مجھے میرے موالیوں کے مال سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا: "تمہارے مال میں سے صرف وہ ہے جو تم نے کھایا اور ختم کیا، یا پہنا اور پرانا کیا، یا دیا اور آگے بھیجا؛ ورنہ وہ تمہارے موالیوں کے لیے ہے۔" کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم، اگر میں رہا تو ضرور ان کی تعداد ختم کر دوں گا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم، اس نے کیا۔ جب قیس کی موت آئی تو کہا: اے میرے بیٹو، مجھ سے لو؛ تمہارے لیے مجھ سے زیادہ خیرخواہ کوئی نہیں۔ جب میں مروں تو اپنے بڑوں کو سردار بناؤ، اور اپنے چھوٹوں کو سردار نہ بناؤ کہ لوگ تمہیں بے وقوف سمجھیں؛ اپنے آپ پر ہلکا کرو۔ مال کی اصلاح کو لازم پکڑو؛ کیونکہ وہ معزز کو جگاتا ہے، اور اس سے کمینے سے بے نیازی ہوتی ہے۔ مانگنے سے بچو؛ کیونکہ وہ آدمی کی آخری کمائی ہے؛ جو بھی مانگتا ہے وہ اپنی کمائی چھوڑ دیتا ہے۔ جب میں مروں تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوحے سے منع کرتے سنا ہے۔ مجھے ان کپڑوں میں کفن دو جن میں میں نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا تھا۔ جب تم مجھے دفن کرو تو مجھے ایسی جگہ نہ دفن کرنا جہاں کوئی مجھ پر نظر ڈالے، کیونکہ میرے اور بکر بن وائل کے درمیان جاہلیت میں جھڑپیں تھیں، اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے نکالیں گے اور میرے ساتھ وہ کریں گے جس سے تمہارا دین اور دنیا جاتی رہے۔ حسن نے کہا: انہوں نے زندگی میں انہیں نصیحت کی، اور موت میں انہیں نصیحت کی۔

23243

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23243

حَدِيثُ ثَعْلَبَةَ بْنِ حَاطِبٍ 20 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ حَاطِبٍ الْأَنْصَارِيَّ أَتَى رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا ، قَالَ : وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ ، قَلِيلٌ تُؤَدِّي شُكْرَهُ خَيْرٌ لَكَ مِنْ كَثِيرٍ لَا تُطِيقُهُ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ ، أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ وَاللهِ لَوْ سَأَلْتُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَ لِي الْجِبَالَ ذَهَبًا لَسَأَلْتُ " ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ [25/226] اللهِ ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا ، لَئِنْ آتَانِي مَالًا لَأُوتِيَنَّ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا ، اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا " قَالَ : فَاتَّخَذَ مَالًا فَنَمَتْ كَمَا يَنْمُو الدُّودُ حَتَّى ضَاقَتْ عَنْهُ أَزِقَّةُ الْمَدِينَةِ ، فَتَنَحَّى بِهَا ، وَكَانَ يَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ نَمَتْ حَتَّى تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ مَرَاعِي الْمَدِينَةِ ، فَتَنَحَّى بِهَا ، فَكَانَ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ نَمَتْ فَتَنَحَّى بِهَا فَتَرَكَ الْجُمُعَةَ وَالْجَمَاعَاتِ ، فَيَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَيَقُولُ : مَاذَا عِنْدَكُمْ مِنَ الْخَبَرِ ؟ وَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ؟ وَأَنْزَلَ اللهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى رَسُولِهِ { خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا } ، قَالَ : وَاسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّدَقَاتِ رَجُلَيْنِ : رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، وَكَتَبَ لَهُمَا سُنَّةَ الصَّدَقَاتِ وَأَسْنَانَهَا ، وَأَمَرَهُمَا أَنْ يُصْدِقَا النَّاسَ ، وَأَنْ يَمُرَّا بِثَعْلَبَةَ فَيَأْخُذَا مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ ، فَفَعَلَا ، حَتَّى ذَهَبَا إِلَى ثَعْلَبَةَ فَأَقْرَآهُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، قَالَ : صَدِّقَا النَّاسَ فَإِذَا فَرَغْتُمَا فَمُرَّا بِي ، فَفَعَلَا ، فَقَالَ : وَاللهِ مَا هَذِهِ إِلَّا أُخَيَّةُ الْجِزْيَةِ ، فَانْطَلَقَا حَتَّى لَحِقَا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ اللهُ - جَلَّ ثَنَاؤُهُ - { وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ } إِلَى قَوْلِهِ : { يَكْذِبُونَ } ، فَرَكِبَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ لِثَعْلَبَةَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَتَى ثَعْلَبَةَ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ هَلَكْتَ ، أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ مِنَ الْقُرْآنِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَقْبَلَ ثَعْلَبَةُ وَقَدْ وَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَبْكِي وَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، يَا رَسُولَ اللهِ ، فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَ اللهُ رَسُولَهُ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بَعْدَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : [25/227] يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعِي مِنْ قَوْمِي وَمَكَانِي مِنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاقْبَلْ مِنِّي ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهُ ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ مَاتَ ثَعْلَبَةُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .

EnglishUnverified translation

The account of Tha'labah ibn Hatib. 20 - Abu Yazid Yusuf ibn Yazid al-Qaratis narrated to us, Asad ibn Musa narrated to us, al-Walid ibn Muslim narrated to us, Mu'an ibn Rifa'ah narrated to us, from 'Ali ibn Yazid, from al-Qasim, from Abu Umamah, that Tha'labah ibn Hatib al-Ansari came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and said: O Messenger of Allah, supplicate Allah to grant me wealth. He said: "Woe to you, O Tha'labah; little for which you render thanks is better for you than much you cannot bear." Then he returned to him and said: O Messenger of Allah, supplicate Allah to grant me wealth. He said: "Woe to you, O Tha'labah; do you wish to be like the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him)? By Allah, had I asked Allah to make the mountains gold for me, I would have asked." Then he returned to him and said: O Messenger of Allah, supplicate Allah to grant me wealth; if He gives me wealth I shall surely give every rightful one his right. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "O Allah, grant Tha'labah wealth; O Allah, grant Tha'labah wealth." He said: He took wealth, and it grew as worms grow, until the lanes of Madinah straitened for it. He withdrew with it, attending prayer with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), then going out to it. Then it grew until the pastures of Madinah became impracticable for him; he withdrew with it, attending Friday prayer with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), then going out to it. Then it grew, and he withdrew with it, abandoning Friday and congregations. He would meet riders, asking: What news have you? What of people's affairs? Allah, the Mighty and Majestic, sent down upon His Messenger {Take of their wealth charity to purify and cleanse them therewith}. He said: The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) employed two men over charities: a man of the Ansar and a man of Banu Salamah, writing for them the practice of charities and their ages, commanding them to take charity from people, and to pass by Tha'labah and take of his wealth's charity. They did, going to Tha'labah, reciting to him the Messenger of Allah's (peace and blessings of Allah be upon him) letter. He said: Take charity from people; when you finish, pass by me. They did. He said: By Allah, this is nothing but the sister of the poll-tax. They went until they reached the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). Allah, Praised be He, sent down {And of them are those who pledged to Allah: If He gives us of His bounty, we shall surely give charity} to His word {they lie}. An Ansari man, a kinsman of Tha'labah, mounted his mount until he came to Tha'labah, saying: Woe to you, O Tha'labah; you have perished - Allah has sent down concerning you such-and-such of the Qur'an. Tha'labah came, casting dust upon his head, weeping, saying: O Messenger of Allah, O Messenger of Allah. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) did not accept his charity until Allah took His Messenger (peace and blessings of Allah be upon him). Then he came to Abu Bakr - may Allah be pleased with him - after the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), saying: O Abu Bakr, you know my standing among my people and my place with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him); accept from me. He refused to accept it. Then he came to 'Umar - may Allah be pleased with him - who refused to accept from him. Then he came to 'Uthman - may Allah be pleased with him - who refused to accept from him. Then Tha'labah died in the caliphate of 'Uthman, may Allah be pleased with him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثعلبہ بن حاطب کی حدیث۔ 20 - ہم سے ابویزید یوسف بن یزید قراطیسی نے بیان کیا، ہم سے اسد بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے معان بن رفاعہ نے بیان کیا، علی بن یزید سے، قاسم سے، ابوامامہ سے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول، اللہ سے دعا کریں کہ مجھے مال دے۔ فرمایا: "تمہارا برا ہو اے ثعلبہ؛ تھوڑا جس کا شکر ادا کرو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اس زیادہ سے جسے تم برداشت نہ کر سکو۔" پھر وہ ان کے پاس لوٹے اور کہا: اے اللہ کے رسول، اللہ سے دعا کریں کہ مجھے مال دے۔ فرمایا: "تمہارا برا ہو اے ثعلبہ؛ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ہونا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم، اگر میں اللہ سے مانگتا کہ میرے لیے پہاڑ سونا بنا دے تو میں مانگتا۔" پھر وہ ان کے پاس لوٹے اور کہا: اے اللہ کے رسول، اللہ سے دعا کریں کہ مجھے مال دے؛ اگر اس نے مجھے مال دیا تو میں ضرور ہر حق والے کو اس کا حق دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ، ثعلبہ کو مال دے؛ اے اللہ، ثعلبہ کو مال دے۔" کہا: اس نے مال لیا، اور وہ ایسے بڑھا جیسے کیڑے بڑھتے ہیں، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں اس سے تنگ ہو گئیں۔ وہ اسے لے کر الگ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا، پھر اس کی طرف نکل جاتا۔ پھر وہ بڑھا یہاں تک کہ مدینہ کی چراگاہیں اس پر تنگ ہو گئیں؛ وہ اسے لے کر الگ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتا، پھر اس کی طرف نکل جاتا۔ پھر وہ بڑھا تو اسے لے کر الگ ہوا، جمعہ اور جماعتیں چھوڑ دیں۔ وہ سواروں سے ملتا اور پوچھتا: تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ اور لوگوں کا کیا حال ہے؟ اللہ عزوجل نے اپنے رسول پر نازل کیا {ان کے مالوں سے صدقہ لو کہ انہیں پاک کرو اور اس سے انہیں صاف کرو}۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقات پر دو آدمی مقرر کیے: انصار میں سے ایک آدمی، اور بنو سلمہ میں سے ایک آدمی، اور ان کے لیے صدقات کی سنت اور عمریں لکھ دیں، اور انہیں حکم دیا کہ لوگوں سے صدقہ لیں، اور ثعلبہ کے پاس سے گزریں اور اس کے مال کا صدقہ لیں۔ انہوں نے کیا، یہاں تک کہ وہ ثعلبہ کے پاس گئے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا۔ کہا: لوگوں سے صدقہ لو؛ جب فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس سے گزرنا۔ انہوں نے کیا۔ کہا: اللہ کی قسم، یہ تو جزیہ کی بہن کے سوا کچھ نہیں۔ وہ چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اللہ جل ثناؤہ نے نازل کیا {اور ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا: اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے دیا تو ہم ضرور صدقہ دیں گے} اس کے فرمان {وہ جھوٹ بولتے ہیں} تک۔ انصار کا ایک آدمی، ثعلبہ کا رشتہ دار، اپنی سواری پر سوار ہوا یہاں تک کہ ثعلبہ کے پاس آیا اور کہا: تمہارا برا ہو اے ثعلبہ؛ تم ہلاک ہوئے - اللہ نے تمہارے بارے میں قرآن میں ایسا ایسا نازل کیا۔ ثعلبہ آیا، اپنے سر پر مٹی ڈالے، روتا ہوا، کہتا: اے اللہ کے رسول، اے اللہ کے رسول۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صدقہ قبول نہ کیا یہاں تک کہ اللہ نے اپنے رسول کو وفات دی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوبکر، تم میری قوم میں میری جگہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے مقام کو جانتے ہو؛ مجھ سے قبول کرو۔ انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا - انہوں نے اس سے قبول کرنے سے انکار کیا۔ پھر وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا - انہوں نے اس سے قبول کرنے سے انکار کیا۔ پھر ثعلبہ عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں فوت ہوا۔

23244

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23244

حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ 21 - حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ [25/228] مَرْزُوقٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيِّ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ [25/229] بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِهِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوبُوا إِلَى اللهِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا ، وَبَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوا ، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ ، وَبِكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ تُؤْجَرُوا [25/230] وَتَنْصَرِفُوا وَتُرْزَقُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فَرِيضَةً مَكْتُوبَةً فِي مَقَامِي هَذَا ، فِي يَوْمِي هَذَا ، فِي شَهْرِي هَذَا ، فِي عَامِي هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنْ وَجَدَ إِلَيْهَا سَبِيلًا ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدَ مَوْتِي جُحُودًا بِهَا ، أَوِ اسْتِخْفَافًا بِهَا ، وَلَهُ إِمَامٌ جَائِرٌ أَوْ عَادِلٌ ، فَلَا جَمَعَ اللهُ شَمْلَهُ ، وَلَا بَارَكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ ، وَلَا زَكَاةَ لَهُ ، أَلَا وَلَا حَجَّ لَهُ ، أَلَا وَلَا صَوْمَ لَهُ ، أَلَا وَلَا بِرَّ لَهُ حَتَّى يَتُوبَ ، فَمَنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ ، أَلَا وَلَا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلًا ، وَلَا يَؤُمَّنَّ أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا ، وَلَا يَؤُمَّنَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا ، إِلَّا سُلْطَانٌ إِلَّا أَنْ يَقْهَرَهُ بِسُلْطَانٍ ، يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ .

EnglishUnverified translation

The account of Jabir ibn 'Abd Allah on abandoning Friday prayer. 21 - Abu Yazid al-Qaratisi narrated to us, Asad ibn Musa narrated to us, Fudayl ibn Marzuq narrated to us, from al-Walid ibn Bukayr, from 'Abd Allah ibn Muhammad al-'Adawi al-Basri, from 'Ali ibn Zayd, from Sa'id ibn al-Musayyib, from Jabir ibn 'Abd Allah, he said: I heard the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) say upon his pulpit: "O people, repent to Allah before you die, hasten with righteous deeds before you are preoccupied, join what is between you and your Lord with much remembrance of Him and much charity in secret and openly - you shall be rewarded, aided, and provided. Know that Allah has made Friday obligatory upon you, a written obligation in this station of mine, on this day of mine, in this month of mine, in this year of mine, until the Day of Resurrection, upon whoever finds a way to it. Whoever abandons it in my lifetime or after my death, denying it or belittling it, while he has a ruler, just or unjust - may Allah not unite his affair, nor bless him in his affair. Nay, he has no prayer, no zakat, no pilgrimage, no fasting, no piety, until he repents. Whoever repents, Allah turns to him. Nay, let no woman lead a man in prayer, let no Bedouin lead an emigrant, let no sinner lead a believer, except a ruler - unless he coerces him with authority, fearing his sword and whip."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جابر بن عبداللہ کی جمعہ چھوڑنے کے بارے میں حدیث۔ 21 - ہم سے ابویزید قراطیسی نے بیان کیا، ہم سے اسد بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن مرزوق نے بیان کیا، ولید بن بکیر سے، عبداللہ بن محمد عدوی بصری سے، علی بن زید سے، سعید بن مسیب سے، جابر بن عبداللہ سے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر پر فرماتے سنا: "اے لوگو، مرنے سے پہلے اللہ کی طرف توبہ کرو، مشغول ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، اپنے اور اپنے رب کے درمیان جو ہے اسے اس کے بہت ذکر اور چھپے کھلے بہت صدقے سے جوڑو - تمہیں اجر ملے گا، مدد ملے گی اور رزق ملے گا۔ جان لو کہ اللہ نے تم پر جمعہ فرض کیا ہے، میرے اس مقام میں، میرے اس دن میں، میرے اس مہینے میں، میرے اس سال میں، قیامت تک فرض لکھا ہوا، اس پر جو اس کی طرف راستہ پائے۔ جو اسے میری زندگی میں یا میری موت کے بعد چھوڑے، اس کا انکار کرتے ہوئے یا اسے ہلکا سمجھتے ہوئے، جبکہ اس کا کوئی حکمران ہو، عادل یا ظالم - اللہ اس کے بکھرے کو جمع نہ کرے، نہ اس کے معاملے میں برکت دے۔ سنو، اس کی نہ نماز ہے، نہ زکاۃ ہے، نہ حج ہے، نہ روزہ ہے، نہ نیکی ہے، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے۔ جو توبہ کرے اللہ اس پر رجوع کرتا ہے۔ سنو، کوئی عورت کسی مرد کی امامت نہ کرے، کوئی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت نہ کرے، کوئی فاسق کسی مومن کی امامت نہ کرے، سوائے حکمران کے - سوائے اس کے کہ وہ اسے حکومت سے دبائے، اس کی تلوار اور کوڑے سے ڈرتے ہوئے۔"

23245

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23245

حَدِيثُ قُسِّ بْنِ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيِّ 22 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ الْبَغْدَادِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ [25/231] بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ يَعْرِفُ قُسَّ بْنَ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيَّ ؟ قَالُوا : كُلُّنَا نَعْرِفُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : " فَمَا فَعَلَ ؟ " قَالُوا : هَلَكَ ، قَالَ : " فَمَا أَنْسَاهُ بِعُكَاظٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَيَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، اجْتَمِعُوا وَاسْمَعُوا وَعُوا ، مَنْ عَاشَ مَاتَ ، وَمَنْ مَاتَ فَاتَ ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آتٍ ، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرًا ، وَإِنَّ فِي الْأَرْضِ لَعِبَرًا ، مِهَادٌ مَوْضُوعٌ ، وَسَقْفٌ [25/232] مَرْفُوعٌ ، وَنُجُومٌ تَمُورُ ، وَبِحَارٌ لَا تَغُورُ ، وَأَقْسَمَ قُسٌّ قَسَمًا حَقًّا ، لَئِنْ كَانَ فِي الْأَمْرِ [الْأَرْضِ] رِضًا لَتَعُودُنَّ [لَيَكُونَنَّ بَعْدَهُ] سَخَطٌ ، إِنَّ لِلهِ لَدِينًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ دُنْيَاكُمْ [دِينِكُمُ] الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ ، مَا لِي أَرَى النَّاسَ يَذْهَبُونَ وَلَا يَرْجِعُونَ ؟ أَرَضُوا بِالْإِقَامَةِ فَأَقَامُوا ، أَمْ تُرِكُوا فَنَامُوا ؟ ثُمَّ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّكُمْ [أَمِنْكُمْ] مَنْ يَرْوِي شِعْرَهُ ؟ " فَأَنْشَدَهُ بَعْضُهُمْ : الْقُرُونِ الْقَوْمُ .

EnglishUnverified translation

The account of Quss ibn Sa'idah al-Iyadi. 22 - Muhammad ibn al-Sari ibn Mihran al-Naqid al-Baghdadi narrated to us, Muhammad ibn Hassan al-Samti narrated to us, Muhammad ibn Hajjaj al-Lakhmi narrated to us, from Mujalid, from al-Sha'bi, from Ibn 'Abbas, he said: The delegation of 'Abd al-Qays came to the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). He said: "Which of you knows Quss ibn Sa'idah al-Iyadi?" They said: We all know him, O Messenger of Allah. He said: "What became of him?" They said: He perished. He said: "How I remember him at 'Ukaz in the sacred month, upon a red camel, addressing the people, saying: O people, gather, hear, and comprehend; whoever lives dies, whoever dies is gone, and all that is coming is coming. In the heaven is tidings, on earth are lessons; a bed laid out, a roof raised, stars swimming, seas that do not sink. Quss swore a true oath: if there be pleasure in the matter, after it shall surely be wrath. Allah has a religion dearer to Him than this world of yours upon which you are. Why do I see people going and not returning? Were they pleased with staying, so they stayed, or were they left, so they slept?" Then he (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Which of you recites his poetry?" One of them recited to him verses on past generations.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قس بن ساعدہ ایادی کی حدیث۔ 22 - ہم سے محمد بن سری بن مہران ناقد بغدادی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حسان سمتی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حجاج لخمی نے بیان کیا، مجالد سے، شعبی سے، ابن عباس سے، انہوں نے کہا: عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ فرمایا: "تم میں سے کون قس بن ساعدہ ایادی کو جانتا ہے؟" انہوں نے کہا: ہم سب اسے جانتے ہیں اے اللہ کے رسول۔ فرمایا: "اس کا کیا ہوا؟" انہوں نے کہا: وہ فوت ہو گیا۔ فرمایا: "میں اسے عکاظ میں حرمت والے مہینے میں نہیں بھولتا، سرخ اونٹ پر، لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے، کہتا: اے لوگو، جمع ہو جاؤ، سنو اور سمجھو؛ جو جیا مرا، جو مرا گیا، اور جو آنے والا ہے وہ آنے والا ہے۔ آسمان میں خبر ہے، زمین میں عبرت ہے؛ بچھا ہوا فرش، اٹھائی ہوئی چھت، تیرتے ستارے، نہ ڈوبنے والے سمندر۔ قس نے سچی قسم کھائی: اگر معاملے میں خوشی ہو تو اس کے بعد ضرور ناراضی ہو گی۔ اللہ کا ایک دین ہے جو اسے تمہاری اس دنیا سے زیادہ پیارا ہے جس پر تم ہو۔ مجھے کیا ہوا کہ میں لوگوں کو جاتے دیکھتا ہوں اور وہ لوٹتے نہیں؟ کیا وہ ٹھہرنے پر راضی ہوئے تو ٹھہرے، یا وہ چھوڑے گئے تو سو گئے؟" پھر فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم: "تم میں سے کون اس کا شعر سناتا ہے؟" ان میں سے ایک نے انہیں گذشتہ قوموں پر اشعار سنائے۔

23246

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23246

حَدِيثُ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مُلُوكِ الْأَرْضِ 23 - حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : إِنَّ اللهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً ، فَأَدُّوا عَنِّي رَحِمَكُمُ اللهُ ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَتِ [25/233] الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - ، فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا دَعَوْتُكُمْ إِلَيْهِ ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهُ ، فَشَكَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، فَأَصْبَحُوا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَتَكَلَّمُ بِلِسَانِ الْقَوْمِ الَّذِينَ وُجِّهَ ، فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى : " هَذَا أَمْرٌ قَدْ عَزَمَ اللهُ لَكُمْ عَلَيْهِ فَامْضُوا فَافْعَلُوا " فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ نُؤَدِّي عَنْكَ ، فَابْعَثْ بِنَا حَيْثُ شِئْتَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ اللهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ إِلَى كِسْرَى ، وَبَعَثَ سَلِيطَ بْنَ عَمْرٍو إِلَى هَوْذَةَ بْنِ عَلِيٍّ صَاحِبِ الْيَمَامَةِ ، وَبَعَثَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوِي صَاحِبِ هَجَرَ ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ إِلَى جَيْفَرٍ وَعِيَاذٍ ابْنَيْ جَنَلْدِيٍّ مَلِكَيْ عُمَانَ ، وَبَعَثَ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ ، وَبَعَثَ شُجَاعَ بْنَ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّ إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي شِمْرٍ الْغَسَّانِيِّ ، وَبَعَثَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَرَجَعُوا جَمِيعًا قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَ وَهُوَ بِالْبَحْرَيْنِ .

EnglishUnverified translation

The account of the Messenger of Allah's (peace and blessings of Allah be upon him) message to the kings of the earth. 23 - Hashim ibn Marthad al-Tabarani narrated to us, Muhammad ibn Isma'il ibn 'Ayyash narrated to us, from his father Isma'il ibn 'Ayyash, Muhammad ibn Ishaq narrated to me, from Muhammad ibn Muslim al-Zuhri, from 'Urwah ibn al-Zubayr, from al-Miswar ibn Makhramah, he said: The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, came out to his Companions and said: "Allah has sent me as a mercy to all people; convey from me, may Allah have mercy on you, and do not differ as the disciples differed over 'Isa - peace be upon him. He called them to what I have called you to; those near in place answered and submitted, those far in place disliked it. 'Isa son of Maryam complained of that to Allah, the Mighty and Majestic, and they awoke, each man of them speaking the tongue of the people to whom he was directed. 'Isa said to them: 'This is a matter Allah has decreed for you, so go and do.'" The Companions of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: We, O Messenger of Allah, shall convey from you; send us where you will. So the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) sent 'Abd Allah ibn Hudhafah al-Sahmi to Kisra, sent Salit ibn 'Amr to Hawdhah ibn 'Ali, master of al-Yamamah, sent al-'Ala' ibn al-Hadrami to al-Mundhir ibn Sawi, master of Hajar, sent 'Amr ibn al-'As to Jayfar and 'Iyadh, sons of Julanda, kings of 'Uman, sent Dihyah ibn Khalifah al-Kalbi to Caesar, sent Shuja' ibn Wahb al-Asadi to al-Mundhir ibn al-Harith ibn Abi Shimr al-Ghassani, and sent 'Amr ibn Umayyah al-Damri to al-Najashi. They all returned before the Prophet's (peace and blessings of Allah be upon him) death, except 'Amr ibn al-'As, for the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) died while he was at al-Bahrayn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمین کے بادشاہوں کی طرف پیغام کی حدیث۔ 23 - ہم سے ہاشم بن مرثد طبرانی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، اپنے والد اسماعیل بن عیاش سے، مجھ سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، محمد بن مسلم زہری سے، عروہ بن زبیر سے، مسور بن مخرمہ سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس نکلے اور فرمایا: "اللہ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے؛ میری طرف سے پہنچاؤ، اللہ تم پر رحم کرے، اور اختلاف نہ کرو جیسے حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام پر اختلاف کیا۔ انہوں نے انہیں اسی کی دعوت دی جس کی میں نے تمہیں دعوت دی ہے؛ جو قریب تھے انہوں نے جواب دیا اور مانا، جو دور تھے انہوں نے ناپسند کیا۔ عیسیٰ بن مریم نے اس کی اللہ عزوجل سے شکایت کی، تو وہ صبح اٹھے، ان میں سے ہر آدمی اس قوم کی زبان بولتا تھا جس کی طرف وہ بھیجا گیا تھا۔ عیسیٰ نے ان سے کہا: 'یہ معاملہ ہے جو اللہ نے تمہارے لیے ٹھہرایا ہے، تو چلو اور کرو۔'" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: ہم اے اللہ کے رسول، آپ کی طرف سے پہنچائیں گے؛ ہمیں جہاں چاہیں بھیجیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ سہمی کو کسریٰ کی طرف بھیجا، سلیط بن عمرو کو ہوذہ بن علی، یمامہ کے مالک کی طرف بھیجا، علاء بن حضرمی کو منذر بن ساوی، ہجر کے مالک کی طرف بھیجا، عمرو بن عاص کو جیفر اور عیاذ، جنندی کے بیٹوں، عمان کے بادشاہوں کی طرف بھیجا، دحیہ بن خلیفہ کلبی کو قیصر کی طرف بھیجا، شجاع بن وہب اسدی کو منذر بن حارث بن ابی شمر غسانی کی طرف بھیجا، اور عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھیجا۔ وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے لوٹ آئے، سوائے عمرو بن عاص کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی جب وہ بحرین میں تھے۔

23247

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23247

حَدِيثُ هِرَقْلَ مَلِكِ الرُّومِ مَعَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ 24 - حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ السَّرَّاجُ الْمِصْرِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ، ثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ [25/234] بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي هَادَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ ، فَأَتَوْهُ بِإِيلِيَا ، فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسِهِ وَحَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ ، ثُمَّ دَعَا تَرْجُمَانَهُ ، فَقَالَ : قُلْ لَهُمْ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَنَا أَقْرَبُهُمْ بِهِ نَسَبًا ، فَقَالَ : ادْنُ مِنِّي ، وَقَرَّبُوا أَصْحَابَهُ فَجَعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُمْ : إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَوَاللهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ أَنْ يَأْثُرُوا عَلَيَّ الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلَنِي عَنْهُ أَنْ قَالَ : كَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قُلْتُ : هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ . قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ ؟ فَقُلْتُ : لَا . قَالَ : فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ . قَالَ : يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ قُلْتُ : بَلْ يَزِيدُونَ . قَالَ : فَهَلْ مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْتَدُّ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ ؟ [25/235] قُلْتُ : لَا . قَالَ : فَهَلْ يَغْدِرُ ؟ قُلْتُ : لَا ، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هُدْنَةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا ، قَالَ : وَلَمْ يُمْكِنِّي كَلِمَةً أُدْخِلُ فِيهَا غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ . قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا وَدُوَلًا ، يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ . قَالَ : فَمَاذَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَقُولُ : اعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَاتْرُكُوا مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ ، وَيَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ ، وَبِالْعَفَافِ وَبِالصِّلَةِ . فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ : إِنِّي سَأَلْتُهُ عَنْ نَسَبِهِ ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهِمْ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ : رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ : رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ ، وَسَأَلْتُكَ : أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمُ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ . [25/236] وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ . وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَغْدِرُ ، فَزَعَمْتَ أَنْ لَا ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا يَغْدِرُونَ ، وَسَأَلْتُكَ : كَيْفَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ بَيْنَكُمْ سِجَالٌ وَدُوَلٌ ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ ، وَسَأَلْتُكَ عَمَّا يَأْمُرُكُمْ بِهِ ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ ، وَالصَّدَقَةِ ، وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا يُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، وَهُوَ نَبِيٌّ ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ ، وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَالْتَمَسْتُ لُقِيَّهُ ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ قَدَمَيْهِ . قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ : بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، أَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ { قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ } . قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ ، وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ [25/237] عِنْدَهُ اللَّغَطُ [اللَّجَبُ] وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ . قَالَ : وَخَرَجْنَا ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا : لَقَدِ ارْتَفَعَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ أَنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ مُسْتَيْقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ . وَكَانَ ابْنُ نَاطُورَا صَاحِبُ إِيلِيَا وَهِرَقْلَ أُسْقُفُهُ عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَا أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ : لَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْأَتَكَ . قَالَ : وَكَانَ هِرَقْلُ رَجُلًا حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ : إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ ، قَالَ : فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ [الْأُمَّةِ] الْأُمَمِ ؟ قَالَ : يَخْتَتِنُ الْيَهُودُ ، قَالَ : فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ ، وَاكْتُبْ إِلَى مَدَائِنِ مُلْكِكَ فَلْيَقْتُلُوا مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ أَتَى هِرَقْلَ رَجُلٌ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ أَنْ يُخْبِرَهُ خَبَرَ ظُهُورِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ كِتَابُ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، قَالَ : فَاذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا ؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرَبِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ يَخْتَتِنُونَ ، فَقَالَ هِرَقْلُ : هَذَا مَلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَّةَ وَنَظِيرٍ لَهُ فِي الْعِلْمِ ، وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى جَاءَهُ كِتَابُ صَاحِبِهِ فَوَافَقَ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِعُظَمَاءِ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْأَبْوَابِ فَأُغْلِقَتْ ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الرُّومِ هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرَّشَادِ وَأَنْ يَثْبُتَ لَكُمْ مُلْكُكُمْ ؟ تَتَّبِعُونَ هَذَا النَّبِيَّ ، فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ [25/238] فَوَجَدُوهَا قَدْ أُغْلِقَتْ ، فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ ذَلِكَ وَيَئِسَ مِنْ إِيمَانِهِمْ قَالَ : رُدُّوهُمْ عَلَيَّ ، فَقَالَ : إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ مَقَالَتِي الَّتِي قُلْتُ لَكُمْ آنِفًا لِأَخْتَبِرَ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ ، فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمُ الَّذِي أُحِبُّ ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ .

EnglishUnverified translation

The account of Hiraql, king of Byzantium, with Abu Sufyan ibn Harb. 24 - Harun ibn Kamil al-Sarraj al-Misri narrated to us, 'Abd Allah ibn Salih narrated to us, al-Layth narrated to us, Yunus ibn Yazid narrated to me, from Ibn Shihab, from 'Ubayd Allah ibn 'Abd Allah ibn 'Utbah, that 'Abd Allah ibn 'Abbas informed him that Abu Sufyan ibn Harb ibn Umayyah informed him: That Hiraql sent to him among a party of Quraysh, merchants in Syria during the truce in which the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) had truced Abu Sufyan and the disbelievers of Quraysh. They came to him at Ilya; he summoned them in his council with the grandees of Byzantium around him, then called his interpreter, saying: Tell them: which of them is nearest in kinship to this man who claims he is a prophet? Abu Sufyan said: I am the nearest of them to him in kinship. He said: Draw near to me. They brought his companions near, placing them at his back. Then he said to his interpreter: Tell them: I shall ask this one about this man; if he lies to me, belie him. Abu Sufyan said: By Allah, were it not for shame that they report lies of me, I would have lied about him. Then he said: The first thing he asked me was: How is his lineage among you? I said: He is among us of lineage. He said: Has any of you said this word before him? I said: No. He said: Was any of his forefathers a king? I said: No. He said: Do the nobles of people follow him or their weak? I said: Rather their weak. He said: Do they increase or decrease? I said: Rather they increase. He said: Does any of them apostatize in wrath at his religion after entering it? I said: No. He said: Did you accuse him of lying? I said: No. He said: Does he betray? I said: No; we are with him in a truce, not knowing what he will do therein. He said: No word was possible for me to insert therein but this word. He said: Have you fought him? I said: Yes. He said: How was your fighting him? He said: I said: War between us and him is alternate fortunes; he gains from us and we gain from him. He said: What does he command you with? He said: I said: He says: Worship Allah and associate nothing with Him, leave what your fathers worshipped, and he commands prayer, charity, chastity, and kinship. He said to the interpreter: I asked him of his lineage, and you claimed he is among you of lineage; thus are messengers sent among their people's lineage. I asked you: has any of you said this word before him? You claimed no. I said: Had any said this word before him, I would say: a man following a word said before him. I asked you: was any of his forefathers a king? You claimed no. I said: Had any of his forefathers been a king, I would say: a man seeking his forefathers' kingdom. I asked you: did you accuse him of lying before he said what he said? You claimed no. I know he would not abandon lying against people and lie against Allah. I asked you: do the nobles of people follow him or their weak? You claimed their weak are those who followed him; they are the followers of messengers. I asked you: do they increase or decrease? You claimed they increase; thus is faith until it is complete. I asked you: does any apostatize in wrath at his religion after entering it? You claimed no; thus is faith when its joy mixes with hearts. I asked you: does he betray? You claimed no; thus are messengers, they do not betray. I asked you: how is your fighting him? You claimed war between you is alternate fortunes; thus are messengers tried, then theirs is the outcome. I asked you of what he commands you with, and you claimed he commands you to worship Allah, associate nothing with Him, forbids you idol worship, and commands you prayer, charity, chastity, and kinship. If what you say is true, he shall soon possess the place of these two feet of mine. He is a prophet; I knew he would come forth, but I did not think he would be of you. Had I known I could reach him, I would seek meeting him; were I with him, I would wash his feet. He said: Then he called for the Messenger of Allah's (peace and blessings of Allah be upon him) letter, which Dihyah al-Kalbi had borne to the chief of Busra, and it was handed to Hiraql; he read it, and in it was: In the name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. From Muhammad, servant of Allah and His Messenger, to Hiraql, chief of Byzantium. Peace upon whoever follows guidance. As for what follows: I call you with the call of Islam; accept Islam and you shall be safe; accept Islam and Allah shall give you your reward twice. If you turn away, upon you is the sin of the Arisiyyin {Say: O People of the Book, come to a word equal between us and you: that we worship none but Allah, associate nothing with Him, and take none of us as lords besides Allah; if they turn away, say: Bear witness that we are Muslims}. Abu Sufyan said: When he said what he said and finished reading the letter, there was much clamor with him and voices rose. He said: We left. I said to my companions when we left: The affair of Ibn Abi Kabshah has risen, that the king of Banu al-Asfar fears him. He said: I remained certain he would prevail until Allah brought Islam upon me. Ibn Natoura, master of Ilya and Hiraql's bishop over the Christians of Syria, used to narrate that Hiraql, when he came to Ilya, awoke one day troubled in spirit. One of his patricians said to him: We have deemed your state strange. He said: Hiraql was a diviner looking at stars. He said to them when they asked him: I saw tonight, when I looked at the stars, that the king of circumcision has appeared. He said: Who circumcises among these nations? He said: The Jews circumcise. He said: Let their affair not concern you; write to the cities of your kingdom to kill whoever of the Jews is therein. While they were thus, there came to Hiraql a man sent by the king of Ghassan to inform him of the appearance of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), before the Messenger of Allah's (peace and blessings of Allah be upon him) letter reached him. He said: Go and see: is he circumcised or not? They looked at him and told him he is circumcised. He asked him of the Arabs, and he informed him they circumcise. Hiraql said: This is the king of this nation. Then Hiraql wrote to a companion of his at Rome, his peer in knowledge, and Hiraql journeyed to Hims; he had not left Hims before his companion's letter came, agreeing with Hiraql's view on the coming-forth of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) and that he is a prophet. Hiraql permitted the grandees of Byzantium in a hall of his at Hims, then ordered the doors shut. Then he looked upon them, saying: O company of Byzantium, have you any desire for success, guidance, and your kingdom's continuance? Follow this Prophet. They rushed like wild asses to the doors, finding them shut. When Hiraql saw that and despaired of their faith, he said: Bring them back to me. He said: I said to you my word I said to you just now to test thereby your firmness upon your religion; I have seen of you what I love. They prostrated to him and were pleased with him. That was the last of his account.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہرقل، روم کے بادشاہ کی ابوسفیان بن حرب کے ساتھ حدیث۔ 24 - ہم سے ہارون بن کامل سراج مصری نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، مجھ سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ابن شہاب سے، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے کہ عبداللہ بن عباس نے انہیں خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب بن امیہ نے انہیں خبر دی: کہ ہرقل نے انہیں قریش کے ایک قافلے میں بلوایا، وہ شام میں تاجر تھے اس مدت میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور کافر قریش سے صلح کی تھی۔ وہ ایلیاء میں اس کے پاس آئے؛ اس نے انہیں اپنی مجلس میں بلایا اور اس کے اردگرد روم کے بڑے تھے، پھر اپنے ترجمان کو بلایا اور کہا: ان سے کہو: ان میں سے کون اس آدمی سے نسب میں قریب ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا: میں ان میں اس سے نسب میں قریب ہوں۔ کہا: میرے قریب آؤ۔ انہوں نے اس کے ساتھیوں کو قریب کیا، انہیں اس کی پیٹھ کے پاس رکھا۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں اس سے اس آدمی کے بارے میں پوچھوں گا؛ اگر وہ مجھ سے جھوٹ بولے تو اسے جھٹلاؤ۔ ابوسفیان نے کہا: اللہ کی قسم، اگر شرم نہ ہوتی کہ وہ مجھ پر جھوٹ کی خبر دیں تو میں اس کے بارے میں جھوٹ بولتا۔ پھر کہا: پہلی چیز جو اس نے مجھ سے پوچھی: تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں نسب والا ہے۔ کہا: کیا تم میں سے کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہا: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہا: لوگوں کے سردار اس کی پیروی کرتے ہیں یا ان کے کمزور؟ میں نے کہا: بلکہ ان کے کمزور۔ کہا: وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ میں نے کہا: بلکہ بڑھتے ہیں۔ کہا: کیا ان میں سے کوئی اپنے دین پر غصے سے مرتد ہوتا ہے اس میں داخل ہونے کے بعد؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہا: کیا تم اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ کہا: کیا وہ دغا کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں؛ ہم اس کے ساتھ صلح میں ہیں، نہیں جانتے وہ اس میں کیا کرے گا۔ کہا: مجھے اس میں کوئی بات داخل کرنا ممکن نہ ہوا سوائے اس بات کے۔ کہا: کیا تم نے اس سے جنگ کی؟ میں نے کہا: ہاں۔ کہا: تمہاری اس سے جنگ کیسی تھی؟ کہا: میں نے کہا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ باری باری ہے؛ وہ ہم سے پاتا ہے اور ہم اس سے پاتے ہیں۔ کہا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ کہا: میں نے کہا: وہ کہتا ہے: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کچھ شریک نہ ٹھہراؤ، اپنے باپ دادا کی عبادت چھوڑ دو، اور نماز، صدقے، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ اس نے ترجمان سے کہا: میں نے اس سے اس کے نسب کے بارے میں پوچھا، اور تم نے دعویٰ کیا کہ وہ تم میں نسب والا ہے؛ ایسے ہی رسول اپنی قوم کے نسب میں بھیجے جاتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی؟ تم نے دعویٰ کیا کہ نہیں۔ میں نے کہا: اگر اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا: ایک آدمی جو پہلے کہی گئی بات کی پیروی کرتا ہے۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ تھا؟ تم نے دعویٰ کیا کہ نہیں۔ میں نے کہا: اگر اس کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا: ایک آدمی جو اپنے باپ دادا کی بادشاہت تلاش کرتا ہے۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا تم اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے اس سے پہلے کہ وہ کہے جو اس نے کہا؟ تم نے دعویٰ کیا کہ نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگوں پر جھوٹ چھوڑ کر اللہ پر جھوٹ نہ بولے گا۔ میں نے تم سے پوچھا: لوگوں کے سردار اس کی پیروی کرتے ہیں یا ان کے کمزور؟ تم نے دعویٰ کیا کہ ان کے کمزور وہ ہیں جنہوں نے اس کی پیروی کی؛ وہی رسولوں کے پیروکار ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا: وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ تم نے دعویٰ کیا کہ وہ بڑھتے ہیں؛ ایسے ہی ایمان ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا کوئی اپنے دین پر غصے سے مرتد ہوتا ہے اس میں داخل ہونے کے بعد؟ تم نے دعویٰ کیا کہ نہیں؛ ایسے ہی ایمان ہے جب اس کی خوشی دلوں میں مل جائے۔ میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ دغا کرتا ہے؟ تم نے دعویٰ کیا کہ نہیں؛ ایسے ہی رسول ہیں، وہ دغا نہیں کرتے۔ میں نے تم سے پوچھا: تمہاری اس سے جنگ کیسی ہے؟ تم نے دعویٰ کیا کہ تمہارے درمیان جنگ باری باری ہے؛ ایسے ہی رسول آزمائے جاتے ہیں، پھر ان کا انجام ہوتا ہے۔ میں نے تم سے پوچھا وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے، اور تم نے دعویٰ کیا کہ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کچھ شریک نہ ٹھہراؤ، تمہیں بتوں کی عبادت سے روکتا ہے، اور تمہیں نماز، صدقے، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو وہ قریب ہے کہ میرے ان دو قدموں کی جگہ کا مالک ہو۔ وہ نبی ہے؛ میں جانتا تھا کہ وہ نکلے گا، لیکن میں نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا۔ اگر میں جانتا کہ میں اس تک پہنچ سکتا ہوں تو اس سے ملنے کی کوشش کرتا؛ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے قدم دھوتا۔ کہا: پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا، جو دحیہ کلبی بصریٰ کے بڑے کے پاس لے گئے تھے، اور وہ ہرقل کو دیا؛ اس نے اسے پڑھا، اس میں تھا: اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے، ہرقل، روم کے بڑے کی طرف۔ سلام اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد: میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں؛ اسلام لاؤ، سلامت رہو گے؛ اسلام لاؤ، اللہ تمہیں تمہارا اجر دو بار دے گا۔ اگر تم پھرے تو تم پر اریسیوں کا گناہ ہے {کہو: اے اہل کتاب، اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے: کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کچھ شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے؛ اگر وہ پھریں تو کہو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں}۔ ابوسفیان نے کہا: جب اس نے کہا جو کہا اور خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے پاس شور بہت ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں۔ کہا: ہم نکلے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا جب ہم نکلے: ابن ابی کبشہ کا معاملہ بلند ہو گیا کہ بنو اصفر کا بادشاہ اس سے ڈرتا ہے۔ کہا: میں یقین رکھتا رہا کہ وہ غالب آئے گا یہاں تک کہ اللہ نے مجھ پر اسلام داخل کیا۔ ابن ناطورا، ایلیاء کا مالک اور ہرقل کا اسقف جو شام کے نصاریٰ پر تھا، بیان کرتا تھا کہ ہرقل جب ایلیاء آیا تو ایک دن پریشان حال اٹھا۔ اس کے بطریقوں میں سے ایک نے اس سے کہا: ہم نے تمہاری حالت کو عجیب پایا۔ کہا: ہرقل کاہن تھا جو ستاروں کو دیکھتا تھا۔ جب انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے ان سے کہا: میں نے آج رات جب ستاروں کو دیکھا تو دیکھا کہ ختنے والوں کا بادشاہ ظاہر ہو گیا ہے۔ کہا: ان امتوں میں سے کون ختنہ کرتا ہے؟ کہا: یہودی ختنہ کرتے ہیں۔ کہا: ان کا معاملہ تمہیں فکر نہ دے؛ اپنی بادشاہت کے شہروں کو لکھو کہ وہاں جو یہودی ہیں انہیں قتل کر دیں۔ جب وہ اسی میں تھے تو ہرقل کے پاس ایک آدمی آیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کی خبر دے، اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اس کے پاس آئے۔ کہا: جاؤ اور دیکھو: کیا وہ مختون ہے یا نہیں؟ انہوں نے اسے دیکھا اور اسے بتایا کہ وہ مختون ہے۔ اس نے اس سے عرب کے بارے میں پوچھا، تو اس نے اسے بتایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ ہرقل نے کہا: یہ اس امت کا بادشاہ ہے۔ پھر ہرقل نے رومیہ میں اپنے ایک ساتھی کو لکھا، جو علم میں اس کا نظیر تھا، اور ہرقل حمص کی طرف چلا؛ وہ حمص سے نہ نکلا تھا کہ اس کے ساتھی کا خط آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور اور ان کے نبی ہونے پر ہرقل کی رائے سے موافق۔ ہرقل نے روم کے بڑوں کو حمص میں اپنے ایک ایوان میں اجازت دی، پھر دروازے بند کرنے کا حکم دیا۔ پھر ان پر جھانکا اور کہا: اے جماعت روم، کیا تمہیں فلاح، ہدایت اور تمہاری بادشاہت کے قیام میں کوئی دلچسپی ہے؟ اس نبی کی پیروی کرو۔ وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے، تو انہیں بند پایا۔ جب ہرقل نے یہ دیکھا اور ان کے ایمان سے مایوس ہوا تو کہا: انہیں میرے پاس واپس لاؤ۔ کہا: میں نے تم سے جو بات کہی تھی ابھی کہی تھی تاکہ اس سے تمہارے دین پر سختی آزماؤں؛ میں نے تم سے وہ دیکھا جو میں پسند کرتا ہوں۔ وہ اسے سجدہ کر گئے اور اس سے راضی ہوئے۔ یہ اس کی حدیث کا آخر تھا۔

23248

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23248

حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي عَذَابِ الْقَبْرِ 25 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضِرِ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ : ثَنَا زَاذَانُ ، ثَنَا الْبَرَاءُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ أَحَدٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْظُرُ إِلَى الْأَرْضِ وَيُحَدِّثُ نَفْسَهُ ، قَالَ ثُمَّ يَقُولُ : " اسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " مِرَارًا ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ إِذَا كَانَ فِي قُبُلٍ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا ، تَرَاءَتْ لَهُ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ ، فَتَجْلِسُ لَهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، مَعَهُمْ أَكْفَانٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ ، وَيَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَيَجْلِسُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَيَقُولُ : اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللهِ [25/239] وَرِضْوَانٍ ، قَالَ : فَيَخْرُجُ فَيَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ السِّقَاءِ ، فَإِذَا أَخَذَهَا قَامُوا إِلَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ ، قَالَ : وَيَخْرُجُ مِنْهُ مِثْلُ أَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ يُوجَدُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، يَتَصَعَّدُونَ بِهِ فَلَا يَمُرُّونَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالَ : مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ ؟ قَالَ : فَيَقُولُونَ : هَذَا فُلَانٌ ، فَتُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ قِيلَ : اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي الْعِلِّيِّينَ : قَالَ : فَيُكْتَبُ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ : أَرْجِعُوهُ إِلَى الْأَرْضِ ؛ فَإِنَّ مِنْهَا خَلَقْنَاهُمْ ، وَفِيهَا نُعِيدُهُمْ ، وَمِنْهَا نُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى ، فَيُجْعَلُ فِي جَسَدِهِ ، فَيَأْتِيهِ الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ لَهُ : اجْلِسْ ، مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللهُ ، قَالَ : يَقُولُونَ : مَا دِينُكَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : دِينِيَ الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولُونَ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ يَقُولُ : هُوَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَيَقُولُونَ : مَا يُدْرِيكَ ؟ فَيَقُولُ : قَرَأْتُ كِتَابَ اللهِ فَآمَنْتُ وَصَدَّقْتُ ، فَيُنَادُونَ مِنَ السَّمَاءِ : أَنْ قَدْ صَدَقَ ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ السَّمَاءِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَأَرُوهُ مَنْزِلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَيُصِيبُ مِنْ رَوْحِهَا ، وَيُوَسَّعُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ ، وَيَمْثُلُ لَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الثِّيَابِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ ، فَيَقُولُ هُوَ : مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللهُ ؟ فَوَجْهُكَ الَّذِي جَاءَ بِالْخَيْرِ ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ " . قَالَ : " وَإِنْ كَانَ كَافِرًا نَزَلَتْ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ، سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمْ مُسُوحٌ فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، قَالَ : وَيَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَيَجْلِسُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ : اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ إِلَى غَضَبٍ مِنَ اللهِ وَسَخَطِهِ ، قَالَ : فَيُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ كَرَاهِيَةً لَهُ ، قَالَ : فَيَسْتَخْرِجُهَا [25/240] تَنْقَطِعُ مَعَهَا الْعُرُوقُ وَالْعَصَبُ كَمَا يُسْتَخْرَجُ الصُّوفُ الْمَبْلُولُ بِالسَّفُّودِ ، فَإِذَا أَخَذَهَا قَامُوا إِلَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ ، فَيَأْخُذُونَهَا فِي أَكْفَانِهَا فِي الْمُسُوحِ ، قَالَ : وَيَخْرُجُ مِنْهُ مِثْلُ أَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، وَيَصْعَدُونَ بِهَا ، فَلَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالَ : مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ ؟ قَالَ : يُقَالَ : هَذَا فُلَانٌ ، بِشَرِّ أَسْمَائِهِ ، فَإِذَا ارْتَفَعَ إِلَى السَّمَاءِ اسْتَفْتَحُوا فَغُلِّقَتْ دُونَهُ الْأَبْوَابُ ، وَنُودُوا : أَرْجِعُوهُ إِلَى الْأَرْضِ ؛ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى ، فَيُجْعَلُ فِي جَسَدِهِ ، فَتَأْتِيهِ الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ : اجْلِسْ ، فَيَقُولُونَ : مَنْ رَبُّكَ ؟ قَالَ : يَقُولُ : هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي ، فَيَقُولُونَ : مَا دِينُكَ ؟ فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ ، لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ ، لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ ، قَالَ : فَيُنَادُونَ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ ، أَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ ، وَأَرُوهُ مَنْزِلَهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَيَرَى مَنْزِلَهُ مِنَ النَّارِ ، فَيُصِيبُهُ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا ، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ ، وَيَمْثُلُ لَهُ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ ، قَبِيحُ الثِّيَابِ ، مُنْتِنُ الرَّائِحَةِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِمَا يَسُوءُكَ ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ ، فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ وَيْلَكَ ؟ فَوَاللهِ وَجْهُكَ الَّذِي جَاءَنَا بِالشَّرِّ ، فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ ، فَهُوَ يَقُولُ : يَا رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ ، يَا رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ .

EnglishUnverified translation

The account of al-Bara' ibn 'Azib - may Allah be pleased with him - on the torment of the grave. 25 - Muhammad ibn al-Nadr al-Azdi narrated to us, Mu'awiyah ibn 'Amr narrated to us, Za'idah narrated to us, Sulayman al-A'mash narrated to me, al-Minhal ibn 'Amr narrated to me, he said: Zadham narrated to us, al-Bara' narrated to us, he said: We went out with the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) at the funeral of one of the Ansar. We ended at the grave, not yet niched. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) began raising his head to the heaven, looking to the earth, speaking to himself. He said: Then he said: "Seek refuge with Allah from the torment of the grave" repeatedly. Then he said: The Muslim man, when he is at the approach of the Hereafter and severance from this world, angels from heaven appear to him, as though their faces are the sun; they sit for him as far as the eye sees, with shrouds of Paradise's shrouds and embalming of Paradise's embalming. The Angel of Death comes, sitting at his head, saying: Come forth, O tranquil soul, to forgiveness from Allah and pleasure. He said: It comes out, flowing as the drop flows from the waterskin. When he takes it, they rise to him, not leaving it in his hand the blink of an eye. He said: There comes from him like the sweetest scent of musk found upon the face of the earth. They ascend with him, passing no angel but it says: What is this good spirit? He said: They say: This is so-and-so. The doors of heaven are opened, and from every heaven its near ones escort him, until when he ends at the seventh heaven, it is said: Write his book in 'Illiyyin. He said: It is written. He said: Then it is said: Return him to the earth, for of it We created them, in it We return them, and of it We bring them forth another time. He is placed in his body. The angels come to him, saying to him: Sit. Who is your Lord? He says: My Lord is Allah. He said: They say: What is your religion? He says: He says: My religion is Islam. They say: Who is this man sent among you? He says: He is the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). They say: How do you know? He says: I read Allah's Book, believed, and affirmed. They call from heaven: He has spoken truth; spread for him from heaven, clothe him from Paradise, and show him his abode of Paradise. He said: He attains of its breeze, his grave is widened for him as far as his sight, and there appears to him a man fair of garments, sweet of scent, saying: Rejoice in what pleases you; this is your day you were promised. He says: Who are you, may Allah have mercy on you? Your face is one that has come with good. He said: He says: I am your righteous deed. He said: And if he be a disbeliever, angels from heaven descend to him, black-faced, with haircloths; they sit from him as far as the eye sees. He said: The Angel of Death comes, sitting at his head, saying: Come forth, O foul soul, to wrath from Allah and His anger. He said: It disperses in his body out of hatred for it. He said: He extracts it, veins and sinews severing with it, as wet wool is extracted with the skewer. When he takes it, they rise to him, not leaving it in his hand the blink of an eye. They take it in its shrouds in the haircloths. He said: There comes from him like the foulest stench of a carcass found upon the face of the earth. They ascend with it, passing no angel but it says: What is this foul spirit? He said: It is said: This is so-and-so, by his worst names. When he rises to heaven, they seek opening, and the doors are shut against him. They are called: Return him to the earth, for of it I created them, in it I return them, and of it I bring them forth another time. He is placed in his body. The angels come to him, saying: Sit. They say: Who is your Lord? He says: He says: Hah hah, I know not. They say: What is your religion? He says: Hah hah, I know not; I heard people saying, I know not. He said: They say: Who is this man sent among you? He says: He says: I know not; I heard people saying. He said: They call from heaven: He has lied; spread for him from the Fire, clothe him from the Fire, and show him his abode of the Fire. He said: He sees his abode of the Fire, attaining of its heat and scorch, his grave straitened upon him until his ribs differ. There appears to him a man foul of face, foul of garments, foul of smell, saying: Rejoice in what grieves you; this is your day you were promised. He says: Who are you, woe to you? By Allah, your face is one that has come to us with evil. He says: I am your foul deed. He says: O Lord, do not establish the Hour; O Lord, do not establish the Hour.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی قبر کے عذاب پر حدیث۔ 25 - ہم سے محمد بن نضر ازدی نے بیان کیا، ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے زائدہ نے بیان کیا، مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا، مجھ سے منہال بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زاذان نے بیان کیا، ہم سے براء نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار میں سے ایک کے جنازے میں نکلے۔ ہم قبر تک پہنچے، ابھی لحد نہ بنی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر آسمان کی طرف اٹھانے لگے، زمین کی طرف دیکھتے، اپنے دل میں بات کرتے۔ کہا: پھر فرمایا: "قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو" بار بار۔ پھر فرمایا: مسلمان آدمی جب آخرت کی آمد اور دنیا سے جدائی میں ہوتا ہے تو آسمان سے فرشتے اسے نظر آتے ہیں، گویا ان کے چہرے سورج ہیں؛ وہ اس کے لیے حد نظر تک بیٹھتے ہیں، ان کے ساتھ جنت کے کفنوں میں سے کفن اور جنت کے حنوط میں سے حنوط ہوتے ہیں۔ موت کا فرشتہ آتا ہے، اس کے سر کے پاس بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: نکلو اے مطمئن جان، اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف۔ کہا: وہ نکلتی ہے، بہتی ہے جیسے مشکیزے سے قطرہ بہتا ہے۔ جب وہ اسے لیتا ہے تو وہ اس کی طرف اٹھتے ہیں، اسے اس کے ہاتھ میں آنکھ جھپکنے تک نہیں چھوڑتے۔ کہا: اس سے زمین پر پائی جانے والی بہترین مشک کی خوشبو جیسی نکلتی ہے۔ وہ اسے لے کر چڑھتے ہیں، کسی فرشتے کے پاس سے نہیں گزرتے مگر وہ کہتا ہے: یہ پاک روح کیا ہے؟ کہا: وہ کہتے ہیں: یہ فلاں ہے۔ آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اور ہر آسمان سے اس کے مقرب اسے رخصت کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ ساتویں آسمان تک پہنچتا ہے تو کہا جاتا ہے: اس کی کتاب علیین میں لکھو۔ کہا: تو وہ لکھی جاتی ہے۔ کہا: پھر کہا جاتا ہے: اسے زمین کی طرف لوٹاؤ، کیونکہ اسی سے ہم نے انہیں پیدا کیا، اسی میں ہم انہیں لوٹائیں گے، اور اسی سے ہم انہیں دوسری بار نکالیں گے۔ وہ اس کے جسم میں رکھا جاتا ہے۔ فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: بیٹھو۔ تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ کہا: وہ کہتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ کہا: وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ آدمی جو تم میں بھیجا گیا کون ہے؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وہ کہتے ہیں: تمہیں کیسے معلوم؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، ایمان لایا اور تصدیق کی۔ آسمان سے پکارا جاتا ہے: اس نے سچ کہا؛ اسے آسمان سے بچھونا بچھاؤ، اسے جنت سے پہناؤ، اور اسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھاؤ۔ کہا: وہ اس کی ہوا پاتا ہے، اس کی قبر اس کے لیے حد نظر تک کشادہ کی جاتی ہے، اور اسے اچھے کپڑوں والا، اچھی خوشبو والا آدمی نظر آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں خوشخبری اس کی جو تمہیں خوش کرے؛ یہ تمہارا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ کہتا ہے: تم کون ہو، اللہ تم پر رحم کرے؟ تمہارا چہرہ وہ ہے جو بھلائی لے کر آیا۔ کہا: وہ کہتا ہے: میں تمہارا نیک عمل ہوں۔ کہا: اور اگر وہ کافر ہو تو آسمان سے فرشتے اس کے پاس اترتے ہیں، کالے چہروں والے، ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں؛ وہ اس سے حد نظر تک بیٹھتے ہیں۔ کہا: موت کا فرشتہ آتا ہے، اس کے سر کے پاس بیٹھتا ہے اور کہتا ہے: نکلو اے خبیث جان، اللہ کے غضب اور اس کی ناراضی کی طرف۔ کہا: وہ اس کے جسم میں بکھرتی ہے اس سے نفرت کرتے ہوئے۔ کہا: وہ اسے نکالتا ہے، اس کے ساتھ رگیں اور پٹھے کٹتے ہیں، جیسے گیلی اون سیخ سے نکالی جاتی ہے۔ جب وہ اسے لیتا ہے تو وہ اس کی طرف اٹھتے ہیں، اسے اس کے ہاتھ میں آنکھ جھپکنے تک نہیں چھوڑتے۔ وہ اسے ٹاٹ میں اس کے کفنوں میں لیتے ہیں۔ کہا: اس سے زمین پر پائی جانے والی بدترین مردار کی بدبو جیسی نکلتی ہے۔ وہ اسے لے کر چڑھتے ہیں، کسی فرشتے کے پاس سے نہیں گزرتے مگر وہ کہتا ہے: یہ خبیث روح کیا ہے؟ کہا: کہا جاتا ہے: یہ فلاں ہے، اس کے بدترین ناموں سے۔ جب وہ آسمان تک چڑھتا ہے تو کھولنے مانگتے ہیں، اور دروازے اس پر بند کیے جاتے ہیں۔ پکارا جاتا ہے: اسے زمین کی طرف لوٹاؤ، کیونکہ اسی سے میں نے انہیں پیدا کیا، اسی میں میں انہیں لوٹاؤں گا، اور اسی سے میں انہیں دوسری بار نکالوں گا۔ وہ اس کے جسم میں رکھا جاتا ہے۔ فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: بیٹھو۔ وہ کہتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ کہا: وہ کہتا ہے: ہاہ ہاہ، میں نہیں جانتا۔ وہ کہتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہاہ ہاہ، میں نہیں جانتا؛ میں نے لوگوں کو کہتے سنا، میں نہیں جانتا۔ کہا: وہ کہتے ہیں: یہ آدمی جو تم میں بھیجا گیا کون ہے؟ کہا: وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا؛ میں نے لوگوں کو کہتے سنا۔ کہا: آسمان سے پکارا جاتا ہے: اس نے جھوٹ کہا؛ اسے آگ سے بچھونا بچھاؤ، اسے آگ سے پہناؤ، اور اسے آگ میں اس کا ٹھکانا دکھاؤ۔ کہا: وہ آگ میں اپنا ٹھکانا دیکھتا ہے، اس کی گرمی اور لو پاتا ہے، اس کی قبر اس پر تنگ کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں مختلف ہو جاتی ہیں۔ اسے برے چہرے والا، برے کپڑوں والا، بدبودار آدمی نظر آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں خوشخبری اس کی جو تمہیں برا لگے؛ یہ تمہارا دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ کہتا ہے: تم کون ہو، تمہارا برا ہو؟ اللہ کی قسم، تمہارا چہرہ وہ ہے جو ہمارے پاس برائی لے کر آیا۔ وہ کہتا ہے: میں تمہارا برا عمل ہوں۔ وہ کہتا ہے: اے رب، قیامت قائم نہ کر؛ اے رب، قیامت قائم نہ کر۔

23249

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23249

حَدِيثُ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ فِي الِاسْتِسْقَاءِ 26 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ [25/241] يَحْيَى أَبُو السَّكَنِ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ ، عَنْ جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مُنْهِبٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ أُمِّهِ رُقَيْقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ وَكَانَتْ أُمُّهُ لِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سِنُونَ أَمْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَدَقَّتِ الْعَظْمَ ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةُ الْهَمِّ أَوْ مَهْمُومَةٌ إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ بِصَوْتٍ صَحِلٍ يَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ الْمَبْعُوثَ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامُهُ ، وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ فَحَيْهَلَا بِالْحَيَاءِ وَالْخِصْبِ ، أَلَا فَأَنْفِرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا ، عِظَامًا ، جِسَامًا ، أَبْيَضَ بِضِيَاءٍ ، أَوْطَفَ الْأَهْدَابِ ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ ، أَشَمَّ الْعِرْنِينِ ، لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهَا ، فَلْيَخْلُصْ هُوَ وَوَلَدُهُ ، وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ ، فَلْيَشُنُّوا مِنَ الْمَاءِ ، وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ ، وَلْيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ لْيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ ، ثُمَّ لْيَدْعُ الرَّجُلُ وَلْيُؤَمِّنِ الْقَوْمُ ، فَغِثْتُمْ مَا شِئْتُمْ . فَأَصْبَحْتُ عَلِمَ اللهُ مَذْعُورَةً ، وَاقْشَعَرَّ جِلْدِي ، وَوَلِهَ عَقْلِي ، وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ ، وَنِمْتُ فِي شِعَابِ مَكَّةَ ، فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحِيٌّ إِلَّا قَالَ : هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ ، وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ ، وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ ، فَشُنُّوا ، وَمَسُّوا ، وَاسْتَلَمُوا الرُّكْنَ ، ثُمَّ ارْتَقَوْا أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مُهِلَّةً ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، غُلَامٌ قَدْ أَيْفَعَ أَوْ كَرَبَ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةِ ، وَكَاشِفَ الْكُرْبَةِ ، أَنْتَ مُعَلِّمٌ غَيْرُ مُعَلَّمٍ ، وَمَسْئُولٌ غَيْرُ مُبَخَّلٍ ، وَهَذِهِ عِبِدَّاؤُكَ وَإِمَاؤُكَ بِعَذِرَاتِ حَرَمِكَ ، يَشْكُونَ إِلَيْكَ سَنَتَهُمْ ، أَذْهَبَتِ الْخُفَّ وَالظِّلْفَ ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مَرِيعًا ، فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَا فِيهَا بِمَائِهَا ، وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ ، فَسَمِعْتُ شِيخَانَ قُرَيْشٍ وَجِلَّتَهَا [25/242] عَبْدَ اللهِ بْنَ جُدْعَانٍ ، وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ : هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا الْبَطْحَاءِ ، أَيْ عَاشَ بِكَ أَهْلُ الْبَطْحَاءِ . فَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رُقَيْقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ : وَاجْلَوَّذَ سَبَلٌ طَائِرُهُ .

EnglishUnverified translation

The account of Ruqayqah bint Abi Sayfi ibn Hashim on seeking rain. 26 - Muhammad ibn Musa ibn Hammad al-Barbari narrated to us, Zakariyya ibn Yahya Abu al-Sakan al-Ta'i narrated to us, my father's uncle Zahr ibn Hisn narrated to me, from his grandfather Humayd ibn Munhib, he said: 'Urwah ibn Mudarris narrated to me, he said: Makhramah ibn Nawfal narrated to me, from his mother Ruqayqah bint Abi Sayfi ibn Hashim - his mother being co-born with 'Abd al-Muttalib - she said: Successive years of drought befell Quraysh, drying the udder and thinning the bone. While I lay wakeful with care, or careworn, a caller cried with a hoarse voice, saying: O company of Quraysh, this sent Prophet's days have overshadowed you; this is the season of his stars. Come to life and fertility: send forth a man of you, eminent, mighty, great-bodied, white with radiance, long-lashed, smooth-cheeked, high-bridged of nose, with pride he restrains, and a practice he guides to. Let him go apart, he and his child, and let a man of every clan descend to him. Let them sprinkle water, touch perfume, touch the Corner, then ascend Abu Qubays. Then let the man supplicate and the people say amen; you shall be rained upon as you wish. I awoke - Allah knows - terrified, my skin shivering, my mind distracted. I recounted my dream, sleeping in the ravines of Makkah. By the sanctity and sanctuary, no Bat'ha dweller remained but said: This is Shaybah al-Hamd. The men of Quraysh reached him, and a man of every clan descended to him. They sprinkled, touched perfume, touched the Corner, then ascended Abu Qubays, arraying around him as far as their striving reached a resting place. When they stood level upon the mountain's peak, 'Abd al-Muttalib stood, with him the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), a boy grown or near grown. He raised his hands, saying: O Allah, Filler of need, Remover of distress, You are taught, not taught; asked, not stinted. These are Your male and female servants at the courtyards of Your sanctuary, complaining to You of their year, which has taken hoof and cloven hoof. O Allah, rain upon us copious, fertile rain. By the Lord of the Ka'bah, they had not moved before the heaven burst with its water, and the valley crowded with its torrent. I heard the elders and grandees of Quraysh - 'Abd Allah ibn Jud'an, Harb ibn Umayyah, Hisham ibn al-Mughirah - say to 'Abd al-Muttalib: Congratulations to you, O Abu al-Bat'ha - the people of al-Bat'ha live by you. Concerning that, Ruqayqah bint Abi Sayfi says verses.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

رقیقہ بنت ابی صیفی بن ہاشم کی استسقاء پر حدیث۔ 26 - ہم سے محمد بن موسیٰ بن حماد بربری نے بیان کیا، ہم سے زکریا بن یحییٰ ابوالسکن طائی نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد کے چچا زحر بن حصن نے بیان کیا، اپنے دادا حمید بن منہب سے، انہوں نے کہا: مجھ سے عروہ بن مضرس نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے مخرمہ بن نوفل نے بیان کیا، اپنی والدہ رقیقہ بنت ابی صیفی بن ہاشم سے - ان کی والدہ عبدالمطلب کی ہم عمر تھیں - انہوں نے کہا: قریش پر لگاتار قحط کے سال آئے جنہوں نے تھن خشک اور ہڈی باریک کر دی۔ جب میں فکر میں لیٹی یا فکرمند تھی تو ایک پکارنے والا بھاری آواز سے پکارا اور کہا: اے جماعت قریش، اس بھیجے گئے نبی کے دن تم پر سایہ ڈال چکے ہیں؛ یہ اس کے ستاروں کا وقت ہے۔ زندگی اور خوشحالی کی طرف آؤ: اپنے میں سے ایک آدمی بھیجو، درمیانی، بڑی ہڈیوں والا، بڑے جسم والا، چمک سے سفید، لمبی پلکوں والا، نرم رخساروں والا، اونچی ناک والا، اسے فخر ہے جسے وہ دباتا ہے، اور سنت ہے جس کی طرف وہ رہنمائی کرتا ہے۔ وہ اور اس کی اولاد الگ ہوں، اور ہر خاندان سے ایک آدمی اس کی طرف اترے۔ پانی چھڑکیں، خوشبو لگائیں، رکن کو چھوئیں، پھر ابوقبیس پر چڑھیں۔ پھر آدمی دعا کرے اور قوم آمین کہے؛ جتنا چاہو بارش پاؤ گے۔ میں جاگی - اللہ جانتا ہے - ڈری ہوئی، میری کھال کانپ گئی، میرا عقل حیران ہوا۔ میں نے اپنا خواب سنایا، مکہ کی گھاٹیوں میں سوئی۔ حرمت اور حرم کی قسم، کوئی بطحائی باقی نہ رہا مگر کہا: یہ شیبۃ الحمد ہے۔ قریش کے مرد اس تک پہنچے، اور ہر خاندان سے ایک آدمی اس کی طرف اترا۔ انہوں نے چھڑکا، خوشبو لگائی، رکن کو چھوا، پھر ابوقبیس پر چڑھے، اس کے اردگرد صف باندھے جتنا ان کی کوشش پہنچی۔ جب وہ پہاڑ کی چوٹی پر برابر ہوئے تو عبدالمطلب کھڑے ہوئے، ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جوان یا جوانی کے قریب لڑکے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے اللہ، حاجت پوری کرنے والے، تکلیف دور کرنے والے، تو سکھایا ہوا، سکھایا نہیں گیا؛ مانگا ہوا، بخل نہیں کیا گیا۔ یہ تیرے بندے اور بندیاں تیرے حرم کے صحنوں میں تجھ سے اپنے سال کی شکایت کرتے ہیں، جس نے کھروں اور کھر والوں کو لے لیا۔ اے اللہ، ہم پر خوب برسنے والی، زرخیز بارش برسا۔ کعبہ کے رب کی قسم، وہ ہلے بھی نہ تھے کہ آسمان اپنے پانی سے پھٹ پڑا، اور وادی اس کے بہاؤ سے بھر گئی۔ میں نے قریش کے شیخوں اور بڑوں - عبداللہ بن جدعان، حرب بن امیہ، ہشام بن مغیرہ - کو عبدالمطلب سے کہتے سنا: تمہیں مبارک ہو اے ابوالبطحاء - بطحاء والے تم سے جیتے ہیں۔ اسی میں رقیقہ بنت ابی صیفی اشعار کہتی ہیں۔

23250

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23250

حَدِيثُ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي الِاسْتِسْقَاءِ 27 - حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثَنَا مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَحَطَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَحَطَ الْمَطَرُ ، وَيَبِسَ الشَّجَرُ ، وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، وَأَسْنَتَ النَّاسُ ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُوا وَأَخْرِجُوا مَعَكُمْ بِصَدَقَاتٍ " فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ مَعَهُ ، يَمْشِي وَيَمْشُونَ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ حَتَّى أَتَوُا الْمُصَلَّى ، فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ [25/243] وَ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى } ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَ { هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ } ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ، قَالَ : لِكَيْ يَنْقَلِبَ الْقَحْطُ إِلَى الْخِصْبِ ، ثُمَّ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَسْقِيَ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اسْقِنَا وَأَغِثْنَا ، اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا ، رَحْبًا رَبِيعًا ، وَجَدًا غَدَقًا ، طَبَقًا ، مُغْدِقًا ، عَامًّا ، هَنِيئًا ، مَرِيئًا ، مَرِيعًا ، وَابِلًا ، شَامِلًا ، مُسْبِلًا ، مُجَلَّلًا ، دَائِمًا ، دَارًّا ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ ، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ ، اللَّهُمَّ تُحْيِي بِهِ الْبِلَادَ ، وَتُغِيثُ بِهِ الْعِبَادَ ، وَتَجْعَلُهُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِي ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا زِينَتَهَا ، وَأَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا سَلَّهَا ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا ، فَأَحْيِ بِهِ بَلْدَةً مَيْتَةً ، وَاسْقِهِ مِمَّا خَلَقْتَ أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا " . قَالَ : فَمَا بَرِحُوا حَتَّى أَقْبَلَ فَزِعٌ مِنَ السَّحَابِ [السَّمَاءِ] ، وَالْتَأَمَ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لَا تُقْلِعُ عَنِ الْمَدِينَةِ ، فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَدْ غَرِقَتِ الْأَرْضُ ، وَتَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللهَ لَنَا أَنْ يَصْرِفَهَا عَنَّا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِسُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ، اللَّهُمَّ عَلَى رُءُوسِ الظِّرَابِ ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ ، وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ ، وَظُهُورِ الْآكَامِ . فَتَصَدَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ ، فَكَانَتْ فِي مِثْلِ التُّرْسِ عَلَيْهَا كَالنِّشْطَاطِ ، تُمْطِرُ مَرَاعِيَهَا وَلَا تُمْطِرُ فِيهَا قَطْرَةً .

EnglishUnverified translation

The account of Anas - may Allah be pleased with him - on seeking rain. 27 - Abu Ya'la Muhammad ibn Ishaq ibn Ibrahim Shadhan narrated to us, my father narrated to me, Mujashi' ibn 'Amr narrated to us, Ibn Lahi'ah narrated to us, 'Uqayl ibn Khalid narrated to us, from Ibn Shihab, from Anas ibn Malik, he said: People suffered drought in the time of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him). The Muslims came to him, saying: O Messenger of Allah, rain has failed, trees have withered, livestock have perished, people are in famine; seek rain for us from your Lord. He said: "When such-and-such a day comes, go out, bringing charities with you." When that day came, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) went out with the people, walking, they walking, with tranquility and dignity upon them, until they reached the place of prayer. The Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) advanced, praying with them two bowings, reciting aloud therein. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) would recite in the two Eids and the rain-prayer, in the first bowing the Opening of the Book and {Glorify the name of your Lord, the Most High}, and in the second bowing the Opening of the Book and {Has there reached you the account of the Overwhelming}. When he finished his prayer, he faced the people with his face and turned his cloak, he said: that drought may turn to fertility. Then he knelt upon his knees, raised his hands, and uttered a takbir before seeking rain. Then he said: "O Allah, give us drink and succor us. O Allah, give us a succoring, spacious, spring rain - abundant, pouring, enveloping, drenching, general, wholesome, pleasant, fertile - downpouring, inclusive, trailing, covering, lasting, flowing, beneficial, not harmful, soon, not delayed. O Allah, give life thereby to lands, succor thereby servants, and make it a provision for the present of us and the desert-dweller. O Allah, send down upon us in our land its adornment, send down upon us in our land its ease. O Allah, send down upon us from heaven purifying water; give life thereby to a dead land, and give drink of what You created, cattle and many people." He said: They had not moved before a fright of cloud advanced from the heaven, joining part to part. Then it rained upon them seven days and their nights, not lifting from Madinah. The Muslims came to him, saying: O Messenger of Allah, the earth has drowned, houses have collapsed, roads are cut; supplicate Allah for us to turn it from us. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) laughed upon the pulpit until his molars appeared, in wonder at the son of Adam's quick weariness. Then he raised his head, saying: O Allah, around us, not upon us. O Allah, upon the hilltops, the trees' growths, the valleys' bellies, and the highlands' backs. It split from Madinah, being like a shield over it, as a canopy; it rained its pastures and did not rain a drop therein.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انس رضی اللہ عنہ کی استسقاء پر حدیث۔ 27 - ہم سے ابویعلیٰ محمد بن اسحاق بن ابراہیم شاذان نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے مجاشع بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے ابن لہیعہ نے بیان کیا، ہم سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، ابن شہاب سے، انس بن مالک سے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو قحط پڑا۔ مسلمان آپ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول، بارش رک گئی، درخت خشک ہو گئے، مویشی ہلاک ہو گئے، لوگ قحط میں ہیں؛ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش مانگیں۔ فرمایا: "جب فلاں فلاں دن ہو تو نکلو، اپنے ساتھ صدقے لے کر نکلو۔" جب وہ دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نکلے، چلتے ہوئے، وہ چلتے ہوئے، ان پر سکینت اور وقار تھا، یہاں تک کہ وہ عیدگاہ پہنچے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، انہیں دو رکعتیں پڑھائیں جن میں بلند قراءت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور استسقاء میں پہلی رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور {اپنے بلند رب کے نام کی تسبیح کرو} پڑھتے تھے، اور دوسری رکعت میں فاتحۃ الکتاب اور {کیا تمہارے پاس ڈھانپنے والی کی خبر آئی} پڑھتے تھے۔ جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو اپنا چہرہ قوم کی طرف کیا اور اپنی چادر پلٹی، کہا: تاکہ قحط خوشحالی میں بدلے۔ پھر گھٹنوں پر جھکے، اپنے ہاتھ اٹھائے، اور بارش مانگنے سے پہلے تکبیر کہی۔ پھر فرمایا: "اے اللہ، ہمیں پلا اور ہماری فریاد سن۔ اے اللہ، ہمیں فریاد سننے والی، کشادہ، بہاری بارش دے - خوب برسنے والی، ڈھانپنے والی، بھرپور، عام، خوشگوار، مزیدار، زرخیز، موسلا دھار، شامل، بہتی، ڈھانپنے والی، دائمی، بہنے والی، نفع دینے والی، نقصان نہ دینے والی، جلد، دیر نہ کرنے والی۔ اے اللہ، اس سے شہروں کو زندہ کر، اس سے بندوں کی فریاد سن، اور اسے ہمارے حاضر اور دیہاتی کے لیے توشہ بنا۔ اے اللہ، ہم پر ہماری زمین میں اس کی زینت اتار، ہم پر ہماری زمین میں اس کی آسانی اتار۔ اے اللہ، ہم پر آسمان سے پاک پانی اتار؛ اس سے مردہ شہر زندہ کر، اور جو تو نے پیدا کیا اسے پلا، چوپائے اور بہت سے لوگ۔" کہا: وہ ہلے بھی نہ تھے کہ آسمان سے بادل کا ایک خوف آیا، اور ایک دوسرے سے مل گیا۔ پھر ان پر سات دن اور ان کی راتیں بارش ہوئی، مدینہ سے نہ رکی۔ مسلمان آپ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول، زمین ڈوب گئی، گھر گر گئے، راستے کٹ گئے؛ ہمارے لیے اللہ سے دعا کریں کہ اسے ہم سے پھیر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آئیں، ابن آدم کی جلد اکتاہٹ پر حیرت سے۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اے اللہ، ہمارے اردگرد، ہم پر نہیں۔ اے اللہ، ٹیلوں کی چوٹیوں، درختوں کے اگنے کی جگہوں، وادیوں کے پیٹوں اور ٹیلوں کی پیٹھوں پر۔ وہ مدینہ سے پھٹ گئی، اس پر ڈھال کی طرح تھی، چھتری کی طرح؛ اس کی چراگاہوں پر بارش ہوتی اور اس میں ایک قطرہ نہ برستا۔

23251

Al-Mujam al-Kabir Tabarani #23251

28 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رُشْدِ بْنِ خُثَيْمٍ [25/244] الْهِلَالِيُّ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَقَدْ أَتَيْنَاكَ وَمَا لَنَا بَعِيرٌ يَئِطُّ ، وَلَا صَبِيٌّ يَصِطِحُ يَغُطُّ ، ثُمَّ أَنْشَدَ : وَالْعَذْرَاءُ الطِّفْلِ اسْتِكَانَةً الْعَاجِيِّ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا ، مَرِيئًا ، مَرِيعًا ، غَدَقًا ، طَبَقًا ، عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ ، تَمْلَأُ بِهِ الضَّرْعَ ، وَتُنْبِتُ بِهِ الزَّرْعَ ، وَتُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا " . فَوَاللهِ مَا رَدَّ يَدَيْهِ إِلَى نَحْرِهِ حَتَّى أَلْقَتِ السَّمَاءُ بِأَوْرَامِهَا وَجَاءَ أَهْلُ الْبِطَاحِ يَعْجَبُونَ [يَصِيحُونَ] : يَا رَسُولَ اللهِ ، الْغَرَقَ [الْغَرَقَ] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا " . فَانْجَابَ السَّحَابُ حَتَّى أَحْدَقَ بِالْمَدِينَةِ كَالْإِكْلِيلِ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَبُو طَالِبٍ لَوْ كَانَ حَيًّا لَقَرَّتْ عَيْنَاهُ ، مَنْ يُنْشِدُنَا قَوْلَهُ ؟ " فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّكَ أَرَدْتَ قَوْلَهُ : [25/245] ثِمَالُ يَلُوذُ مُحَمَّدٌ وَنُنَاضِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ " ، وَقَامَ رَجُلٌ مِنْ كِنَانَةَ فَقَالَ : يَشْكُرِ الْغِيَرْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يَكُ شَاعِرًا يُحْسِنُ فَقَدْ أَحْسَنْتَ " .

EnglishUnverified translation

28 - 'Ali ibn Sa'id al-Razi narrated to us, Ahmad ibn Rushd ibn Khuthaym al-Hilali narrated to us, he said: My uncle Sa'id ibn Khuthaym narrated to me, he said: Muslim al-Mula'i narrated to me, from Anas ibn Malik, he said: A Bedouin came to the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) and said: O Messenger of Allah, we have come to you with no camel grumbling, nor a boy crying out snoring. Then he recited verses. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) stood, dragging his cloak, until he ascended the pulpit. Then he raised his hands to heaven, saying: "O Allah, give us a succoring, pleasant, fertile, copious, enveloping rain - soon, not delayed - beneficial, not harmful, filling thereby the udder, growing thereby the crop, giving life to the earth after its death." By Allah, he had not returned his hands to his breast before the heaven cast its downpours, and the people of the lowlands came clamoring: O Messenger of Allah, drowning, drowning. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "O Allah, around us, not upon us." The cloud dispersed until it encircled Madinah like a crown. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) laughed until his molars appeared, then said: "Had Abu Talib been alive, his eyes would be cooled. Who recites to us his word?" 'Ali ibn Abi Talib stood, saying: O Messenger of Allah, as though you meant his word on shelter and striving. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "Yes." A man of Kinanah stood, saying verses of thanks. The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) said: "If he be a poet doing well, you have done well."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

28 - ہم سے علی بن سعید رازی نے بیان کیا، ہم سے احمد بن رشد بن خثیم ہلالی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے چچا سعید بن خثیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم ملائی نے بیان کیا، انس بن مالک سے، انہوں نے کہا: ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول، ہم آپ کے پاس آئے ہیں اور ہمارا نہ کوئی اونٹ بلبلاتا ہے، نہ کوئی بچہ چیختا خراٹے لیتا ہے۔ پھر اس نے اشعار پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے، یہاں تک کہ منبر پر چڑھے۔ پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: "اے اللہ، ہمیں فریاد سننے والی، مزیدار، زرخیز، خوب برسنے والی، ڈھانپنے والی بارش دے - جلد، دیر نہ کرنے والی - نفع دینے والی، نقصان نہ دینے والی، جس سے تو تھن بھرے، کھیتی اگائے، زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرے۔" اللہ کی قسم، آپ نے اپنے ہاتھ اپنے سینے کی طرف نہ لوٹائے تھے کہ آسمان نے اپنی موسلا دھار بارش ڈال دی، اور نشیبی علاقے والے حیران آئے: اے اللہ کے رسول، ڈوبنا، ڈوبنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے اللہ، ہمارے اردگرد، ہم پر نہیں۔" بادل چھٹ گیا یہاں تک کہ مدینہ کو تاج کی طرح گھیر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آئیں، پھر فرمایا: "ابوطالب اگر زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔ کون ہمیں ان کا قول سناتا ہے؟" علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول، گویا آپ نے ان کے پناہ اور لڑنے والے قول کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں۔" کنانہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور شکر کے اشعار کہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر وہ شاعر اچھا کہنے والا ہو تو تم نے اچھا کہا۔"