Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 41 · Chapter 434

Gestures

بَابُ إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلُ فَخِذَ أَخِيهِ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ سُوءًا

اپنے بھائی کی ران پر ہاتھ مارنا جبکہ مقصد اذیت دینا نہ ہو

3 hadiths in this chapter

961

Al-Adab Al-Mufrad #961

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ قَالَ: مَرَّ بِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ ابْنَ زِيَادٍ قَدْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ، فَمَا تَأْمُرُ؟ فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً - أَحْسَبُهُ قَالَ: حَتَّى أَثَّرَ فِيهَا - ثُمَّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ: قَدْ صَلَّيْتُ، فَلَا أُصَلِّي

اردو ترجمہ · Urdu

ابو العالیہ براء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے پاس سے عبداللہ بن صامت گزرے تو میں نے ان کے لیے کرسی بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئے۔ میں نے ان سے پوچھا:ابن زیاد نماز کو بہت لیٹ کر دیتا ہے، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے زور سے میری ران پر ہاتھ مارا حتی کہ اس میں نشان پڑ گیا۔ پھر فرمایا:میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہی پوچھا تھا جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا ہے۔ اور انہوں نے فرمایا:نماز کو بروقت ادا کرلو، پھر اگر ان کے ساتھ نماز پالو تو بھی پڑھ لو اور یوں نہ کہو:میں تو نماز پڑھ چکا ہوں، لہٰذا نماز نہیں پڑھوں گا۔

962

Al-Adab Al-Mufrad #962

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: ((أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: فَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَصَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ)) ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: ((مَاذَا تَرَى؟)) فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ)) ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا)) ، قَالَ: هُوَ الدُّخُّ، قَالَ: ((اخْسَأْ فَلَمْ تَعْدُ قَدْرَكَ)) ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ يَكُ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ)) قَالَ سَالِمٌ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَوْمًا إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَسْمَعُ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافُ - وَهُوَ اسْمُهُ - هَذَا مُحَمَّدٌ، فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ)) قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ "

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کے ایک گروہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے یہاں تک کہ اسے اس حالت میں پایا کہ وہ بنو مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھا۔ اسے اس وقت پتا چلا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر تھپکی دی، پھر فرمایا:’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ اس نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا:میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے رسول ہیں۔ پھر بولا:اور کہا آپ بھی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مضبوطی سے دبایا، پھر فرمایا:’’میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔‘‘ پھر ابن صیاد سے فرمایا:’’تو کیا دیکھتا ہے؟‘‘ ابن صیاد نے کہا:میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تجھ پر معاملہ خلط ملط کر دیا گیا ہے۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:’’میں نے تیرے لیے دل میں ایک چیز چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)اس نے کہا:دخ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دور ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھا۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے اس کی گردن اڑانے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر یہ وہ، یعنی دجال ہے تو تم اس پر قابو نہیں پاسکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں تمہارے لیے خیر کا کوئی پہلو نہیں۔‘‘ سالم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا:’’اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک دن اس باغ کی طرف گئے جس میں ابن صیاد تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں داخل ہوئے تو آپ کھجور کے تنوں کی اوٹ لے کر ابن صیاد سے اس کے دیکھنے سے پہلے کچھ سننا چاہتے تھے (کہ وہ کیا گنگنا رہا ہے)ابن صیاد اپنے بستر پر چادر لپیٹے لیٹا ہوا تھا اور بڑ بڑ کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں کی اوٹ میں چھپ کر قریب آرہے تھے کہ ابن صیاد کی ماں نے آپ کو دیکھ لیا اور ابن صیاد سے کہا:اوئے صاف! (یہ اس کا نام تھا)یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں۔ تو ابن صیاد خاموش ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر وہ اس کو اس کے حال پر رہنے دیتی تو معاملہ بالکل واضح ہو جاتا۔‘‘ سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے شایان شان اس کی تعریف فرمائی، پھر دجال کا ذکر کرکے فرمایا:’’میں تمہیں اس سے خبردار کرتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے۔ حتی کہ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔ لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی:تمہیں جان لینا چاہیے کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ یک چشم نہیں ہے۔‘‘

963

Al-Adab Al-Mufrad #963

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا، يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ: أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، إِنَّ شَعْرِي أَكْثَرُ مِنْ ذَاكَ، قَالَ: وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الْحَسَنِ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے تو پانی کی تین لپیں اپنے سر پر ڈال لیتے۔ حسن بن محمد ابن حنفیہ نے کہا:ابو عبداللہ! میرے بال اس سے بہت زیادہ ہیں (کہ تین لپ کفایت کریں)۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ حسن رحمہ اللہ کی ران پر مار کر فرمایا:میرے بھتیجے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیرے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ تھے۔