Al-Adab Al-Mufrad #127
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: سَمِعْتُ، يَعْنِي أَبَا عَامِرٍ الْحِمْصِيَّ، قَالَ: كَانَ ثَوْبَانُ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلَيْنِ يَتَصَارَمَانِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَيَهْلِكُ أَحَدُهُمَا، فَمَاتَا وَهُمَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الْمُصَارَمَةِ، إِلَّا هَلَكَا جَمِيعًا، وَمَا مِنْ جَارٍ يَظْلِمُ جَارَهُ وَيَقْهَرُهُ، حَتَّى يَحْمِلَهُ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَخْرُجَ مِنْ مَنْزِلِهِ، إِلَّا هَلَكَ
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے کہ جو دو اشخاص تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرتے ہیں، پھر ان دونوں میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے (یا پھر اس صورت میں کہ)دونوں مر جائیں اور وہ ابھی تک ایک دوسرے سے قطع تعلقی اختیار کیے ہوں تو وہ دونوں تباہ ہوگئے، یعنی عذاب اور جہنم کے مستحق ٹھہرے۔ اور کوئی شخص جو اپنے پڑوسی پر ظلم و زیادتی کرتا ہے یہاں تک وہ اس ظلم و زیادتی سے تنگ آکر گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو وہ شخص بھی یقیناً تباہ ہوگیا۔