Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 6 · Chapter 68

Neighbours

بَابُ شِكَايَةِ الْجَارِ

ہمسائے کی شکایت کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

124

Al-Adab Al-Mufrad #124

Hasan

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارًا يُؤْذِينِي، فَقَالَ: ((انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَتَاعَكَ إِلَى الطَّرِيقِ)) ، فَانْطَلَقَ فَأَخْرِجَ مَتَاعَهُ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: لِي جَارٌ يُؤْذِينِي، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَتَاعَكَ إِلَى الطَّرِيقِ)) ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، اللَّهُمَّ أَخْزِهِ. فَبَلَغَهُ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى مَنْزِلِكَ، فَوَاللَّهِ لَا أُؤْذِيكَ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا:اللہ کے رسول! میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے ایذا دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا:’’جاؤ، اپنا سامان (گھر سے)نکال کر راستے پر رکھ دو۔‘‘ وہ گیا اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دیا۔ لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھا:تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا:میرا پڑوسی مجھے تکلیف دیتا ہے۔ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ’’جاؤ اور اپنا سامان (گھر سے)نکال کر راستے پر رکھ دو۔‘‘ (لوگوں نے یہ سنا)تو کہنے لگے:اللہ اس پر لعنت کرے، اللہ اسے رسوا کرے۔ یہ بات جب ہمسائے تک پہنچی تو وہ اس کے پاس آیا اور کہا:اپنے گھر میں لوٹ آؤ، اللہ کی قسم میں تمہیں کبھی تکلیف نہیں دو گا۔

125

Al-Adab Al-Mufrad #125

Hasan

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارَهُ، فَقَالَ: ((احْمِلْ مَتَاعَكَ فَضَعْهُ عَلَى الطَّرِيقِ، فَمَنْ مَرَّ بِهِ يَلْعَنُهُ)) ، فَجَعَلَ كُلُّ مَنْ مَرَّ بِهِ يَلْعَنُهُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ فَوْقَ لَعْنَتِهِمْ)) ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي شَكَا: ((كُفِيتَ)) أَوْ نَحْوَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:’’اپنا سامان اٹھاؤ اور راستے پر رکھ دو۔ جو گزرے گا اسے لعن طعن کرے گا‘‘ (اس نے ایسے ہی کیا)تو جو بھی وہاں سے گزرتا اسے برا بھلا کہتا۔ وہ (تنگ کرنے والا)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا:یہ لوگ میرے ساتھ کیا برتاؤ کر رہے ہیں (کہ ہر شخص مجھ پر لعنت کر رہا ہے)آپ نے ارشاد فرمایا:’’ان کی لعنت کے ساتھ ساتھ اللہ کی لعنت بھی تجھ پر ہے۔‘‘ (اس نے دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا)پھر آپ نے شکایت کرنے والے سے فرمایا:’’(اب اپنا سامان اٹھالو)تیری خلاصی ہوگئی۔‘‘

126

Al-Adab Al-Mufrad #126

Zaeef

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُبَشِّرٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْدِيهِ عَلَى جَارِهِ، فَبَيْنَا هُوَ قَاعِدٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ إِذْ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآهُ الرَّجُلُ وَهُوَ مُقَاوِمٌ رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ عِنْدَ الْمَقَامِ حَيْثُ يُصَلُّونَ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتُ مَعَكَ مُقَاوِمَكَ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ؟ قَالَ: ((أَقَدْ رَأَيْتَهُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: رَأَيْتَ خَيْرًا كَثِيرًا، ذَاكَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ رَبِّي، مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ جَاعِلٌ لَهُ مِيرَاثًا "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پڑوسی کی زیادتیوں کی شکایت کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ وہ رکن اور مقام کے درمیان بیٹھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اس شخص نے دیکھا کہ آپ ایک سفید پوش شخص کے سامنے مقام کے پاس کھڑے ہیں جہاں پر (اس زمانے میں)نماز جنازہ ادا کی جاتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو اس شخص نے کہا:اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ کے سامنے وہ سفید پوش شخص کون تھا جسے میں نے کھڑے دیکھا؟ آپ نے فرمایا:’’کیا تونے اسے دیکھا ہے؟‘‘ اس نے کہا:ہاں! آپ نے فرمایا:’’تم نے بہت خیر دیکھی۔ وہ میرے رب کے فرستادہ جبرائیل صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے خدشہ پیدا ہوا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔‘‘